کیا بطورنواز شریف کے ضامن شہباز کی نااہلی ہو سکتی ہے؟


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سزا ہو جانے کے باوجود نواز شریف کو علاج کے لئے باہر بھجوانے کے حکومتی فیصلے کو ایک غلطی تسلیم کرنے کے بعد بعض حکومتی وزرا یہ دعوی کر رہے ہیں کہ اگر نواز شریف لندن سے واپس نہ آئے تو ان کے بھائی شہباز شریف کو بطور ممبر قومی اسمبلی نااہل کیا جا سکتا یے کیونکہ انہوں نے بڑے بھائی کی واپسی کی گارنٹی دی تھی۔ تاہم قانونی ماہرین اس دعوے سے متفق نظر نہیں آتے۔
یاد رہے کہ نواز شریف کی جانب سے سیاسی طور پر متحرک ہونے اور بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن سے فون پر رابطوں کے بعد سے کپتان حکومت نے انہیں لندن سے وطن واپسی لانے کا اعلان کیا ہے جس کے باعث ایک بار پھر سیاسی ماحول میں گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ قائد مسلم لیگ ن عدالتی ضمانت پر وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم کی اجازت سے برطانیہ علاج کے لیے گئے تھے، لیکن اب وہی حکومت ان کی بیماری سے متعلق میڈیکل رپورٹس پر سوالات اٹھا رہی یے۔ شریف خاندان کا موقف ہے نواز شریف کے دل کا آپریشن کرونا وائرس پھیلنے کے باعث ملتوی ہو گیا تھا اور وہ سرجری کروائے بغیر واپس نہیں آئیں گے جس میں ابھی وقت لگے گا۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو باہر بھجوا کر انہوں نے بہت بڑی غلطی کی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کو اپنی اس غلطی کا احساس تب ہوا جب نواز شریف نے سیاسی طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ عمران خان دو برس پہلے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسی بات کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ وہ اپوزیشن کو کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں دیں گے۔ تاہم ان کے ناقدین نواز شریف کو باہر بھجوانے کے فیصلے کو این آر اور کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
اے آر وائی کو دئیے گے ایک تازہ انٹرویو میں میں وزیراعظم نے کہا کہ جب نواز شریف کا ایشو سامنے آیا تو ڈاکٹروں کی رائے آئی کہ وہ بچیں گے نہیں اور ان کی جان خطرے میں ہے جس پر کابینہ میں 6 گھنٹے بحث ہوئی کہ کیا کیا جائے، دوسری جانب عدالت نے بھی کہہ دیا کہ انہیں کچھ ہوا تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈ رکھے، شہباز شریف نے عدالت کو ضمانت دی اور نواز سریف باہر چلے گئے، لیکن اب ہم بڑی پشیمانی محسوس کرتے ہیں کہ بیمار نواز شریف نے لندن میں سیاست بھی شروع کردی ہے اور بظاہر دیکھنے میں وہ بیمار بھی نہیں لگتے۔ عمران خان نے نواز شریف کو این آر او دینے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کو تائثر دیا گیا کہ وہ مر سکتے ہیں اور شاید لندن بھی نہ پہنچ سکیں۔ اس صورت میں ساری ذمہ داری مجھ پر آنی تھی اسلیے میں نے نواز شریف کے عدالتی سزا یافتہ ہونے کے باوجود جذبہ خیر سگالی کے تحت انکو باہر جانے دیا اور اس فیصلے میں عدالت بھی شامل تھیں۔ عمران خان نے کہا کہ تاہم اب جب وہ نواز سیاست دانوں سے رابطے کررہے ہیں، ہم سب پچھتا رہے ہیں اور لگتا یہی ہے کہ ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔
میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کی تحقیقات کروانے کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر میں ڈاکٹر یاسمین راشد سے مسلسل رابطے میں تھا اور شوکت خانم اسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سے بھی مشورہ کیا تھا جنہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پلیٹلیٹس کا اتنا مسئلہ نہیں لیکن انہیں لاحق دیگر بیماریوں کے باعث ان کی جان خطرے میں آسکتی ہے۔ لہذا میرے پاس ان کو باہر جانے کی اجازت دینے کے سوا اور کوئی آپشن موجود نہیں تھی۔
اب بعض حکومتی وزرا کی جانب سے نواز شریف کے واپس نہ آنے پر ان کے بھائی شہباز شریف کی نااہلی کا دعویٰ کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے بڑے بھائی کی واپسی کی ضمانت دی تھی۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان متعدد بار بیان دے چکے ہیں کہ اگر سابق وزیر اعظم واپس نہ آئے تو شہباز کو بطور ممبر پارلیمینٹ نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن ماہر قانون سلمان اکرم راجہ اسے محض حکومتی وزرا کی خواہش قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘قانون کے مطابق کسی شخص کی صحت سے متعلق ضمانت دینے والے کو نااہل نہیں کیا جاسکتا، لیکن اگر کوئی ملزم عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو اس کے ضمانتی مچلکوں میں درج جائیداد یا رقم ضرور ضبط ہوسکتی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘شہباز شریف کا اپنے بھائی کی واپسی سے متعلق عدالت میں صرف یقین دہانی کا بیان جمع ہے اور اس بنیاد پر ان کے خلاف عدالتی کارروائی یا ان کی نااہلی ممکن نہیں ہے۔’ سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ ملزم کے وعدے سے منحرف ہونے پر یقین دہانی کرانے والے کو نااہل کیا گیا ہو۔
سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے اس معاملے پر کہا کہ ‘حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت میں نواز شریف کی ضمانت کو چیلنج کرے اور اگر عدالت انہیں واپس لانے کا حکم دے تو یہ کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘شہباز شریف کی جانب سے میاں نواز شریف کی برطانیہ میں علاج کے لیے روانگی سے متعلق بیان حلفی میں نے خود عدالت میں جمع کروایا تھا، جس میں انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ جیسے ہی ڈاکٹرز نواز شریف کی صحت تسلی بخش قراردیں گے اور انہیں لندن سے پاکستان تک ہوائی سفر کی اجازت دیں گے تو وہ واپس آجائیں گے۔’ اشتر اوصاف کے مطابق: ‘قانونی طور پر عدالت نے ضمانت منظور کی جبکہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت کابینہ نے دی تھی۔ اب حکومتی وزرا کے انہیں واپس لانے کے بیانات سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ‘نواز شریف اپنی صحت سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے عدالت میں جمع کرانے کے پابند ہیں لیکن حکومت کا اس سے براہ راست تعلق نہیں، اس لیے شہباز شریف کی نااہلی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ بنیادی انسانی حقوق کے تحت بھی برطانوی حکومت کسی بیمار شخص کو کسی بھی حکومت کی درخواست پر ملک سے نہیں نکال سکتی۔’
اس معاملے پر ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نےکہا کہ نواز شریف کو چار ماہ کے لیے بیرون ملک علاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن جس طرح کا سیاسی علاج وہ لندن میں کروا رہے ہیں وہ سب کو معلوم ہوچکا ہے۔’ انہوں نے بتایا کہ حکومت نواز شریف کی ضمانت کی منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کی تیاری کر رہی ہے جبکہ نیب کی جانب سے بھی ان کی ضمانت منسوخ کرانے کے بعد وطن واپس لانے کی درخواست عدالت میں دائر ہوگی۔ مسرت جمشید نے کہا کہ ‘ن لیگ کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا کہ حکومت انہیں ضمانتی بانڈز کے بغیر جانے کی اجازت نہ دینے کا درست موقف رکھتی تھی۔ اگر ان کے بڑی رقم کے ضمانتی بانڈز ہوتے تو وہ کب کے واپس آجاتے۔’
یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے دسمبر 2018 میں نواز شریف پر العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کے علاوہ 25 ملین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اس کیس میں دوران سزا نواز شریف بیمار ہوگئے تھے۔ کئی دن سروسز ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد وہ شہباز شریف کی درخواست پر عدالت سے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور ہونے اور کابینہ کی اجازت سے نومبر 2019 میں لندن چلے گئے تھے۔ انہیں عدالت نے چار ہفتوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیاتھا اور علاج کی غرض سے اس مدت میں توسیع بھی ڈاکٹروں کی رپورٹ سے مشروط کی گئی تھی۔ نو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود میاں نواز شریف لندن میں ہی زیر علاج ہیں اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ان کی میڈیکل رپورٹس جمع کرائی جاتی رہی ہیں۔ تاہم ان کی لندن سے تصاویر سامنے آنے کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ دوسری جانب ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی اپنے والد سے ملنے برطانیہ جانا چاہتی ہیں لیکن ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہونے اور پاسپورٹ عدالت میں جمع ہونے کے باعث وہ بیرون ملک نہیں جاسکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button