ایاز امیر کے بیٹے نے سارہ کو آن لائن ڈیٹنگ ایپ سے پھنسایا

اسلام آباد میں سینئر صحافی ایاز امیر کے سفاک بیٹے کے ہاتھوں قتل ہونے والی سارہ نامی خاتون نے ایک آن لائن ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے شاہنواز سے دوستی کے بعد تین ماہ پہلے اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود شادی کرلی تھی حالانکہ وہ دبئی میں جاب کرتی تھی اور ہر مہینے صرف چند روز کیلئے پاکستان آتی تھی۔ یاد رہے کہ 22 ستمبر کو سابق پاکستانی سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے ہولناک قتل کے ایک برس بعد اسلام آباد میں ایک اور لرزہ خیز قتل کی واردات میں معروف لکھاری کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کے بیٹے شاہ نواز امیر نے کینیڈین شہریت کی حامل اپنی تیسری بیوی سارہ کو ایکسرسائز کرنے والے ڈمبل سے سر پر وار کر کے قتل کر دیا۔
شاہ نواز کی یہ ایک ہی برس میں تیسری شادی تھی، انکی پہلی دو شادیاں بھی ناکام ہو چکی ہیں، شاہ نواز اسلام آباد میں اپنے فارم ہائوس میں رہائش پذیر تھا، جو کہ اسکی والدہ کی ملکیت میں تھا جن کی ایاز امیر سے طلاق ہو چکی ہے۔ قاتل شاہنواز کی والدہ ایاز امیر سے پہلے سابق وزیر قانون دان عبد الحفیظ پیرزادہ کے نکاح میں رہی ہیں۔ اس لرزہ خیز قتل کی واردات کے وقت شاہ نواز کی والدہ گھر میں موجود تھیں۔
شاہنواز نے اپنی تیسری بیوی کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس کو دیئے گئے بیان میں اس نے بتایا کہ مجھے شک تھا کہ میری بیوی کا کسی سے افئیر چل رہا ہے۔ وہ رات ہی دبئی سے واپس آئی تھی جہاں وہ جاب کرتی تھی۔ بیان کے مطابق شاہنواز نے بتایا کہ میری بیوی نے مجھے اپنا افیئر نہ ہونے کا یقین دلا دیا تھا لیکن مجھے شک تھا کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتی ہے اور کسی دشمن ملک کی ایجنٹ ہے۔ شاہنواز نے دعوی کیا کہ رات سونے سے پہلے اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور میری گردن دبوچ لی جس پر میں نے اپنا دفاع کیا۔ لیکن صبح ساڑھے نو بجے اس نے ایک مرتبہ پھر مجھے گردن سے دبوچ لیا اور مجھے یوں لگا کہ جیسے میں مرنے والا ہوں لہٰذا میں نے ورزش کرنے والا ڈمبل اس کے سر پر مار دیا جس سے اس کی موت ہو گئی۔ میں نے سارہ کی لاش باتھ روم ٹب میں ڈال دی اور اسکی تصویر بنا کر اپنے والد ایاز امیر کو بھیجی جنہوں نے اسلام آباد پولیس کو فون کر کے واقعے سے آگاہ کیا۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں واردات کی اطلاع شاہ نواز کی والدہ نے فون کر کے دی۔ پولیو کے مطابق سارہ کی لاش پر جا بجا تشدد کے نشان تھے جن سے پتہ چلتا ہے کہ اسے مارنے سے پہلے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں نور مقدم کو قتل کرنے والے ظاہر جعفر کی طرح شاہنواز امیر بھی خود کو نفسیاتی مریض ثابت کر کے سزا سے بچنے کے لئے ڈرامے بازی کر رہا ہے، یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا قاتل وقوعے کے وقت شراب کے نشے میں تھا یا اس نے کوئی اور نشہ کیا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ ظاہر جعفر بھی وقوعے کے وقت نشے کی حالت میں تھا اور اس نے نور مقدم کا سر دھڑ سے جدا کر دیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ ایاز امیر نے اپنے قاتل بیٹے شاہ نواز کی پہلی شادی پچھلے برس سارہ نامی لڑکی سے کروائی تھی جو کچھ روز بعد ہی ختم ہو گئی۔ ایاز امیر نے چند مہینوں بعد بیٹے کی دوسری شادی کرائی تو شاہ نواز نے اس نے دلہن کو ولیمے کے اگلے روز ہی چلتا کر دیا، بتایا جاتا ہے کہ شاہ نواز نے پہلی دونوں شادیاں اپنے والد کی مرضی سے کیں اور دونوں ارینجڈ میرجز تھیں لیکن دونوں ہی شاہنواز کے اکھڑ پن کی وجہ سے ناکام ہو گئیں۔ شاہ نواز نے تین ماہ پہلے اپنی تیسری دلہن سارہ کا انتخاب سیک آن لائن میرج ایپ سے کیا تھا، سارہ کینیڈین شہریت کی حامل تھیں اور دبئی میں ملازمت کر رہی تھیں، وہ مہینے میں چند روز کے لیے پاکستان آتی تھیں اور چک شہزاد میں شاہ نواز کے پاس قیام کرتی تھی، ایاز امیر کا بیٹا کسی قسم کی ملازمت یا کاروبار نہیں کرتا تھا بلکہ والد کے پیسوں پر گزر بسر کرتا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ سارہ جب بھی دبئی سے پاکستان آتی تو شاہ نواز کو دو چار لاکھ دے جاتی لہٰذا وہ خوش تھا کہ اسکی اچھی جگہ شادی ہو گئی، شاہ نواز نے فارم ہائوس میں ایک جم بھی بنا رکھا تھا جس میں وہ ڈیپریشن سے بچنے کے لیے ورزش کرتا تھا کیونکہ اسے سارا دن کوئی کام کرنے کو نہیں ہوتا تھا۔ پولیس تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شاہ نواز اور سارہ کے اہلخانہ اس شادی کے حق میں بالکل بھی نہیں تھے، لیکن ان دونوں نے خود ہی سادہ طریقے سے شادی رچائی لی۔ اس مرتبہ جب سارہ دبئی سے پاکستان آئی تو شاہ نواز نے اس پر کسی سے افئیر ہونے کا الزام لگا دیا جس پر تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ شاہ نواز نشے میں تھے لہٰذا اس نے پہلے تشدد کیا اور پھر ورزش کرنیوالے ڈمبل سے سارہ کے سر پر مسلسل وار کر کے اسے قتل کر دیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل شاہنواز بااثر خاندان سے ہے لہٰذا اسے بچانے کے لیے اب یہ کہانی گھڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہے اور اس نے قتل بھی اسی حالت میں کیا۔ پولیس والوں کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو قاتل شاہنواز مقتولہ کی لاش کو ٹب میں ڈالنے کے بعد کمرے کا فرش دھو رہا تھا تاکہ خون کے نشانات مٹائے جا سکیں، لہذا یہ یقین کرنا ممکن نہیں کہ وہ نفسیاتی مریض ہے۔

Back to top button