کیا جسٹس فائز عیسیٰ، جج شوکت صدیقی کو بھی انصاف دینگے؟

پاکستان میں عام آدمی کے بعد اب لوگوں کو انصاف دینے والے ججوں کے اپنے لیے بھی انصاف کا حصول مشکل تر ہوتا جارہا ہے جس کی ایک بڑی مثال اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کی یے جو کئی برسوں سے سپریم کورٹ میں اپنا کیس لگوانے کہ کوشش میں مصروف ہیں لیکن اب تک شنوائی نہیں ہوئی۔ تاہم آزاد عدلیہ کی علامت قرار دئیے جانے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننے کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کی امیدا لگا لی ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کے خلاف درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کردی ہے۔
اسلام آباد میں وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کے بعد جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھوں فارغ ہو جانے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک مرتبہ پھر ایک نئی درخواست میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اپنے کیس کی جلد سماعت کی استدعا کی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نےاپنی برطرفی کے کیس پرجلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسٰی سے اپنی برطرفی کیخلاف کیس 6نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں تقریر کے دوران آئی ایس آئی کو اسکے سیاسی کردار کی وجہ سے چارج شیٹ کرنے پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے اکتوبر 2018 میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی کے بعد صدر مملکت عارف علوی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے صدر نے جسٹس صدیقی کو برطرف کر دیا تھا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے جولائی 2018 میں راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مبینہ طور پر آئی ایس آئی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے اور اپنی مرضی کے بینچ بنوا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیتی ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ اداروں کی مداخلت کی وجہ سے اُنھیں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بارے میں ایکشن لیں۔ شوکت عزیز صدیقی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے جو اس وقت ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی تھے، فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمے میں ان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔
اپنی برطرفی کے بعد ردعمل دیتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ انھوں نے کہا: ’تقریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پہ شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرنس سے پوری کوشش کے باوجود جب کچھ نہ ملا تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا جس کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا۔‘
یاد رہے کہ جسٹس شوکت نے دعویٰ کیا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی مرضی کے فیصلے دینے پر انھیں وقت سے پہلے چیف جسٹس بنوانے اور ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم کروانے کی پیشکش کی گئی تھی۔جسٹس شوکت صدیقی نے یہ الزام راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لگایا تھا جس کی بنیاد پر ان کی بطور جج چھٹی کروا دی گئی تھی۔ اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے ایک اہلکار ان سے ملے اور کہا کہ اگر وہ ان کی مرضی کے فیصلے دیں گے تو وہ اُنھیں اس سال ستمبر میں ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنوا دیں گے۔
جسٹس صدیقی کے مطابق انھیں کہا گیا کہ ’ہماری مرضی کے فیصلے دو تو تمہیں نہ صرف وقت سے پہلے چیف جسٹس بنا دیں گے بلکہ ریفرنس کو بھی ختم کروا دیں گے۔‘ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے جواب میں دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیاتھا کہ وہ اپنے ضمیر کو گروی رکھنے پر موت کو ترجیح دیں گے۔اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے انکار کے بعد آئی ایس آئی کے اہلکار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی سے رابطہ کر کے اُنھیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر ہونے والی اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس شوکت صدیقی کو شامل نہ کرنے کے لیے کہا اور یہ بات اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تسلیم کر لی تھی۔
اپنی برطرفی کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس شوکت صدیقی نے تحریری طور پر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کے لئے مرضی کے بینچ بنوائے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سا مقدمہ کون سے بینچ کو بھجوانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کرنا اسلام آباد ہائی کورٹ کی ذمہ داری تھی لیکن نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں چلنے والے ریفرنس کی نگرانی آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ کرتی رہی کیونکہ اُنھیں معلوم تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج احتساب عدالت کی کارروائی نہ دیکھ لے۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے بارے میں آئی ایس آئی کو بریفنگ دی جاتی تھی۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی فراغت کا باعث بننے والے خطاب میں مزید کہا کہ ’اُنھیں معلوم ہے کہ احتساب عدالت کی روزانہ کی کارروائی کہاں جاتی رہی ہے اور اُنھیں یہ بھی معلوم ہے کہ سپریم کورٹ میں کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے۔‘ انکا کہنا تھا کہ اُنھیں نہیں معلوم کہ آج کے بعد ان کے ساتھ کیا ہو گا لیکن وہ کسی طور پر بھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے۔ تاہم اس تقریر کے بعد تب کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر بطور جج برطرف کر دیا تھا۔
