کیا جنرل باجوہ پاک سعودی کشیدگی کم کرانے کی پوزیشن میں ہیں؟


پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ معاملات بہتر کرنے کے لیے سرکاری دورے پر ریاض تو پہنچ گئے ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ سعودی شاہی خاندان کی ناراضی دور کر پائیں گے اور کیا ایسا کرنے کے لیے ان کے پاس ہر طرح کے سعودی مطالبات تسلیم کرنے کا مکمل مینڈیٹ موجود بھی ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ پاک سعودی سفارتی تعلقات میں کشیدگی کے بعد اس طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سعودی حکام نے پاکستان سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی فراغت کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے حال ہی میں مسلہ کشمیر پر مطلوبہ کردار ادا نہ کرنے پر سعودی عرب کے خلاف ایک سخت بیان داغا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں کشیدگی آگئی۔
دوسری طرف وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سعودی عرب کو راضی کرنے کے لیے اپنے وزیر خارجہ کو فارغ کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بار بار کی وعدہ خلافی کے بعد اب پاکستان چین، ترکی اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا رہا ہے خصوصا جب سعودی عرب کے شاہی خاندان نے پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ دوستی کو فوقیت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس صورتحال میں اہم سوال یہ ہے کہ اگر پاکستانی حکام سعودی عرب سے اتنا ہی مایوس ہو چکے ہیں تو پھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کس مقصد کے تحت سعودی عرب گئے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں پیدا شدہ تناؤ کو ختم کرنے کی خواہش وزیراعظم عمران خان سے زیادہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تھی جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور اعلیٰ سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی فوجی قیادت کے سعودی شاہی خاندان سے ہمیشہ ہی اچھے تعلقات رہے ہیں جس کی ایک نظیر سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا سعودی عرب میں موجود مسلم ممالک کی اتحادی افواج کا سربراہ ہونا بھی ہے لیکن فوج میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ اب پاکستان آرمی کی قیادت بھی سعودی عرب سے بددل ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے اس نے اپنا تمام تر وزن چین کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پاک سعودی تعلقات میں موجود تناؤ کو کس حد تک کم کرنے کی کتنی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں اور کس قیمت پر؟
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پانچ اگست کو مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک ٹی وی انٹرویو میں سعودی عرب پر شدید تنقید کی۔ اگرچہ سعودی عرب نے پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر باضابطہ طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن میڈیا کے مختلف اداروں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے بارے میں رپورٹیں شائع ہوئی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے سخت لہجے میں کہا تھا کہ اب پاکستان خود اس حوالے سے او آئی سی تنظیم کا اجلاس طلب کرے گا۔ وزیر خارجہ کے بیان کو او آئی سی میں سعودی عرب کی قیادت کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ ‘پاکستان آپ سے وہ کردار ادا کرنے کے لیے کہہ رہا ہے جس کی مسلمان آپ سے توقع کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ کشیدگی کا سبب بنے گا لیکن کشمیریوں کو مارا جارہا ہے۔’
یاد رہے کہ سعودی عرب پاکستان کو سب سے زیادہ قرض اور مالی مدد دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ اگرچہ سعودی عرب نے پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر باضابطہ طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پاکستان کی مالی امداد روکنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے پاکستان کو دی جانے والی تین ارب ڈالر قرض کی رقم میں سے بھی ایک ارب ڈالر واپس لے لیا ہے اور باقی کی واپسی کا بھی تقاضا کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے پاکستان کی مؤخر ادایگی پر تیل کی فراہمی جاری رکھنے کی درخواست پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جس میں 2018 سے جاری کی سہولت کو جاری رکھنے کی اپیل کی گئی تھی اور جس کی مدت رواں سال نو جولائی کو ختم ہو گئی تھی۔ اب تک پاکستان کو ایک سال میں 3.2 ارب ڈالر کے تیل کی قیمت کی دیر سے ادائیگی کی سہولت موجود تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر اس سہولت کی قرض لینے والے ملک کی درخواست سے پہلے ہی تجدید کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ آخری بار پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سنہ 2015 میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب نواز شریف دور میں پاکستان نے یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ افواج کی مدد کے لیے اپنی فوج بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر ہوئے۔ تاہم اس وقت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہیں جس کی ایک بڑی وجہ سعودی عرب کی بھارت سے بڑھتی ہوئی دوستی بھی ہے۔ اسی دوستی کی وجہ سے سعودی عرب نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینے کی بجائے بھارت کا ساتھ دیا ہے۔
اور یہی وہ حالات ہیں جس میں پاکستانی قیادت نے امریکہ اور سعودی جیسے اتحادیوں کے آنکھیں پھیرنے کے بعد چین ترکی اور ایران سے تعلقات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button