کیا حزب کمانڈر سید صلاح الدین پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے؟

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غاصب فوج سے برسرپیکار حزب المجاہدین نے اپنے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین پر ایک قاتلانہ حملے کی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید صلاح الدین پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور حملے سے متعلق تمام بھارتی میڈیا رپورٹس پراپیگنڈہ ہیں۔
واضح رہے کی بھارتی میڈیا پر متحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین پر حملہ کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان پر 25 مئی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسی نامعلوم شخص نے قاتلانہ حملہ کیا جس میں سید صلاح الدین زخمی ہوئے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حملے کی وجہ ان کی جہاد کشمیر کے حوالے سے پاکستانی انٹیلی جینس اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات تھے۔ بھارتی میڈیا یہ گمراہ کن پروپیگنڈا بھی کررہا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سید صلاح الدین کی طرف سے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اٹھائے جانے والے اقدامات سے ناراض ہے اور اسی لیے ان پر حملہ کروایا گیا ہے۔ بعض بھارتی ٹی وی چینلز پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ سید صلاح الدین پر حملہ حزب المجاہدین کے ذمہ داران کی ایماء پر ہی کیا گیا ہے چونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے حزب میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور سید صلاح الدین کے نئی حکمت عملی سے انکی بعض قریبی ساتھی ناخوش ہیں ۔ حزب المجاہدین کے بعض کمانڈروں کا خیال ہے مقبوضہ کشمیر میں ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد حزب المجاہدین کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے لیکن صلاح الدین اس سے متفق نہیں تھے۔ تاہم اب حزب المجاہدین کی طرف سے ان پر حملے کی تردید کر دی گئی ہے۔
حزب ترجمان سلیم ہاشمی کی طرف سے سید صلاح الدین پر حملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حزب بھارتی میڈیا پر نشر کی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں اور انکا مقصد غلط فہمیاں پھیلانا ہے۔ ترجمان نے بھارتی میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ آپ ے عوام کو چینی افواج کے سامنے اپنے فوجیوں کی بے بسی اور بے کسی کی کہانی سنائیں اور ایسی بے بنیاد خبروں سے بھارتی عوام کا دل بہلانے کی کوششیں مت کریں۔۔ایسی کوششوں سے زمینی حقائق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
یاد رہے کہ سید صلاح الدین بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومتی افواج سے برسر پیکار سب سے بڑی کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔ سید صلاح الدین کو 1992ء میں حزب المجاہدین کا امیر منتخب کیا گیا تھا. بھارت کی طرف سے الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں رہ کر کشمیر میں عسکری مہم چلا رہے ہیں۔ انڈیا نے مئی 2011 میں پاکستان کو جن 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست دی تھی اس میں صلاح الدین کا نام بھی شامل تھا جبکہ بعد ازاں پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سید صلاح الدین کا نام لئے بغیر کہا گیا تھا کہ ایسے افراد جو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے حامی ہیں، انھیں دہشت گرد قرار دیا جانا ایک بلاجواز اقدام ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 70 سال سے جاری تحریک جائز ہے اور پاکستان حقِ خود ارادیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کشمیری عوام کی جائز کوششوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ سید صلاح الدین کے خاندان کے افراد مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں جبکہ وہ خود راولپنڈی میں قیام پذیر ہیں۔ جون 2017 میں امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے گئے کشمیری عسکری رہنما سید صلاح الدین کا اصل نام سید یوسف شاہ ہے اور وہ فروری 1948 میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام میں پیدا ہوئے۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ ہونے کے علاوہ وہ معروف کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر ہیں۔ حزب المجاہدین سمیت ‘متحدہ جہاد کونسل’ میں شامل دوسری کئی تنظیمیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت میں شامل رہی ہیں۔عسکری تحریک میں شامل ہونے سے قبل سید صلاح الدین ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی طور پر بھی کافی سرگرم رہے اور 1987 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔ تاہم متنازع نتائج کی وجہ سے سیاست چھوڑ کر عسکریت پسندی اختیار کر لی۔ 1996 میں لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے والے سید صلاح الدین کو 14 عسکری تنظیموں کے اتحاد ‘متحدہ جہاد کونسل’ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ سید صلاح الدین اپنی مادری زبان کشمیری کے علاوہ اردو اور انگریزی پر بھی مہارت رکھتے ہیں اور انگریزی زبان میں شاعری بھی کرتے رہے ہیں۔ 2017 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہِ امریکہ کے دوران واشنگٹن نے حزب المجاہدین پر پابندی عائد کی اور سید صلاح الدین کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔ تاہم پاکستان اور کشمیر کے لوگ ان کو ایک فریڈم فائٹر مانتے ہیں۔
