کیا جام کمال حکومت بھی رئیسانی حکومت کی طرح ختم ہو گی؟

کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11 مزدوروں کے بہیمانہ قتل کے بعد 3 روز سے سڑک پر لاشوں سمیت دھرنا دیے ہوئے مظاہرین نے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد پر واضح کردیا ہے کہ وہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال کی حکومت کے خاتمے تک دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ 2012 میں بھی جب کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ قتل ہوئے تھے تو اسی طرح دھرنا دیا گیا تھا جس کا اختتام تب کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے خاتمے پر ہوا تھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ جام کمال کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے میں اس لیے بھی حق بجانب ہیں کے سانحہ مستونگ کے تین روز بعد بھی وزیر اعلی بلوچستان قتل ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرنے نہیں پہنچے۔
اس سے پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی جہاز پر 4 جنوری کی رات کوئٹہ پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کئے۔ اس موقع پر شیخ نے قتل ہونے والے مزدوروں کے لیے دس لاکھ روپے فی خاندان امداد کا اعلان کیا جسے لواحقین نے باٹا ریٹ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ یاد رہے کہ ماضی میں شیخ رشید خود بھی پچھلی حکومتوں کی جانب سے دہشت گردی میں مرنے والوں کے لیے دس لاکھ روپے کی امداد کو باٹا ریٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ شیخ رشید کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست پر مظاہرین نے یہ مطالبہ کیا کہ اگر ان کے پیاروں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے ان کے سامنے پیش کردیا جائے تو وہ ان سے بدلہ لینے کے بعد گھروں کو چلے جائیں گے۔ یاد رہے کہ قتل ہونے والے ہزارہ مزدوروں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ان کے ہاتھ پشت پر باندھ کر ان سب کے گلے کاٹے گئے اور سر تن سے جدا کر دیے تھے۔ ان سب کا تعلق بلوچستان کی شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔ قتل ہونے والوں کے لواحقین کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر میتوں سمیت دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تب تک وہ نا تو میتوں کی تدفین کریں گے اور نا ہی دھرنا ختم کریں گے۔ ان کے دو بڑے مطالبات قاتلوں کی فوری گرفتاری اور جام کمال حکومت کی برطرفی ہیں۔
معلوم یوا یے کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور وہ قریبی رشتہ دار ہیں۔ ان پانچ افراد کی میتوں سمیت دھرنے میں شامل معصومہ یعقوب علی نے بتایا کہ ان کے اکلوتے بھائی سمیت ان کے خاندان کے پانچ افراد کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا اور اب ان کے خاندان میں کوئی مرد باقی نہیں بچا جو کہ ان کی میتوں کو دفنا سکے۔ معصومہ کا بھائی دو بچوں کا والد اور چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اس کے دیگر قتل ہونے والے رشتہ داروں میں اٹھارہ سالہ بھانجا احمد شاہ، دو ماموں 20 سالہ شیر محمد اور 30 سالہ محمد انوار اور ان کی خالہ کا 22 سالہ بیٹا احسن شامل ہیں۔
تھرڈ ایئر کی طالبہ معصومہ کہتی ہے: ’میں ریاست مدینہ کے نام نہاد ٹھیکیدار عمران خان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جس میں دن دہاڑے بے گناہ خاندانوں کے سہاروں کو اس بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے اور اس کے بعد صرف میڈیا پر تعزیتی بیانات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ میں کہتی ہوں کہ اگر یہ واقعی انصاف کی ریاست ہے۔۔۔ اگر یہ واقعی مسلمانوں کی ریاست ہے۔۔۔ اگر یہ واقعی ریاست مدینہ ہے تو ہمارے پیاروں کے قاتلوں مجرموں کو فی الفور گرفتار کر کے سزا دی جائے۔ انھیں ہمارے سامنے لایا جائے۔ آخر ہم کب تک اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔‘
لیکن دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے تین روز گزرنے کے باوجود سانحہ مستونگ کے ذمہ داروں کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔ سیکورٹی زرائع کہنا ہے کہ سانحے میں داعش کا وہی گروپ ملوث ہے جس نے بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی کے انتخابی جلسے میں خود کش حملہ کیا تھا جس میں 100 کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے سیکورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ 3 اور 4 جنوری کی درمیانی رات 3 بجے 20 سے 25 مسلح لوگ گیشتری میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپ میں داخل ہوئے اور مزدوروں کو نیند سے جگا کر انکی چھانٹی کی گئی۔ شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کو دوسروں سے الگ کیا گیا ،سب کی آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھ پیچھے باندھ دیئے گئے اور پھر ایک ایک کر کے ایک ہی کمرے میں تیز دار آلے سے ان سب کے گلے کاٹ دیے گے۔ اس واقعے کی ذمہ داری عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹیوٹر پر قبول کرلی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ داعش کا یہ وہی گروپ ہے جس نے 2018 میں سابق وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی میر سراج رئیسانی کے انتخابی جلسے میں خود کش حملہ کیا تھا جس میں سراج رئیسانی سمیت ایک سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ بعد ازاں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ سراج رئیسانی پر خود کش کرنے والے گروپ کے چار دہشت گردوں کو سیکورٹی فورسز نے مستونگ اور دشت میں کاروئیوں میں مار دیا تھا۔ لیکن گیشتری واقعہ سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ کارروائی اس گروپ نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے کی یے اور بہت سارے مقامی لوگوں کو بھی داعش میں بھرتی کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ داعش میں زیادہ تر تحریک طالبان چھوڑنے والے لوگ شامل ہیں۔
مستونگ واقعہ کے بعد ہزارہ برادری کے سینکڑوں مظاہرین کوئٹہ مغربی بائی پاس پر کراچی چمن شاہراہ بند کرکے لاشیں سڑک رکھ کر پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ دھرنے کا آج تیسرا دن ہے لیکن وزیر اعلی جام کمال مظاہرین کی اشک شوئی کیلئے نہیں پہنچے کیوں کہ وہ بیرون ملک دورے پر ہیں۔ انہوں اپنی ٹویٹ میں اس واقعے کی مذمت تو کی ہے لیکن اسے اسپلنجی کا سانحہ بتایا ہے حالانکہ اسپلنجی ضلع مستونگ کا علاقہ ہے اور حالیہ واقعہ گیشتری ضلع کچھی بولان میں پیش آیا ہے۔ وزیر اعلی جام کمال اس بلنڈر اور جہالت کی وجہ سے سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید ایک دن مختصر دورے پر دھرنا مظاہرین سے ملاقات کی اور ان سے احتجاج ختم کرنے کی استدعا کی لیکن دھرنا مظاہرین وزیر اعظم کو کوئٹہ آنے اور جام کمال حکومت ختم کرنے کا اعلان کرنے کا مطالبہ سامنے رکھ دیا۔
دوسری طرف سیکولر نظریہ رکھنے والی ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور کٹر مذہبی نظریہ رکھنے والے وحدت مسلمین کے مابین دھرنے کو لیکر اختلاف پیدا ہوگئے ہیں ،ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کا موقف ہے کہ قتل ہونے والے افراد کی تدفین کی جائے اور ساتھ احتجاج بھی جاری رکھا جائے۔ لیکن وحدت المسلمین ابھی تک لاشوں کو دفنانے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے ہزارہ پارٹی اب اس دھرنے سے لاتعلق ہو گئی ہے۔ لیکن وحدت المسلمین والے لاشوں کے ساتھ ابھی تک کوئٹہ مغربی بائی پاس پر موجود ہیں اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل تحریک وحدت المسلمین نے کوئٹہ میں 2012 میں ایک خود کش دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ہزارہ برادری کے لوگوں کی لاشیں اسی طرح سڑک پر رکھ کر نواب اسلم رئیسانی کی حکومت ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں اسی بنیاد پر نواب اسلم رئیسانی کی حکوت ختم کر کے صوبے میں گورنر راج لگا دیا گیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان کی حکومت بھی جام کمال کی صوبائی حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کرتی ہے یا نہیں۔
