کیا امریکی ڈالر کی کمر واقعی اسحاق ڈار نے توڑی ہے؟


سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ملک واپسی اور امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی سے ہونے والی کمی کا کریڈٹ نئے وزیر خزانہ کو دیتے ہوئے حکومتی حلقوں کی جانب سے معاشی اشاریوں میں بہتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں دو روز میں 8 روپے کی بڑی کمی کے پس پردہ کوئی معاشی محرکات نہیں بلکہ اسحاق ڈار کی لندن سے پاکستان واپسی ہے جنہیں مفتاح اسماعیل کی جگہ وزارت خزانہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں دو روز میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انٹربینک میں ایک ڈالر کی قیمت دو روز میں 8 روپے کے لگ بھگ گر چکی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 11 روپے کی کمی دیکھی گئی ہے۔

28 ستمبر کو وزیر خزانہ کا حلف اٹھانے والے اسحاق ڈار کی پانچ سال بعد واپسی کے بعد سے ڈالر کی قیمت 232 روپے پر آگئی ہے۔ تاہم معاشی تجزیہ کار اسکی وجہ پاکستان کے کسی معاشی اشاریے میں بہتری کو قرار نہیں دیتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ڈار کی واپسی کی وجہ سے فی الحال تو ڈالر کی قیمت میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تاہم کسی بڑی معاشی پیش رفت کے بغیر اس کمی کے رجحان کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

کرنسی مارکیٹ سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرنسی مارکیٹ اور سٹاک مارکیٹ ملک میں ہونے والی ہر پیش رفت پر ردعمل دیتی ہیں، اسحاق ڈار کیونکہ بطور وزیر خزانہ ڈالر کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ایک عمومی تاثر رکھتے ہیں اس لیے کرنسی مارکیٹ نے ان کی بطور وزیر خزانہ واپسی پر اپنا ردعمل دیا ہے اور لوگوں نے امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی کے خوف کے پیش نظر اسے بیچنا شروع کردیا ہے جس سے مارکیٹ میں ڈالر کی واپسی شروع ہو گئی ہے اور اس کی قیمت گرتی جا رہی ہے۔ مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق اگر صرف اس سال ہونے والی چند بڑی پیش رفتوں کو دیکھا جائے تو اس پر کرنسی مارکیٹ کا ردعمل بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ جب تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں نے حکومت بنائی تھی تو اس وقت بھی ڈالر کی قیمت میں نو روپے کی کمی واقع ہوئی تھی۔ اسی طرح جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے قرضہ پروگرام بحال کیا تو تب بھی ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اب مفتاح اسماعیل کی جگہ اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ بننے پر ڈالر کا گرنا بھی مارکیٹ سینٹیمنٹ کا حصہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کی بنیاد پر بھی ڈالر کی قیمت اوپر نیچے ہو رہی تھی کیونکہ لوگ اپنی بچت ڈالروں میں بدلتے ہیں اور جب کوئی ایسی پیش رفت ہوتی ہے کہ جس سے قیمت کم ہونے کا اندیشہ ہو تو اس پر فوراً ڈالرز کو فروخت بھی کر دیتے ہیں۔ اسحاق ڈار کے بارے میں عمومی تاثر ہے کہ وہ ڈالر کو کنٹرول کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں اس لیے ممکنہ طور پر لوگوں نے ڈالر فروخت کیے ہیں۔

کرنسی ڈیلر اور ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں موجودہ کمی کی بڑی وجہ ڈالر کی قیاس آرائیوں پر مبنی تجارت ہے۔اُنھوں نے کہا کہ کافی عرصے سے ڈالر کی تجارت کو بھی سٹاک مارکیٹ کی طرح چلایا جا رہا ہے اور انٹر بینک مارکیٹ میں اسی بنیاد پر ڈالر کی قیمت کو اوپر نیچے لے جایا جاتا ہے۔ ظفر پراچہ نے کہا کہ اسحاق ڈار کے بارے میں ایک عمومی تاثر پایا جا رہا ہے کہ وہ ڈالر کو نیچے لے آئیں گے اس لیے کرنسی مارکیٹ میں بھی اس بنیاد پر ڈالر کو قیاس آرائیوں کی بنیاد پر نیچے گرایا گیا ہے مگر ان کے نزدیک ایسا نہیں کہ اسحاق ڈار کی واپسی کے بعد ڈالر رکھنے والے افراد جلدی میں ڈالر فرو خت کر رہے ہیں۔

پراچہ کے مطابق جولائی کے مہینے میں یہ ہوا تھا کہ جب لوگوں نے ڈالر دھڑا دھڑ فروحت کیے تھے جس سے ڈالر کی قیمت کم ہوئی تھی تاہم ابھی ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔ظفر پراچہ نے کہا کہ جہاں تک درآمدی ادائیگیوں کی وجہ سے روپے پر آنے والے دباؤ کا معاملہ ہے تو اس وقت کوئی بڑا پریشر موجود نہیں ہے جس کا ایک مثبت اثر تو موجود ہے تاہم درآمدی ادائیگیوں کی نارمل طریقے سے ایل سی کُھل رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈالر کی طلب موجود ہے اور اتنی زیادہ کمی اس کی وجہ سے نہیں آ سکتی۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈالر اس وقت پاکستان میں بہت زیادہ اوور ویلیو اور مقامی کرنسی بہت زیادہ انڈر ویلیو ہے۔ ’اس عدم توازن کو کم تو ہونا تھا اور ڈار کی آمد کی وجہ سے یہ عدم توازن تھوڑا کم ہو ا ہے۔‘ اُنھوں نے کہا کہ اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی بھی کسی حد تک ڈالر کی قیمت پر اثر انداز ہوئی ہے۔

پاکستان میں آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بعد بیرونی فنانسنگ ابھی تک نہیں آ سکی جس کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں ہونے والے اضافے کی رفتار بھی کم ہو گئی ہے اور اسی طرح بیرونی سرمایہ کاری میں بھی اس سال کے پہلے دو مہینوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی اشاریوں میں بہتری نہ ہونے کے باوجود ڈالر کی قیمت میں کمی پر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی اشاریوں میں تو فی الحال کوئی بہتری نظر نہیں آئی تاہم اسحاق ڈار کی آمد سے کچھ حرکت پیدا ہوئی کہ وہ کچھ پالیسی بیان دیں گے اور بینکوں سے بات کریں گے، اسی طرح درآمدات کو کم کرنے کے بارے میں کچھ اقدامات اٹھائیں گے، ان تمام عوامل کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

Back to top button