کیا افغان حکومت ٹی ٹی پی کا مسئلہ ایک دن میں ختم کر سکتی ہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا ھے کہ پاکستان کی یہ تشویش بالکل بجا ہے کہ طالبان کے زیراستعمال افغان سرزمین اسکے خلاف استعمال ہورہی ہے لیکن وہ جس طرح افغان طالبان سے ایک ہی دن میں ٹی ٹی پی کے مسئلے کو حل کرانے کا مطالبہ کررہا ہے، مناسب نہیں اور اسے اماراتِ اسلامی کی اندرونی اور نظریاتی مجبوریوں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اپنے ایک کالم میں سلیم صافی لکھتے ہیں کہ فلسطین کا زخم بہت گہرا اور مسئلہ نہائت سنگین ہے لیکن ظاہر ہے اس میں ہم یا ہماری حکومت ایک حد سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتی۔ البتہ افغانستان کا معاملہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے اس ضمن میں حکومت پاکستان اور امارات اسلامی افغانستان دونوں کا ایک دوسرے سے متعلق رویہ مناسب نہیں۔ پاکستان صرف افغان طالبان پر احسانات کو مدنظر رکھ کر مطالبات کررہا ہے اور یہ تاثر دے رہا ہے کہ امارات اسلامی کے ذمہ داران احسان فراموشی کررہے ہیں جبکہ افغان طالبان اس وقت پاکستان کے احسانات کی بجائے ’وار آن ٹیرر ‘میں اس کے امریکہ کا ساتھ دینے اور پچھلے برسوں میں بعض افغان طالبان رہنمائوں کے پاکستان میں قتل کو سامنے لاکر ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان نے ان کی خاطر کچھ نہیں کیا۔ ماضی قریب میں پاکستان نے افغان طالبان کے ہاتھ میں ایک عذر بھی دے دیا ہے۔ ہماری موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت یقیناً اس عمل کی مخالف تھی یا اس میں شریک نہیں تھی لیکن طالبان تو پاکستان کو جنرل باجوہ اور جنرل حافظ عاصم منیر یا پھر عمران خان اور شہباز شریف کے تناظر میں نہیں دیکھتے ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ریاست پاکستان کی طرف سے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید یا پھر عمران خان کے کہنے پرہم نے ٹی ٹی پی کو پاکستانی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے بٹھایا لیکن معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر پاکستان نے یک طرفہ طور پر وہ سلسلہ ختم کیا۔ اس طرح ہمارے ماضی کے انصار اور محسن یعنی ٹی ٹی پی کے سامنے ہماری اخلاقی پوزیشن کمزور ہوگئی
سلیم صافی کے مطابق امارات اسلامی کی طرف سے یہ غلطی ہورہی ہے کہ وہ صرف افغانستان میں رہنے والے افغانوں کے مسائل کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں حالانکہ اگر امارات اسلامی کے کسی قدم کے رد عمل میں مہاجرین کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو روز قیامت اس کا بھی امارات اسلامی کے ذمہ داران سے پوچھا جائے گا ۔ ریاست پاکستان کی یہ خواہش اور کوشش بالکل حق بجانب ہے کہ یہاں پر مقیم غیرملکی خواہ وہ افغانستان کے ہوں، ایران کے یا کسی اور کے ان کو قانونی تقاضے پورا کرنے پر مجبور کرے یا انکی اپنے ممالک واپسی کی راہ ہموار کرے لیکن امارات اسلامی سے ناراضی کی سزا مہاجرین کو دینا مناسب نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں کے ویزے ایکسپائر ہوگئے ہیں یا جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں، وہ زیادہ تر وہ افغان ہیں جو طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد یہاں آئے ہیں ۔ ان لوگوں کی نہ امارات اسلامی سے ہمدردی ہے اور نہ شاید ان کی واپسی سےامارات اسلامی پریشان ہوگی۔ جو طالبان کے وابستگان تھے یا پھر سابق مجاہدین تھے ، ان کی اکثریت کے پاس پاکستان کی قانونی اور کمپیوٹرائزڈ دستاویزات موجود ہیں۔ یوں کارروائی کی زد میں پہلے نمبر پر یا تو وہ افغان آئیں گے جو بالکل بے آسرا ہیں یا پھر وہ آئیں گےجو طالبان کے اقتدار کے بعد یہاں آئے ہیں ۔ ریاست پاکستان اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ جو لوگ طالبان کے قبضے کے بعد یہاں آئے ہیں، ان کو رجسٹریشن اور طویل المیعاد ویزے جاری کرنے کی سہولت دے۔ اسی طرح یواے ای کی حکومت کی طرز پر امیرافغانوں کیلئے دس سال کے گولڈن ویزے جاری کرنے ، بینک اکائونٹ کھولنے، پراپرٹی خریدنے اور کاروبار کرنے کی اجازت دے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی بار بار پولیس کو یہ ہدایت کررہے ہیں کہ وہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افغانوں کو تنگ نہ کرے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومتی اعلان کے بعد پولیس بہت ساری جگہوں پر قانونی دستاویزات رکھنے والے مہاجرین کو بھی تنگ کررہی ہے ۔ سندھ سے سب سے زیادہ شکایات موصول ہورہی ہیں اور ایسے کیسز بھی ہوئے ہیں کہ جب مہاجر قانونی دستاویزات دکھاتا ہے تو پولیس والا اسے گرفتار کرکے دستاویزات پھاڑ دیتا ہے۔ مغربی طاقتیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دونوں ملکوں کو ورغلا کر لڑانا چاہتی ہیں۔ اس لئے پاکستان اور امارات اسلامی کو یہ پہلو بھی مدنظر رکھ کر تحمل سے کام لینا چاہئے اور ایک دوسرے کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ان مجبوریوں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
