کیا افغان طالبان TTPکو شٹ اپ کال دینگے؟

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے سخت بیان کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی افغان طالبان پر الزام لگایا کہ وہ پڑوسی ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تاہم یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا۔
ناقدین کا خیال ہے کہ آرمی چیف کا بیان اور خواجہ اصف کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور وہ افغان طالبان سے تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے خلاف سخت ایکشن چاہتا ہے۔ لیکن مبصرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا کابل ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن بھی لے گا یا نہیں، کیونکہ ٹی ٹی پی بھی اپنا نظریاتی امیر افغان طالبان کے سربراہ کو ہی قرار دیتی ہے۔
آرمی چیف اور خواجہ اصف کے بیانات سے کئی حلقوں میں یہ تاثر ابھرا ہے کہ پاکستان ممکنہ طور پر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کر سکتا ہے۔ دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر حارث نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان کو حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے کہ یہ معاملات مذاکرات سے حل ہوں۔ انہوں نے بتایا، ”بھارت کی کوشش ہے کہ کسی طرح افغان طالبان اور پاکستان کے تعلقات خراب ہوں لیکن ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی طرح کا ملٹری ایکشن صرف آخری آپشن کے طور پہ استعمال ہونا چاہیے۔‘‘
حارث نواز کے مطابق افغان طالبان کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ پاکستان انہیں کئی اشیاء بھیج رہا ہے اور بین الاقوامی طور پر ان کے سیاسی امیج کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ”لیکن اس کے باوجود نظریاتی وجوہات کی بنا پر افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے، کیونکہ دونوں نے مل کر امریکہ کے خلاف جنگ لڑی۔ تاہم پاکستان میں حکومتی حلقوں کو ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن نہ لینے پر سخت تشویش ہے۔ اس تشویش میں حالیہ حملوں کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا افغان طالبان کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہیے۔‘‘
ایک افغان صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ”افغان طالبان کبھی بھی ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن نہیں لیں گے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیا تو وہ داعش کے ساتھ مل سکتی ہے جس کی وجہ سے افغان طالبان کے لیے پریشانیاں مزید بڑھ جائیں گی۔‘ افغان صحافی کا مزید کہنا تھا کہ افغان طالبان کے درمیان اندرونی طور پر بہت سارے مسائل چل رہے ہیں جبکہ ملک کے معاشی حالات بھی بہت برے ہیں: ”ایسے میں افغان طالبان کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ایک لڑائی کا نیا محاذ کھولیں اور ٹی ٹی پی کے خلاف ہتھیار اٹھائیں جنہوں نے امریکی حملے کے بعد طالبان کی مدد کی تھی۔‘‘ افغان صحافی کا دعویٰ تھا کہ اگر پاکستان نے افغانستان کی سرزمین پر ٹی ٹی پی کو ٹارگٹ کیا تو وہ افغان طالبان کی ممکنہ طور پر سپورٹ کھو سکتا ہے: ”یہ تاثر غلط ہے کہ جن کے ہاتھ میں ہتھیار ہوتے ہیں وہ کسی ایک فرد یا ادارے کے وفادار ہوتے ہیں۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا، تو افغان طالبان پاکستان کی آئی ایس آئی پرانحصار کرتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی لڑائی نہیں روکی اب اگر پاکستان افغان طالبان پر مزید دباؤ ڈالے گا تو وہ ایران، روس چین یا کسی اور ملک سے شراکت داری کر سکتے ہیں، جس کا پاکستان کو نقصان ہوگا۔‘‘
اسلام اباد سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر بکارے نجم الدین بھی افغان صحافی کے اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان کے اندر ٹی ٹی کے خلاف ملٹری اسٹرائکس کیں، تو یہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ بکارے نجم الدین نے بتایا، ”طالبان کی قیادت دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ اندرونی طور پہ بالکل خود مختار ہے۔ اگر ٹی ٹی پی کو رکھنا افغان طالبان کے قومی مفادات اور ان کی خارجہ پالیسی کے لیے فائدہ مند ہوگا، تو وہ ان کو رکھیں گے اور پاکستان کے دباؤ پر وہ کسی طرح کا ایکشن ان کے خلاف نہیں لیں گے۔‘‘
ڈاکٹر بکارے نجم الدین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان میں کوئی فوجی کارروائی کی تو اس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، ”ایسی صورت میں افغان طالبان اور پاکستانی طالبان دونوں مل کر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور پاکستان میں عسکریت پسندی کا معاملہ بھی بہت سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔‘‘
