کیا الزامات کے بعد بھی جج مریم نواز کا کیس سنے گا؟


سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا محمد شمیم نےاسلام آباد ہائی کورٹ کے جس جج پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے نواز شریف کے خلاف ہدایات لینے کا الزام عائد کیا ہے وہ اُس بنچ کے سربراہ ہیں جو مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کر رہا ہے، لہذا اب اخلاقی طور پر انکا اس بنچ میں پیٹھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ اگر متنازعہ جج اس بنچ سے علیحدہ نہیں ہوتے تو خدشہ ہے کہ مریم نواز کی اپیل مسترد کیے جانے کی صورت میں یہ فیصلہ متنازعہ ہو جائے گا اور جسٹس رانا شمیم کے الزام کو مزید تقویت ملے گی۔
سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ‏ثاقب نثار اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ جج جسٹس عامر فاروق کا انتہائی قریبی تعلق ہے اور وکلاء کمیونٹی میں یہ عمومی تاثر ہے کہ یہ دونوں ججز رشتے دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس عامر فاروق کو ہائی کورٹ کا جج بنوانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اعزاز سید نے کہا کہ دونوں ججز ماضی میں ایک ساتھ وکالت کرتے رہے ہیں جس سے ان دونوں کا آپس میں تعلق ثابت ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے بیانِ حلفی کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر ‘تحقیقات ہوئیں تو عدلیہ پر لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق ہو جائے گی۔
ناقدین کی جانب سے یہ اعتراض بھی کیا جا رہا ہے کہ رانا شمیم کی جانب سے دئیے جانے والے بیان حلفی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کو اور یہ خبر چلانے والے میڈیا کے لوگوں کو تو طلب کر لیا لیکن جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عامر کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ دوسری جانب جسٹس عامر فاروق کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا شمیم نے جس روز ثاقب نثار پر بذریعہ فون نواز شریف کے خلاف ہدایات دینے کا الزام لگایا ہے اس روز وہ بیرون ملک تھے اور ویسے بھی تب وہ شریف فیملی کا کے خلاف کوئی کیس نہیں سن رہے تھے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ رانا شمیم کے بیٹے نے جیو ٹی وی پر آکر اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ ان کے والد نواز لیگ کے عہدیدار اور نواز شریف کے وکیل رہ چکے ہیں اور یہ کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے میاں صاحب کے ساتھ رابطے میں تھے لہذا ان کے دعوے کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ تاہم یہ تو حقیقت ہے کہ جسٹس عامر فاروق مریم نواز کی سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بنچ کا حصہ ہیں اور یہ الزام لگنے کے بعد متنازع ہوچکے ہیں، لہذا ناقدین کی جانب سے یہ مطالبہ جائز لگتا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے بنچ سے علیحدہ ہو جائیں۔
واضح رہے کہ رانا شمیم نے 10 نومبر کو لندن کے اوتھ کمشنر کے روبرو ایک حلف نامے پر دستخط کیے تھے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کی ضمانت رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پر اثر انداز ہوئے تھے۔ تاہم ثاقب نثار نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب رانا شمیم اپنے موقف پر قائم ہیں اور انہوں نے اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ رانا شمیم کا بیان حلفی آنے سے پہلے ایک ایسی ویڈیو بھی مارکیٹ ہو چکی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے مرحوم جج جسٹس ارشد ملک نے اسٹیبلشمینٹ کے دباو پر انکے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ اپنی گفتگو کی خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیو میں ارشد ملک مسلم لیگ (ن) کے رہنما ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ کس طرح انکی ایک غیر اخلاقی ویڈیو دکھا کر انہیں بھائی لوگوں نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے پر مجبور کیا۔ یہ ویڈیو مریم نواز ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ عوام میں لے آئی تھیں جس سے اسٹیبلشمینٹ دم بخود رہ گئی تھی۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جج ارشد ملک نے ناصر بٹ کے ذریعہ نواز شریف سے ملاقات کر کے شرمندگی کا اظہار کی اس تھا اور مقدمہ کے دوران ہونے والے تمام واقعات سے انہیں آگاہ کیا تھا۔ سنا ہے کہ اس ملاقات میں بھی کی گئی گفتگو کو ایک ویڈیو میں محفوظ کیا گیا تھا اور اسی ویڈیو کے بارے میں اب سنا جا رہا ہے کہ وہ جلد ریلیز ہونے والی ہے۔ دوسری طرف اسلام اباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی بھی پنڈی بار کے سامنے حلفاً بیان دیتے ہوئے بتایا چکے ہیں کہ جنرل فیض حمید نے نواز شریف اور مریم کے خلاف چلنے والے کیسوں میں مرضی کے فیصلے لینے کے لئے ان سے ملاقات کی اور ان پر دباؤ ڈالا۔ لیکن جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انہیں سپریم کورٹ کے تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ذریعے مس کنڈکٹ کے الزام پر برطرف کردیا گیا۔ تاہم پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر یہ کھیل کھیلنے والے جنرل فیض حمید کے خلاف کوئی کاروائی کیا ہونی تھی، انہیں اب مزید ترقی دیتے ہوئےکور کمانڈر پشاور بنا دیا گیا ہے۔

Back to top button