کیا تحریک انصاف حکومت ٹک ٹاک سٹارز گرائیں گی؟

ٹک ٹاک سٹارز حریم شاہ اور صندل خٹک نے دیگر تمام سیاسی جماعتوں اور تمام مشہور سیاسی رہنماؤں کو چھوڑ کر کس مشن کے تحت تحریک انصاف کو نشانے پر رکھا ہوا ہے ہر کوئی اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہا ہے۔ بعض حلقے یہ مضحکہ خیز پیش گوئی بھی کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ٹک ٹاک سٹارز کے ذریعے ہوگا۔
سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ حریم شاہ آخر حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف ہی کے وزراء اور سیاستدانوں کے ساتھ کیوں نظر آ رہی ہیں؟ ایک صارف حفیظ خلجی نے لکھا کہ ‘یہ ہمارے لیے شرمندگی کی بات ہے۔ یہ لڑکیاں مسلسل وزراء کی ویڈیوز پھیلا رہی ہیں۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ تمام سکینڈلز پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ حریم شاہ اپنے ٹوئٹر اور ٹِک ٹاک اکاؤنٹس کے ذریعے خود سے ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کر چکی ہیں جن میں وہ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری مقامات پر مختلف تحریکِ انصاف کے سیاستدانوں کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔ حریم شاہ کی تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان، جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان، فیاض الحسن چوہان اور دیگر کئی کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں ریکارڈ پر ہیں۔
کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے ممبران کے لیے مختص پارلیمنٹ لاجز اور وزارت خارجہ کے میٹنگ روم سے بھی ان کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ جماعت کے اندر کوئی عہدہ نہیں رکھتیں۔ تاہم وہ خود کو پی ٹی آئی کی کارکن ظاہر کر کے کئی تقریبات اور دفاتر وغیرہ تک رسائی حاصل کر چکی ہیں۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ تاثر یکسر غلط ہے کہ حریم شاہ کو جماعت کی سطح پر کوئی خصوصی حیثیت حاصل ہے یا وہ کسی قسم کا اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ تحریک انصاف میں ان کا کوئی ذریعہ نہیں ہے بس وہ اپنے عورت ہونے اور اپنے خوبصورت ہونے کا فائدہ اٹھا کر سیاستدانوں اور وزراء تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔
حریم شاہ کی ویڈیوز اور تصاویر کو لے کر ٹوئٹر پر تنقید بھی کی جا رہی ہے اور ایسی باتیں بھی جا رہی ہیں جو کردار کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ تاہم کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ صرف عورت ہی کو ایسے معاملات میں مرکز کیوں بنا لیا جاتا ہے۔تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ تصاویر بناکر انہیں وائرل کرنے کے الزام میں حریم شاہ پر ہونے والی تنقید پر بھی بعض سوشل میڈیا صارفین خاصے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سوال شدومد سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان سیاستدانوں پر تنقید کیوں نہیں کی جارہی جو اس میں ملوث ہیں؟ جب کسی کے اخلاقیات پر سوال اٹھایا جائے تو ہم عورت ہی کو مرکز کیوں بنا لیتے ہیں؟ ایک صارف نے مطالبہ کیا کہ حریم شاہ کو نشانہ بنانا کسی حد تک درست ہے مگر کوئی ان سیاستدانوں کی بات نہیں کر رہا۔ انہیں ان کی وزارتوں سے ہٹا دینا چاہیے۔
بعض سوشل میڈیا صارفین حریم شاہ اور انکی پارٹنر صندل خٹک کے برے انجام کے حوالے سے بھی پیشگوئیاں کر رہے ہیں۔ بہت سے افراد کا مؤقف ہے کہ قندیل بلوچ اسی طرح سوشل میڈیا پر بے باکی کا مظاہرہ کیا اور پھر تحریک انصاف علماء ونگ کے سربراہ مفتی عبدالقوی کے ساتھ سیلفیاں بنائیں اور یہی نہیں بلکہ ایک ٹی وی پروگرام میں یہاں تک کہہ دیا کہ بنی گالہ میں ایک پنکی نامی خاتون رہتی ہیں جو عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے جادوٹونے کر رہی ہے حالانکہ اس وقت عمران خان اور پنکی پیرنی کی شادی نہیں ہوئی تھی۔
اس سے ملتی جلتی صورتحال حریم شاہ اور صندل خٹک کی ہے۔ دونوں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ سیلفیز بناتی ہیں حتی کہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس وزیراعظم عمران خان کی کوئی نازیبا ویڈیو ہے اور شیخ رشید کے ساتھ متنازعہ ویڈیو کال تو باقاعدہ لیک کی جاچکی ہے۔ یہ سب کرنے کے بعد حریم شاہ اور صندل خٹک سے متعلق بھی معلومات لیک ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
دونوں کے اصل شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ بعض افراد نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ہر حریم شاہ کی ننگی ویڈیوز موجود ہیں اگر اس نے عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو بدنام کرنے سے توبہ نہ کی تو حریم شاہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی۔ اس تمام تر بحث میں ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ ان دونوں ٹک ٹاک سٹارز نے صرف پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ ہی تصاویر کیوں بنائی ہیں کسی دوسری جماعت کے رہنما کے ساتھ ان کی متنازع تصاویر یا سیلفیز کیوں نہیں۔ میڈیا پر بعض صارفین یہ پیش گوئی بھی کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کی واحد حکومت ہوگی جو کسی ویڈیو سکینڈل کی زد۔میں آ کر اپوزیشن کی بجائے ٹک ٹاک سٹارز کے ذریعے گھر جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button