کپتان نے پرویزالٰہی کے احکامات پر عمل درآمد رکوادیا


وزیراعظم عمران خان اور ان کے اتحادی چوہدری برادران کے مابین تعلقات کشیدگی کی آخری حدوں کو چھونے لگے ہیں اور اب کپتان کے حکم پر پنجاب حکومت نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے انکار کر دیا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف سپیکر پنجاب اسمبلی کے احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ہے بلکہ ان کا اپنا استحقاق بھی مجروح ہوا ہے اور یہ معاملہ اب پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر پر بزدار حکومت کی جانب سے عملدرآمد روکے جانے کی وجہ سے وہ اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔ چنانچہ ن لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی افتخارحسین چھچھر کی درخواست پر اپوزیشن لیڈر کی عدم شرکت کے باعث سپیشل کمیٹی کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔ ن لیگ نے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہ کرنے کے معاملے کو سپیکر کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیاہے اور اس معاملے کو سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اپوزیشن لیڈر کی کور کمیٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سمیع اللہ خاں نے سیکرٹری اسمبلی محمد خاں بھٹی سے ملاقات کی اور انہیں اپوزیشن لیڈر کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ ہونے پر انہیں تشویش سے آگاہ کیا۔سمیع اللہ خان کا کہنا ہے کہ اس اہم معاملے پر سپیکر پنجاب اسمبلی سے رابطہ کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ سپیکر کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے پنجاب حکومت سے وضاحت مانگیں کیونکہ اس اقدام سے اپوزیشن لیڈر سمیت سپیکر پنجاب اسمبلی کا استحقاق بھی مجروح ہوا ہے۔ ہم اس کے بعد اپنا لائحہ عمل بنائیں گے.
ذرائع کے مطابق اپوزیشن حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کئے جانے کے معاملے پر پنجاب اسمبلی کے اجلاس کیلئے ریکوزیشن دینے پر بھی مشاورت کر رہی ہے۔ دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس روز کیلئے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے گئے تھے اسی روز لاہور کی مختلف عدالتوں میں ن لیگ کے 60 کے قریب گرفتار کارکنوں کو ضمانتوں کیلئے پیش کیا گیا اور پولیس لیگی کارکنوں کو عدالتوں میں لے جانے کیلئے ڈیوٹی پر معمور تھی جس وجہ سے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو جیل سے پنجاب اسمبلی میں نہیں لایا جاسکا۔ تاہم دوسری طرف ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ وزیراعظم کو بتایا گیا تھا کہ کہ بدلتی ہوئے سیاسی صورتحال کے دوران حمزہ شہباز شریف کو پروڈکشن آرڈرز کے ذریعے باہر لاکر ق لیگ کی قیادت ان کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں عثمان بزدار کی تبدیلی کے حوالے سے بھی معاملات طے کرنا چاہتی تھی چنانچہ وزیراعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ہوئے پنجاب حکومت کو یہ ہدایت کی کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد روک دیا جائے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت سابق صدر آصف علی زرداری ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے انکار کر چکی ہے لیکن اب پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے پہلی بار سپیکر کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہیں کیا۔
واضح رہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس گرفتار ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری کا اختیار نہیں تھا۔ تاہمگزشتہ برس وزیر خوراک عبدالعلیم خاں کو ریلیف دینے کیلئے پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر میں ترمیم کی گئی تھی اور سپیکر پنجاب اسمبلی کو پروڈکشن آرڈر کا اختیار دیا گیا تھا۔ اس ترمیم کے بعد عبدالعلیم خان نے اپنی قید کا زیادہ تر عرصہ انہی پروڈکشن آرڈرز کی سہولت استعمال کرتے ہوئے گزارا تھا۔تاہم اب کپتان نے یہ سہولت حمزہ شہزاد شریف کو دینے سے انکار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ حمزہ شہباز کو 11 جون 2019 میں نیب نے گرفتار کیا تھا۔ 12 جون کو ان کا پندرہ روز کا ریمانڈ دیا گیا تاہم سپیکر پنجاب اسمبلی نے 13 جون کو حمزہ شہباز کے بجٹ اجلاس کیلئے پروڈکشن آرڈرز جاری کر دئیے ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خاں حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے جانے پر خوش نہیں تھے تاہم اپوزیشن لیڈر سمیت ن لیگی لیڈر شپ نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر سپیکر پنجاب اسمبلی کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اسی روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے چیف وہیپ خلیل طاہر سندھوکی ایک قرارداد کے ذریعے 11 اگست 1947 کو قائد اعظم محمد علی جناح کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں تقریر کو ہر سطع پر نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کا مطالبہ کیا گیا اور اس قرارداد کو بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ قرارداد منظور کرنے پر بھی تکلیف ہے۔
یاد رہے کہ چوہدری برادران اور وزیراعظم عمران خان اتحادی ہونے کے باوجود پچھلے ایک برس میں ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کر پائے جس کی بنیادی وجہ عمران خان کی طرف سے پرہیز ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز پیشتر جب عمران خان لاہور کے دورے پر آئے تو انہوں نے اپنے قریبی رفقاء سے چوہدری برادران کے بارے میں سخت گفتگو کی اور خصوصا چوہدری پرویز الہی کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں کہ قاف لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے حال ہی میں ایک قرارداد کے ذریعے عثمان بزدار کی فراغت کی صورت میں پنجاب کا وزیر اعلی نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔ دوسری طرف اب چودھری برادران بھی عمران خان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ رہے ہیں۔ چوہدری برادران اب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اب ہم اس "بدنسل شخص” کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان ان اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا وزیر اعلی نہیں بنائیں گے. تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کے نام نہاد وسیم اکرم پس عثمان بزدار کی وزارت اعلی کا سورج بھی اب غروب ہوا چاہتا ہے. نیب نے بزدار کے خلاف شراب کی فروخت کا لائسنس پانچ کروڑ روپے کی رشوت کے عوض غیر قانونی طور پر جاری کئے جانے کے علاوہ بھی ان کی کرپشن کے کچھ او کیسز بھی تیار کر رکھے ہیں جن میں اب بزدار کو پیشیاں بھگتنا ہیں اور پھر استعفی بھی دینا ہے۔
مشکلات کے بھنور میں پھنسے ہوئے عثمان بزدار نے پچھلے دنوں اسپیکر پنجاب اسمبلی سے رابطہ کرکے ایوان سے اپنے حق میں اعتماد کی قرارداد منظور کروانے کے لیے مدد مانگی لیکن اسپیکر نے صاف جواب دے دیا جس کے بعد اب بزدار حکومت نے اپنے کپتان کے کہنے پر پرویز الہی کی جانب سے جاری کردہ حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button