کیا باب وولمر مرنے سے پہلے اسلام قبول کر چکے تھے؟

قومی ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ باب وولمر مرنے سے پہلے اسلام قبول کر چکے تھے اور کلمہ پڑھ چکے تھے۔ پچھلے 15 برسوں سے تبلیغی جماعت کے لیے کام کرنے والے سابق پاکستانی کپتان انضمام کا ایک ٹی وی پروگرام میں کہنا تھا کہ مرنے سے چار دن پہلے باب وولمر نے کلمہ پڑھ لیا تھا اور وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر مشتاق احمد کے سامنے کلمہ دہراتے بھی رہے تاکہ اسے یاد کر سکیں۔ انضمام نے کہا کہ اسکے علاوہ بھی باب ان سے اسلام کی معلومات لیتے رہتے تھے لہذا اب علما بتائیں کہ باب وولمر مسلمان ہو چکے تھے یا نہیں؟
خیال رہے کہ انضمام الحق کی کپتانی کے دوران تقریبا آدھی پاکستانی کرکٹ ٹیم تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو کر باریش ہو چکی تھی اور محمد یوسف سمیت کئی غیر مسلم کرکٹرز نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔باب وولمر کے بارے گفتگو کرتے ہوئے انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ’باب جب کوچ بنے تو میں کپتان تھا اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کپتان اور کوچ کا کتنا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ہم دونوں کے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے۔ باب میں ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے کام سے بہت مخلص تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ورلڈ کپ کی شکست کے بعد مجھے جو شخص کھلاڑیوں کو حوصلہ دیتا پیش پیش دکھائی دیا وہ باب تھے۔ میں ان کی وہ بات بھی نہیں بھول سکتا جو انہوں نے لفٹ میں جاتے ہوئے مجھ سے کہی تھی کہ میرا مستقبل کا کیا پروگرام ہے۔ میں نے باب سے کہا کہ اسوقت تو میری حالت ایسی نہیں کہ اس پر بات کروں صبح ملیں گے تو اس پر بات کرینگے۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ صبح ہی نہیں آئے گی۔‘
یاد رہے کہ باب وولمر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مقبول ترین کوچ تھے جو 2007 کے ورلڈ کپ کے دوران 18 مارچ کو اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پایا گے تھے۔ جب باب وولمر کے کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو وہاں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں جان ڈالنے کے لیے ہر وقت تیار کوچ کا بے جان جسم موجود تھا۔ پولیس نے ان کی موت کو قتل قرار دیا تھا، بعدازاں مزید تفتیش کے بعد 12 جون 2007ء کو جمیکن پولیس حکام نے تصدیق کر دی کہ ان کی موت طبعی وجوہات کی وجہ سے ہوئی تھی۔ تین غیر جانبدار پتھالوجسٹس کی رپورٹس اور ٹاکسالوجی ٹیسٹ سے یہ واضح ہوا کہ وولمر طبعی موت کا شکار ہوئے اور ان کے جسم میں کسی قسم کا زہر موجود نہیں تھا۔ یوں کئی مہینوں تک ان متنازع موت کا مسئلہ حل ہوا۔
واضح رہے کہ باب وولمر کو 2005 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن 2007ء کے ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں ہی پاکستانی ٹیم کی پہلے ویسٹ انڈیز اور پھر آئرلینڈ جیسی نوآموز ٹیم کے ہاتھوں شکست کے بعد ان کے مستعفی ہونے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ دنیا چھوڑ گے۔ باب وولمر نے 10 ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کی جن میں سے پاکستان نے 4 جیتیں، 3 ہاریں اور 3 کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 28 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کے کوچ کے فرائض انجام دیے جن میں 10 ٹیسٹ پاکستان نے جیتے، 11 ہارے اور 7 برابری پر ختم ہوئے۔ بطور کوچ، باب وولمر نے 69 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جن میں سے پاکستان نے 37 جیتے، 29 ہارے جبکہ 3 میچوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ لیکن باب کے کوچ بننے کے بعد پاکستانی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں دوسرے نمبر تک پہنچی جبکہ ون ڈے رینکنگ میں تیسری پوزیشن پر پہنچی تھی۔ اس غیرمعمولی کارکردگی میں ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کوچ کا کردار بھی اہم تھا۔
