ٰنور نے خود کو قربانی کیلیے پیش کیا تھا، ظاہر جعفر کا دعویٰ

اسلام آباد کی رہائشی نور مقدم کوسفاکی سے قتل کرنے کے بعد اس کا سر تن سے جدا کرنے والے حیوان نما انسان ظاہر جعفر نے الٹا مقتولہ پر الزام لگاتے ہوئے جان بچانے کے لئے دین اسلام کا سہار لینے کی ناکام کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اپنے قبیح جرم پر شرمندہ ہونے کی بجائے ظاہر جعفر نے عدالت کے روبرو یہ موقف اپنایا ہے کہ نور نے خود کو قربانی کے لئے پیش کیا تھا اور قربانی اسلام میں جائز ہے۔
یاد رہے کہ ظاہر جعفر کو اسلام آباد پولیس نے 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل کے الزام میں اس کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ یاد رہے کہ نور کے والد شوکت مقدم پاکستان نیوی کے سابق آفیسر ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد دو ملکوں جنوبی کوریا اور قزاقستان میں پاکستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ دوسری جانب نور کا قاتل ظاہر جعفر برادرز کے مالک کا بیٹا ہے جو کہ ایک بڑا بزنس گروپ ہے اور اربوں روپے کے مختلف کاروبار کرتا ہے۔نور قتل کیس میں پولیس نے اعانت جرم کے الزام میں ظاہر جعفر کے والد اور والدہ کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔
ظاہر جعفر کے والدین کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعات 109 اور 176 کے تحت اعانت جرم پر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ 14 اکتوبر کو دوران سماعت ملزم ظاہر جعفر نے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ قربانی اسلام میں بھی جائز ہے اور نور مقدم نے خود کو قربان کے لیے پیش کیا تھا، قتل میں نے کیا تھا اور پستول میرے باپ کا تھا، ہاں میں مانتا ہوں، میرا وکیل جو کچھ کہہ رہا ہے سب بنیاد ہے، مجھے چھوڑ دیں، ہم دونوں آپس میں لڑے تھے، میری غلطی تھی، وہ بھی غصے میں تھی، میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے مرنا نہیں چاہتا، میری شادی ہونی چاہیے، بچے ہونے چاہئیں، مجھے گھر میں قید کر دیں، یا پھانسی دے دیں لیکن میں جیل میں نہیں رہ سکتا۔ بہتر ہو گا کہ اگر مجھے معافی دے دی جائے۔ اس موقع پر ملزم نے مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اور آپ کی بیٹی پیار کرتے تھے ، تین سال ہم تعلق میں رہے ہیں، میری زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ مجھے بچا سکتے ہیں، آپ میری زندگی لینا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل گرفتاری کے بعد سے ملزم ظاہر جعفر نے پولیس کے سامنے بار بار ایک ہی موقف دہرایا تھا کہ وہ امریکی شہری ہے اور اس پر پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا لہذا اسے امریکی سفارتخانے تک سفارتی رسائی دی جائے۔
پولیس کے مطابق رواں برس 20 جولائی کو نور مقدم کا ظاہر جعفر سے اس کے اسلام آباد والے گھر میں جھگڑا ہوا۔ تب ظاہر کے والدین عید منانے کے لیے کراچی گئے ہوئے تھے۔ جھگڑے کی وجہ نور کا ظاہر سے شادی سے انکار بنا۔ جب ظاہر نے اسے مارنا شروع کر دیا تو نور نے جان بچانے کے لیے روشن دان کھول کر پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ وہ گرل کے ساتھ بھی ٹکرائی اور فرش پر گرنے سے زخمی بھی ہو گئی۔اس دوران ظاہر جعفر تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے آیا اور نور مقدم کو بالوں سے گھسیٹ کر دوبارہ اوپر لے گیا۔ ملازمین نے فون کر کے ظاہر کے والد ذاکر جعفر کو اس بارے بتادیا لیکن اس نے کچھ نہ کیا۔ ظاہر نے اس کے بعد نور کو بالائی منزل پر ٹارچر کرنا شروع کر دیا۔ سفاک قاتل نے نور کے جسم میں چار جگہ چاقو مارا۔ وہ مسلسل ظاہر کی منتیں کرتی رہی لیکن وہ اس کے جسم کو چاقو سے کاٹتا رہا۔ظاہر نے اس دوران اپنے والد کو فون کر کے بتایا کہ نور میرے ساتھ شادی نہیں کر رہی اسلیے میں اسے قتل کر رہا ہوں۔ اس کے بے حس والد نے اس بات کو بھی سیریس نہیں لیا۔ ملازمین نے اس دوران ایک بار پھر ظاہر کے والد کو بتایا کہ کمرے سے چیخوں کی آوازیں آ رہی ہیں مگر ظاہر کے کے والد نے چوکیدار سے کہا کہ تم فکر نہ کرو، میں ابھی تھراپی سینٹر والوں کو بھیجتا ہوں۔ تھراپی سنٹر والوں نے آنے میں کئی گھنٹے لگا دیئے جس دوران ظاہر جعفر نے نور کو قتل کرکے اس کا سر تن سے جدا کردیا۔
