کیا جہانگیر ترین پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں؟

عمران خان کے سابقہ ساتھی جہانگیر خان ترین اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کے مابین اختلافات کے خاتمے اور باقاعدہ صلح کے اعلان کے بعد اب جنوبی پنجاب کی سیاست میں دوبارہ ہلچل مچنے جا رہی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ترین پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔ سیاسی پنڈت اس صلح کو جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ سیاسی منظر نامے پر آنے والے دنوں میں کئی بڑے سرپرائز آنے والے ہیں اور اگر ترین پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تو اسے ایک نئی سیاسی زندگی مل جائے گی اعر اگلے الیکشن میں اسے فائدہ ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ مخدوم احمد محمود پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں گورنر پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔ وہ جہانگیر ترین کے قریبی رشتے دار بھی ہیں۔ جہانگیر ترین خان ماضی میں جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کے بڑے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے عمران خان کی حکومت بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جہانگیر ترین سیاسی حلقوں میں اثر رسوخ رکھنے کے علاوہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بھی قریب تصور کیے جاتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ نیا اتحاد مستقبل کی سیاست پر اثر مرتب کرے گا خصوصا اگر جہانگیر ترین نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن جہانگیر ترین کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انکا پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فوری امکان نظر نہیں آتا، ہاں الیکشن 2023 میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے پر کام ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ دونوں قوتیں مل کر جنوبی پنجاب میں عمران خان کا راستہ روکیں گے۔ یعنی ایک تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن دو مل کر 11 ہو جاتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں مخدوم احمد محمود ایک مضبوط سیاسی شخصیت ہیں۔ اگر پنجاب میں کہیں پیپلز پارٹی اب بھی اپنا وجود رکھتی ہے تو وہ جنوبی پنجاب ہی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں آزاد امیدواروں کی تعداد گزشتہ انتخابات میں کافی زیادہ تھی، جنہوں نے عمران کی حکومت بنانے کے لیے صورت حال کو فیصلہ کن بنا دیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو جہانگیر خان ترین اپنے جہاز میں بھر کر عمران خان کے پاس بنی گالہ لے جاتے رہے اور انہیں تحریک انصاف کا حصہ بناتے رہے۔ ان آزاد اراکین پر جہانگیر ترین کے علاوہ مخدوم احمد محمود کا اثرو رسوخ بھی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مخدوم احمد محمود اور جہانگیر ترین کی صلح اور سیاسی اتحاد اسی تناظر میں ہوا ہے۔
کچھ سیاسی مبصرین کے مطابق اس ’نئے سیاسی اتحاد‘ کی ضرورت مخدوم احمد محمود یا پیپلز پارٹی سے ذیادہ جہانگیر ترین کو ہے، جو جنوبی پنجاب میں اپنی سیاسی گرفت دوبارہ مضبوط کرنے کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ترین اور مخدوم کے اتحاد کا نقصان تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں کو ہو گا۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس اتحاد کا شاید اتنا فوری اثر نہیں ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ اگلے انتخابات میں کوئی فائدہ نکل آئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی سیاست کا مرکز و محور وفاقی حکومت ہے، اور چیزیں بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔
