کیا جام کمال کے جانے سےعمران بھی کمزور ہو جائیں گے؟


اپنوں اور بیگانوں سب کو نارض کر بیٹھنے والے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی اپنی کرسی تو خطرے میں پڑ ہی چکی ہے لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جام کی فراغت کی صورت میں کپتان کا وفاق میں اقتدار بھی مزید غیر محفوظ ہوجائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان فوری انتخابات کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ لوگ انکی حکومت سے ناراض ہیں اور انہیں ووٹ نہیں ملیں گے پھر اس بار آر ٹی ایس کے بیٹھنے کا چانس بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز ووٹنگ کے مسائل ابھی حل نہیں ہوئے۔ اس کے لیے وقت اور طاقت دونوں درکار ہیں مگر نہ وقت نظر آرہا ہے اور طاقت تو جیسے غائب ہی ہو گئی ہے اس لیے اگر روکنا ہے تو تبدیلی کے عمل کو بلوچستان میں ہی روکنا ہوگا۔ سینئر صحافی مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ جام کمال کے بچنے میں ہی سب کی بچت ہے اس لیے وزیر اعظم کو جام کمال کو بچانے کے لیے زور لگانا چاہیے وگرنہ جام کمال کے جانے سے باقی لوگوں کے جانے کا عمل شروع ہو جائے گا جسے روکنا بہت مشکل ہو گا۔ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی اور انداز ایسا نہیں کہ وہ ایسے بحرانوں کا مقابلہ کر سکیں اس لئے وہ گر سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی حکومت کے خلاف تبدیلی کی ہوائیں بلوچستان سے ہی شروع ہوتی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی ابتدا بھی بلوچستان سے ہی ہوتی ہے۔ اس لیے تجزیہ کاروں کی رائے میں بلوچستان میں تبدیلی ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ پارلیمانی اعتبار سے بلوچستان پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے لیکن سیاسی اہمیت پنجاب سے بڑھ گئی ہے۔ اس لیے بلوچستان میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان میں آنے والے سیاسی بحرانوں اور تبدیلیوں کا اشارہ دیتی ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں شدید سیاسی بحران نظرآ رہا ہے۔ لیکن اس بحران کی کوئی سیاسی وجہ نظر نہیں آرہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف دوسری دفعہ تحریک عدم اعتماد جمع ہو گئی ہے۔ پہلی تحریک عدم اعتماد پر تکنیکی بنیادوں پر ووٹنگ روکی گئی تھی۔ حالانکہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومتی جماعت باپ پارٹی کے ناراض ارکان سے جام کمال کو پندرہ دن کا وقت لے دیا تھا۔ لیکن پندرہ دن میں کچھ بھی نہیں ہوا۔ ناراض ارکان ناراض ہی رہے۔ بلکہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی بحران حل کیوں نہ کر سکے حالانکہ وہ اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کی کمال صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک دفعہ نہیں انھوں نے تین دفعہ سینیٹ آف پاکستان میں اقلیت کو اکثریت میں بدل کر دکھایا ہے۔ وہ عدم اعتماد کو ناکام بنانے میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں لیکن اگر وہ بھی اس بحران کو حل کرنے میں ناکام ہوئے ہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں۔
مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ جب سنجرانی بحران کو حل کرنے کے لیے بلوچستان گئے تو ان کے پاس وہ جادوئی طاقت نہیں تھی جس سے وہ ایسے تمام مسائل چٹکیوں میں حل کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی یہ طاقت صرف اسلام آباد سینیٹ آف پاکستان تک محدود ہے۔ اس سے باہر جادوئی طاقت اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ اگر انھوں نے اسے اسلام آباد سینیٹ آف پاکستان سے باہر استعمال کرنا ہے تو اس کے لیے انھیں جادوئی طاقت کے ذمے داران سے اجازت لینا ہوتی ہے اور اس بار وہ اجازت لیے بغیر ہی چلے گئے تھے۔ خیال رہے کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور وزیر اعلیٰ جام کمال کے درمیان پہلے دن سے لڑائی تھی۔ عبدالقدوس بزنجو پہلے وزیر اعلیٰ تھے، جام کمال نے ان کی جگہ لی ہے حالانکہ وہ دوبارہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے۔ لیکن دونوں باپ پارٹی میں ہیں۔ جب کہ باپ پارٹی عبدالقدوس بزنجو کی وزارت اعلیٰ میں ہی بنی تھی۔ لیکن بعد میں بنانے والوں کو جام کمال پسند آگئے۔ ان کے خاندان کے اسٹیبلشمنٹ سے ہمیشہ اچھے مراسم رہے ہیں‘ اسی لیے انھیں موقع دے دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی طور پر ایک مشکل صوبے میں بھی جام کمال ایک مضبوط وزیر اعلیٰ بن کر ابھرے ‘جیسے ان کے والد اور دادا آمریت کے ادوار میں مضبوط وزیر اعلیٰ بنتے رہے ہیں۔
لیکن اس بار بلوچستان کے بحران کا حل نہ ہونا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ اسکرپٹ میں تبدیلی ہے۔ جام کمال کا بچنا مشکل نظر آرہا ہے۔ وہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں لیکن بات بن نہیں رہی۔ ان کی گفتگو میں سے اعتماد ختم نظر آرہا ہے۔ وہ سیاسی تنہائی کا شکار نظر آرہے ہیں۔ جو جادوئی طاقت کبھی ان کے اندر نظر آتی تھی اب ان کے مخالفین میں نظر آرہی ہے۔ وزرا اور مشیران کے استعفے کوئی معمولی بات نہیں۔ بغیر کسی اشارے یہ سب کیسے ممکن ہے۔ کون مانے گا کہ باپ پارٹی کے وزیر اور مشیر اتنے خود مختار ہو گئے کہ خود ہی اپنے استعفوں کے فیصلے کرنے لگ گئے۔ اگر اشارہ نہیں تو کھڑے رہنے کا جو اشارہ تھا وہ ہی ختم ہو گیا۔ ویسے بھی جب مولانا فضل الرحمٰن نے پہلا دھرنا دیا تھا تو اس وقت یہ بازگشت سنائی دی تھی کہ بلوچستان کے حوالے سے کچھ وعدے ہوئے ہیں۔ وعدے کرنے والے بھی خاموش رہے اور جن سے وعدے ہوئے وہ بھی خاموش رہے۔ پھر یہ بازگشت سنائی گئی کہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ وعدے ٹوٹ گئے ہیں۔ لیکن اب ایسی بازگشت ہے کہ وعدے پورے کرنے کا وقت آگیا ہے۔، ہر وعدہ ہر وقت پورا نہیں کیا جاتا۔ دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں وعدہ ٹوٹ گیا ہے۔ بلوچستان میں تبدیلی کا وقت آگیا ہے اور جے یو آئی (ف) پھولے نہیں سما رہی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بلوچستان میں تبدیلی عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے لیے ویسے تو کوئی خاص خطرہ نہیں۔ اس کا قومی اسمبلی میں کوئی براہ راست اثر نہیں ہوتا لگ رہا ہے۔ لیکن سیاسی نبض نگار کے مطابق اثر بہت گہرا ہوگا۔ عمران خان اس وقت ایسے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں کہ ان کے پاس بلوچستان پر توجہ دینے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ سادہ بات یہ ہے کہ ان کے پاس بلوچستان سے بڑے مسائل ہیں۔ حالانکہ بلوچستان بھی کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے عمران خان کو بھی جو طاقت چاہیے وہ اس وقت شاید ان کے پاس بھی نہیں ہے۔ جس طرح صادق سنجرانی طاقت کے بغیر بے اثر نظر آئے ہیں۔ اسی طرح عمران خان بھی اس طاقت کے بغیر بے اثر ہی نظر آرہے ہیں۔ عدم اعتماد کی کامیابی کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ بات صرف بلوچستان میں نہیں رکے گی۔ کمزور اتحادی طاقت پکڑ جائیں گے۔عمران خان کمزور اتحادیوں سے نبٹنے کی سیاسی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انھیں اس میں بیرونی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ اور اگر اتحادی مضبوط ہو گئے۔ اتحادیوں کو ان کی کھوئی ہوئی طاقتیں واپس مل گئیں تو کیا ہوگا۔ ان سے کیسے نبٹا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے بھی پر نکل رہے ہیں۔ ان کے مزاج بدلے ہوئے نظر آرہے ہیں۔مسلم لیگ (ق) اور پیپلزپارٹی کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی آرہی ہیں۔حال ہی میں چوہدری مونس الٰہی نے سندھ میں پیپلزپارٹی کے حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس لیے اگر بلوچستان جاتا ہے تو شیرازہ بچانا مشکل ہو جائے گا۔ اتحادیوں کے سر پر کھڑی حکومت مشکل میں آجائے گی۔

Back to top button