کیا اپوزیشن کے ہاتھوں کپتان حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار کے ساتھ لگانے کے نتائج اب تیزی کے ساتھ سامنے آرہے ہیں اور حزب اختلاف کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے واقعی پورا زور لگا دیا تو پھر پانسہ فورا پلٹ جائے گا اور حکومت کا جانا ٹھہر جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار سینیئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ پالتو بلی کو تنگ کریں، اُسے گھیر کر کونے میں لے جائیں تو وہ بھی پنجے جھاڑ کر آپ۔پر حملہ آور ہو جاتی ہے، فاختہ جیسا امن پسند تو کوئی چرند پرند نہیں مگر کوئی چیل اُس اُس پر جھپٹ پڑے تو فاختہ بھی پھڑپھڑا کر چیل کے خلاف مزاحمت کرتی ہے تا کہ اسکے پنجوں سے نکل سکے۔ سہیل ورائچ کے مطابق ہر شریف شہری اور کی ایک حد ہوتی ہے، سرخ لکیر عبور کرکے اگر شیر بھی بھینسوں کے علاقے میں آ جائے تو وہ اکٹھی ہو کر اُسے بھگانے کی کوشش کرتی ہیں۔
لیکن سچ تو یہ ہے کہ کراچی واقعے میں سرخ لکیر عبور کی گئی، اِسی لیے آئی جی سندھ بولا، اِسی لیے بلاول بھٹو بولا اور اِسی لیے بالآخر آرمی چیف کو بھی بولنا پڑا۔ نواز شریف اقتدار سے نکلا۔ چپ رہا، الیکشن سے نااہل ہوا، چپ رہا، عدالتوں میں بار بار پیش ہوا، چپ رہا، سزائیں قبول کیں، چپ رہا، جیل گیا، چپ رہا، بیمار ہوا، چپ رہا، سیاست تو کرتا رہا مگر طاقتور اداروں کے خلاف زبان نہ کھولی۔ نجی محفلوں میں وہ ان کی چیرہ دستیوں اور زیادتیوں کی کہانی سناتا رہا مگر آن دی ریکارڈ اپنی زبان کو تالا لگائے رکھا مگر یہ حد ایک دن تو ٹوٹنا تھی، یہ خاموشی ایک نہ ایک دن تو ختم ہونا تھی، وہ لندن میں لمبے وقفے کے بعد جا ختم ہوئی اور پھر اُس کی انتہا گوجرانوالہ کے جلسے میں ہو گئی جب نواز شریف نے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو چارج شیٹ کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نام بھی لے لیا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اب آپ پاکستانی عوام کو دیکھ لیں، دو سال سے خاموش ہیں، مہنگائی، بیروزگاری، آٹے اور چینی کی قلت کے ساتھ گزارہ کر رہے ہیں، عوام کو ریلیف دینے یا مہنگائی کو روکنے کی کوئی اسکیم کارگر نہیں ہو پا رہی، 50لاکھ گھروں کا وعدہ ایفا کیا ہونا تھا ابھی شروع ہی نہیں ہو سکا۔ سوئٹزر لینڈ اور بیرونی دنیا میں پڑی پاکستان سے چرائی ہوئی دولت کو واپس لے کر آنا تھا، اس میں ذرہ برابر پیش رفت نہ ہو سکی، ملک میں لاکھوں روپے کی کرپشن روکنی تھی، اربوں کی منی لانڈرنگ روک کر عوام کو خوشحال کرنا تھا ابھی تک کچھ بھی نہیں ہو سکا، عوام خاموش ہیں مگر ایک نہ ایک دن تو بولیں گے اور جب وہ بولیں تو چھپر پھاڑ کر بولیں گے۔ واقعۂ کراچی کے پس منظر کو دیکھ لیں سندھ حکومت کے ساتھ کیا نہیں ہوا، کبھی جزائر وفاق کے قبضے میں، کبھی دھمکی کہ کراچی کو وفاق کا حصہ بنا لیا جائے گا، کبھی یہ دعویٰ کہ سندھ میں گورنر راج لگا دیا جائے گا، کبھی نیب کی طرف سے وزیراعلیٰ کی طلبی، کبھی رینجرز کے چھاپے، کبھی کرپشن کے الزامات اور کبھی نااہلی کے طعنے لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت معاملات کو کبھی انتہا تک نہ لے کر گئی بلکہ بار بار معاملات کو ٹالتی رہی۔ کئی بار سندھ حکومت کے اختیارات پر تجاوز کیا گیا، اُسے مرضی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی دینے میں نخرے کئے گئے، سندھ حکومت یہ سب کچھ سہتی رہی مگر کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری بالآخر وہ آخری تنکا ثابت ہوئی جس پر لمبی خاموشی کو توڑ کر آئی جی سندھ، چیف منسٹر سندھ اور بالآخر بلاول بھٹو کو ببانگِ دہل اپنے ردِعمل کا اظہار کرنا پڑا۔
سہیل وڑائچ اپنے تجزیہ میں کہتے ہیں کہ بلّی ہو یا فاختہ، شیر ہو یا بلی، سندھ ہو یا پنجاب، انسان ہو یا جانور، سیاستدان ہو یا سرکاری ملازم، کسی کو بھی اتنا تنگ کیا جائے کہ اس کا حوصلہ اور برداشت دم توڑ جائے تو پھر وہ بول پڑتا ہے، چیختا ،چلاتا ہے، احتجاج کرتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شکاری کیوں اپنی حدود میں نہیں رہتے، دنیا میں ہر کوئی شکاریوں کے بیانیے سے واقف ہے، اب کسی دن شکار ہونے والا جانور شکاریوں کی بےرحمی پر بول پڑے تو دنیا کی تمام کہانیاں اور اُن کے کردار بدل جائیں گے۔ اس لیے پاکستان کے طاقتوروں کو بھی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے گنجائش ضرور رکھنی چاہیے، پریشر ککر میں سے اگر ہوا نکل کر سیٹی نہ بجائے تو پریشر ککر پھٹ ہی جائے، اسی لیے تو پریشر ککر میں سوراخ رکھا جاتا ہے کہ جب ابال آئے تو ہوا سیٹی کی شکل میں سب کو خبردار کر دے، طاقتوروں کو پریشر ککر سے ہی سبق حاصل کر لینا چاہیے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق بلاول بھٹو اور نواز شریف جو اب بولے ہیں تو تنگ آمد بجنگ آمد بولے ہیں، پاکستان کی موجودہ حکومت نے وحشی ادوار کی طرح ملک فتح نہیں کیا جو مفتوح پارٹیوں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو پھانسیوں پر ہی چڑھا دے، نہ ہی یہ حکومت انقلابِ فرانس یا انقلابِ ایران کی طرح برسراقتدار آئی ہے کہ اپنے ہر مخالف کو ٹکٹکی پر چڑھا دے۔ پاکستان ایک مہذب جمہوری ملک ہے جس میں انتخابات کے ذریعے موجودہ حکومت کو اقتدار ملا، موجودہ حکومت کو اقتدار میں آنے کے لیے ووٹ ملے یا دلوائے گے، دوسری جانب اپوزیشن کو مجموعی طور پر حکومت سے بھی زیادہ ووٹ ملے، وہ الگ الگ جماعتوں میں تھے اس لیے حکومت نہ بنا سکے۔ گویا انتخابات نے کسی کو فاتح یا مفتوح قرار نہیں دیا، اگر وحشی ادوار کی طرح فاتح مفتوح والا رویہّ اختیار کیا جائے گا تو جمہوری نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا، جس کا سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت ہی کو ہو گا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میری عاجزانہ رائے میں ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کا راستہ نکالا جائے، ابھی تو صرف بلاول اور نواز شریف بولے ہیں، جب عوام بھی بول اُٹھے تو پھر احتجاجی تحریک کو روکنا اور کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اپوزیشن کا پوٹینشل یا صلاحیت جو کچھ اب تک ہوا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے، اگر واقعی اپوزیشن نے اپنا پورا زور احتجاجی تحریک میں لگا دیا تو پانسہ فوراً پلٹ جائے گا مگر اس طرح سے حکومت کا جانا ملک اور جمہوری نظام کے لیے ہر گز مفید نہیں ہوگا۔ اگر اپوزیشن اپنا احتجاج جاری رکھتی ہے اور جواباً حکومت ردِعمل کا اظہار کرتی ہے تو پھر ہم لازماً تصادم کی طرف جائیں گے کیوں کہ حکومت غصے میں یے اور ایسی حالت میں غلطی پر غلطی سرزد ہوتی ہے اور بالآخر معاملہ کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ ابھی معاملہ بولنے تک آیا ہے، اُسے کچھ کرنے تک نہ جانے دیں، بولنے والوں کو انصاف دے دیں تو حالات ٹھیک ہونے کی توقع ہے ورنہ حالات خراب سے خراب تر ہوتے جائیں گے۔
