کیا ترین گروپ عمران اور اسٹیبلشمنٹ کے اختلاف کا نتیجہ ہے؟

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جہانگیر خان ترین کا ہم خیال گروپ عمران اور ترین باہمی اختلاف کے نتیجے میں نہیں بنا بلکہ عمران کے فوجی قیادت سے بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے بنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل جہانگیر ترین پچھلے برس شوگر سکینڈل میں نام آنے کے بعد لندن جانے کر واپس بھی اسٹیبلشمنٹ کی یقین دہانی پر آئے تھے اور اب ہم خیال گروپ کا قیام بھی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ہی عمل میں لایا گیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اس وقت وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے اختلافات عروج پر ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر کوئی کاری وار کرنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے عمران خان نے اگلے روز یہ بیان داغ دیا ہے کہ ان کو حکومت گرانے کی دھمکی دے کر مافیا کو این آر او دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عمران کے بیان سے شک پڑتا یے کہ ان پر شاید شہباز شریف اور جہانگیر ترین کو این آر او دینے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ ہے اور وہی حکومت گرانے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں ایسا ممکن نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر کوئی بھی اتنا بڑا گروپ بنا لے۔ لہذٰا، بقول ان کے، کہیں نہ کہیں سے ترین کی ڈوریاں ضرور ہلائی جا رہی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتِ حال کے مطابق یہ ملک کے حالات پر منحصر ہے کہ وہ کیا کروٹ لیتے ہیں۔ اگر تو اسٹیبلشمنٹ اگلے الیکشن تک انتظار کرنا چاہتی ہے تو پھر تو ترین اور انکے ساتھی ایک فارورڈ بلاک یا ایک پریشر گروپ کی حد تک ہی محدود رہیں گے لیکن اگر تبدیلی کا پروگرام بن چکا ہے تو پھر ترین گروپ آخری حد تک چلا جائے گا اور ہوسکتا ہے کہ بجٹ سیشن کے موقع پر وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ گئے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین کی پشت پناہی کون کر رہا ہے اِس بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا، لیکن جو پسِ پردہ خبریں سامنے آ رہی ہیں اُس سے یہ اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ ایسے ہی نہیں بن گیا، درونِ خانہ کچھ نہ کچھ ضرور چل رہا ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے ذریعے کوئی بڑی سیاسی تبدیلی آنے والی ہے۔ حامد میر کے بقول، ترین اور اُن کے گروپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اُن کے پاس اتنی اہلیت ہے کہ وہ جب چاہیں پنجاب حکومت کو ختم کر سکتے ہیں۔
اس معاملے پر ڈان نیوز سے وابستہ صحافی فہد حسین کا کہنا ہے کہ اُن کی معلومات کے مطابق ترین گروپ فی الحال کوئی انتہائی قدم نہیں اُٹھائے گا، بلکہ ایک پریشر گروپ کے طور پر ہی متحرک رہے گا۔ اُن کے بقول، اس گروپ سے حکومت کو خطرہ تو ضرور ہے، لیکن اس گروپ کی وجہ سے جہانگیر ترین یا اُن کے ساتھی ارکان کو کتنا فائدہ ملتا ہے یہ آنے والے دِنوں میں واضح ہو جائے گا۔فہد سمجھتے ہیں کہ پنجاب حکومت پر جو دباؤ تھا وہ کافی حد تک کھل کر سامنے آ گیا ہے اور پنجاب حکومت کو بھی یہ معلوم ہو گیا ہے کہ اُن کا مستقبل ترین گروپ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لئے اب وزیر اعلی عثمان بزدار پنجاب میں ترین گروپ کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے انہیں رام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کار سہیل وڑائچ کاکہنا ہے کہ آج کی سیاسی صورتِ حال میں جہانگیر ترین گروپ ایک موئثر ترین پریشر گروپ کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے بعد تحریکِ انصاف کی حکومت کے پاس اب بظاہر اکثریت نہیں رہی۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر ترین گروپ حکومت سے الگ ہو جاتا ہے تو پنجاب میں پی ٹی آئی کی اکثریت نہیں رہے گی کیوں کہ 33 لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ جہانگیر ترین کے ساتھ ہیں۔ ویسے بھی جب مرکز میں کوئی حکومت ختم کرنی ہو تو پہلا حملہ پنجاب کے قلعے پر کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث تحریک انصاف نے آزاد اراکین اور مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملا کر اتحادی حکومت بنائی تھی۔ ان آزاد اراکین میں سے بیشتر کو تحریک انصاف میں شامل کرانے کے لیے جہانگیر ترین نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اب وہ سب لوگ ترین کے ہم خیال گروپ کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں جس اور اس وقت عثمان بزدار پنجاب اسمبلی میں اکثریت سے محروم نظر آتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کی رائے میں اگر جہانگیر ترین گروپ کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ مل جاتا ہے تو پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت ختم بھی کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے بعد مسلم لیگ نواز سب سے بڑی جماعت ہے لیکن اس کے قائد نواز شریف پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ پنجاب اور مرکز میں اسمبلی کے اندر سے تبدیلی لانے کی بجائے نئے الیکشن کو ترجیح دیں گے۔ سہیل وڑائچ کی رائے میں ترین گروپ بجٹ تک عمران کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا اور علیحدگی کی تلوار لٹکا کر رکھے گا۔ اسکی کوشش ہو گی کہ ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی رکوا دی جائے۔ لہازا بجٹ تک ترین گروپ والے کسی نہ کسی شکل اپنا وزن دکھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر تو کپتان بجت پاس کروانے کے لیے ترین کے ساتھ وقتی طور پر سیز فائر کرنا چاہتا ہے تو ترین بھی کوئی بچہ نہیں اور نہ ہی وہ کچی زمین پر پاؤں رکھنے والا ہے۔ لہذا اگر اسے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آخری حملے کا اشارہ مل گیا تو ہو سکتا ہے کہ بجٹ سیشن پر ہی کپتان حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے۔
دوسری جانب سینئر صحافی ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ اگر ہم خیال گروپ تشکیل پانے کے بعد خود وزیراعظم عمران خان بھی چاہیں تو جہانگیر ترین کے خلاف تمام کیسز جلدی ختم نہیں ہو سکتے کیون کہ ادارے ایک طریقہ کار کے تحت چلتے ہیں اور اتنا ننگا چٹا کھیل نہیں کھیلا جا سکتا۔ تاہم یہ ضرور۔یے کہ موجودہ صورتِ حال میں تحریکِ انصاف کی وفاق اور پنجاب حکومتیں بجت تک دباؤ میں رہیں گی۔ ارشاد بھٹی کے بقول، جہانگیر ترین کو کس حد تک ریلیف مل سکتا ہے اس کا فیصلہ تو بیرسٹر علی ظفر کی رپورٹ کی روشنی میں ہی ہو گا اور شاید ترین گروپ کا قیام بھی علی ظفر رپورٹ پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش ہے۔
خیال رہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف شوگر اسکینڈل میں جاری تحقیقات کے میرٹ کا جائزہ لینے کی ذمے داری سینیٹر علی ظفر کو سونپی گئی ہے۔ ترین نے اپنے گروپ کو فارورڈ بلاک کا نام تو نہیں دیا، لیکن فارورڈ بلاک اصل میں ایسے ہی ہوتے ہیں خصوصا جب وہ اسمبلی میں اپنے پارلیمانی لیڈر بھی مقرر کر دے۔ تحریکِ انصاف میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک گروپ بنا ہے جو اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے سامنے آ چکا ہے اور اس نے کھل کر بزدار کو الٹانے کا کھیل شروع کر دیا۔
دوسری طرف وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اُنہیں کہا ہے کہ اگر ترین کے لوگوں کو ان سے کوئی گلہ ہے تو وہ اُنہیں بتائیں۔ وہ نہ تو کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہ کر رہے ہیں اور نہ ہی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد نہیں آ رہی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ علی ظفر کو ترین سے متعلق اپنی رپورٹ جلد از جلد عمران خان کو دے دینی چاہیئے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیح رشید نے کہا کہ ترین گروپ اگلے بجٹ اجلاس میں عمران کو ہی ووٹ دے گا۔ تاہم دوسری طرف یہ اطلاعات ہیں کہ علی ظفر عمران خان کو اپنی رپورٹ پیش کر چکے ہیں جس میں جہانگیر ترین کے لیے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں لہذا وہ کھل کر میدان میں آ چکے ہیں۔

Back to top button