کیا بجٹ کے بعد ترین کی گرفتاری کا پلان تیار ہے؟

کپتان حکومت نے جہانگیر ترین گروپ کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر کی انکوائری رپورٹ میں ترین کے بے قصور قرار دیئے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا ہے اور اب یہ اطلاعات ہیں کہ جون میں بجٹ کی منظوری کے بعد ترین کی گرفتاری کا پلان تیار کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ موقف اپنایا ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف ہونے والی کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد بیرسٹر علی ظفر نے وزیراعظم عمران خان کو تاحال کوئی ایسی رپورٹ جمع نہیں کروائی جس میں ترین کو بے قصور قرار دیا گیا ہو، لہذا ترین گروپ کی جانب سے یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ علی ظفر کی انکوائری کے دوران ترین معصوم اور بے قصور ثابت ہوئے ہیں۔ خیال رہے گی جہانگیر ترین کے حامی اراکین اسمبلی مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومتی سینیٹر اور ماہر قانون علی ظفر نے جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی سے متعلق اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو جمع کروا دی ہے جس میں علی ظفر نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ترین کو محض سیاسی بنیاد پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ترین گروپ کے اراکین نے علی ظفر کی انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ چونکہ رپورٹ وزیراعظم عمران خان کے پیاروں کی مرضی کے مطابق نہیں اس لئے خدشہ ہے کہ یا تو اس رپورٹ کو پبلک ہی نہیں کیا جائے گا یا پھر اس کے مندرجات میں تبدیلی کرکے اسے منظر عام پر لایا جائے گا جس سے یہ ظاہر ہو گا کہ ترین واقعی قصور وار ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب امور بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر کے لاہور میں ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کے حالیہ دورے کے حوالے سے اس قسم کی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ 12 جون کو نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور ہونے کے بعد ترین کو گرفتار کرنے کے لیے ایف آئی اے کو تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ترین گروپ کے خیال میں حکومتی پلان یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے علی ظفر رپورٹ روک کر ترین اینڈ کمپنی کو دباؤ میں رکھا جائے تاکہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں ان کے ووٹوں کے ذریعے بجٹ پاس کروانے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ تاہم جونہی بجٹ منظور ہو جائیں گے، ترین کو اندر کر دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ جب سے حکمراں جماعت کے 30 سے زائد اراکین اسمبلی نے جہانگیر ترین کی حمایت شروع کی ہے، چینی اسکینڈل میں ایف آئی اے کی تفتیش بظاہر سست پڑ چکی ہے۔ اس سے قبل ایف آئی اے نے چینی کی قیمتوں میں ہیراپھیری کرنے والے 40 سٹہ ایجنٹس کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں متعدد ملز مالکان، 2 میڈیا گروپس، وفاقی وزیر خسرو بختیار اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزاہ شہباز بھی شامل ہیں۔
حال ہی میں ترین گروپ کے ایک ترجمان اور رکن قومی اسمبلی راجا ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کے حکم پر شوگر سکینڈل کیس کا دوبارہ جائزہ لینے والے بیرسٹر علی ظفر نے جہانگیر ترین کو سٹے، چینی کی قیمتوں میں اضافے اور چینی سے متعلق دیگر قانونی معاملات سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ انکا دعوی تھا کہ علی ظفر تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ترین کےساتھ سرکاری ایجنسیاں نا انصافی کر رہی ہیں۔ تاہم اس نتیجہ سے وزیر اعظم کیمپ نے اتفاق نہیں کیا اور رپورٹ باقاعدہ طور پر جمع کروائے جانے سے پہلے ہی متنازعہ ہو گئی۔
بتایا جا رہا ہے کہ علی ظفر کی تیار کردہ رپورٹ کے بارے میں ترین گروپ کو پہلے سے معلوم تھا اس لیے پچھلے دنوں اسکی جانب سے بار بار یہ مطالبہ کیا گیا کہ علی ظفر کے رپورٹ پبلک کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی ظفر کی جانب سے جہانگیر ترین کو ‘کلین چٹ دیے جانے کے دعوے کے ایک روز بعد وزیراعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر مرزا لاہور پہنچے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو چینی اسکینڈل میں جہانگیر ترین کے خلاف مزید شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایت کی۔ ترین گروپ کے اس دعوے کے برعکس کہ وزیراعظم نے شہزاد اکبر کو چینی اسکینڈل کیس سے الگ کردیا ہے، شہزاد اکبر نے انکوائری آفیسر ڈاکٹر رضوان سے چینی اسکینڈل کے حوالے سے بریفنگ لی۔ شہزاد اکبر کا دورہ اس لیے بھی اہم تھا کہ ایف آئی اے کو جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف مکمل تفتیشی رپورٹ 31 مئی کو جمع کروانی ہے۔ واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت میں ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ 31 مئی تک مکمل تفتیشی رپورٹ جمع کروانے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایف آئی اے کی چینی اسکینڈل سے متعلق تحقیقات میں بیرسٹر علی ظفر کے تجزیے کے حوالے سے مشیر احتساب پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف مقدمات میں ایف آئی اے کی تحقیقات پر بیرسٹر علی ظفر کے جائزے کے کوئی اثرات نہیں ہوں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر نے تحقیقاتی ادارے کو بتایا کہ ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کو مضبوط کیس کی ضرورت ہے کمزور شواہد کا مطلب ہے کہ دونوں بچ نکلیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اس رپورٹ کی حتمی تیاری سے سے پہلے سینیٹر علی ظفر سے ان کی چیدہ چیدہ فائنڈنگز بارے ایک بریفنگ لی جس کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر بھی موجود تھے۔ علی ظفر نے اپنی تحقیق کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف شوگر سکینڈل میں عائد کردہ الزامات ٹھوس نہیں ہیں اور، انہیں اور ان کے بیٹے کو پرچے کاٹ کر مزید ذیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے علی ظفر کے نتائج پر برہمی کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق، اس موقع پر عمران خان نے جب شہزاد اکبر سے کہا کہ وہ ایف آئی اے کی ترین مخالف کارروائی کے دفاع میں حقائق پیش کریں تو شہزاد اکبر کی جانب سے علی ظفر کو بتایا گیا کہ ترئن کے خلاف تمام پرچے شوگر انکوائری کمیشن کی سفارشات کے مطابق کاٹے گئے ہیں اور پرچے صرف ترین کیخلاف نہیں بلکہ اُن تمام افراد کیخلاف کاٹے گئے ہیں جو اسوقت شوگر سکینڈل میں کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ دونوں فریقوں کا موقف سننے کے بعد اٹارنی جنرل نے وزیر اعظم کی خواہش کے عین مطابق شہزاد اکبر کے حق میں یعنی ترین کے خلاف ووٹ دے دیا اور کہا کہ ترین کیخلاف ہونے والی کارروائی شفاف اور میرٹ پر مبنی ہے۔ ان حالات میں غالب امکان یہ ہے کہ علی ظفر رپورٹ کو حتمی شکل دیتے ہوئے اس میں ترامیم کی جائیں گی اور اگر ایسا نہیں سکا تو پھر رپورٹ پبلک نہیں کی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر علی ظفر رپورٹ ترین کو بے قصور ثابت کرتی ہے تو ان کا بیانیہ منہ کے بل گر پڑتا ہے اور ترین سیاسی طور پر اور تگڑے ہو کر سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب ترین سمجھتے ہیں کہ علی ظفر کی رپورٹ ہی ان کیلئے امید کی آخری کرن ہے اور اسی وجہ سے پچھلے دنوں انہوں نے بار بار اس رپورٹ کو پبلک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ رپورٹ کو جاری کیا جانا چاہئے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انہیں نقصان پہنچانے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ دوسری جانب عمران خان اور ان کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ علی ظفر کی رپورٹ جاری ہو گئی تو حکومت کے کرپشن کے خاتمے کے بیانیے کو نقصان ہوگا اور ترین کیمپ کو فائدہ پہنچے گا۔ یون نہ صرف ترین بلکہ وہ تمام افراد جنہیں عمران خان دور حکومت میں مختلف کرپشن الزامات کا سامنا ہے وہ سب بری الذمہ ہو جائیں گے۔
حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ شوگر سکینڈل میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کے لیے وزیراعظم نے آخری حد تک جانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس میں ترین یا کسی اور کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ ذرائع نے اس تاثر کی سختی سے نفی کی کہ وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین کو دباؤ میں لانے کے لیے لیے کارنر کر رہے ہیں اور مقصد پورا ہونے کے بعد ان کے ساتھ تصفیہ کر لیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ترین نے شوگر سکینڈل کے حوالے سے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا فیصلہ تب کیا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کی گرفتاری کی تیاری کی جارہی ہے، چناچہ انہوں نے ہم خیال گروپ تشکیل دیا اور کھل کر سامنے آگئے۔

Back to top button