کیا داسو پراجیکٹ کا مستقبل خطرے میں ہے؟

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کے باوجود تاحال پاکستانی ملازمین کو واپس آنے کا نہیں کہا گیا۔ دوسری طرف مقامی افراد نے داسو میں فوج کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوۓ اس منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ یاد ریے کہ 14 جولائی کو دہشت گردانہ حملے میں نو چینی انجنیئرز اور چار پاکستانیوں کی جاں بحق ہونے کے اندوہناک واقعے کے بعد داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر تاحال کام شروع نہیں ہو سکا تاہم چینی حکام کے تحفظات دور کرنے اور سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے علاقے میں 8 سو فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ چین کی جانب سے 14 اگست کو داسو پراجیکٹ پر کام شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے تاہم اس پراجیکٹ سے منسلک دو ہزار کے قریب پاکستانی مزدوروں میں سے کسی ایک کو بھی کام پر واپس آنے کے لئے نہیں کہا گیا جس سے منصوبے کی بروقت تکمیل کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں مقامی افراد کو یہ بھی خدشہ ہے فوجی چیک پوسٹوں سے نہ صرف انہیں آمدورفت میں مشکل ہوگی بلکہ فوج کے پیچھے طالان دہشت گرد بھی اس علاقے میں داخل ہونے کی کوش کریں گے جس سے علاقے کا امن متاثر ہوگا۔ اس واقعے کے بعد چینی کمپنی غضوبہ نے پاکستانی عملے جس کی تعداد دو ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے کو کام سے فارغ کر دیا تھا لیکن ایک روز بعد نوٹس واپس لیا گیا۔ پراجیکٹ سے عید کی چھٹی پر گھروں کو روانہ ہونے والا عملہ نوکری پر بحال تو کر دیا گیا ہے لیکن عملے کے بہت سے ارکان سمیت سینکڑوں مزدور اب بھی کام پر واپسی کے منتظر ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وہاں موجود چار چینی کمپنیوں میں سے ایک داسو آفیسرز کالونی میں محدود کام کر رہی ہے۔مرکزی شاہراہ قراقرم پر واقع برسین کیمپ سے پانچ سو میٹر کی دوری پر جہاں ایک گاڑی چینی کمپنی کی بس سے ٹکرائی تھی، اب بھی وہاں اس بس کی سیٹ اور کچھ حصوں کے جلے ہوئے ٹکڑے موجود ہیں اور اردگرد کی گھاس پھوس اور جھاڑیاں جلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔مقامی افراد بتاتے ہیں مرکزی شاہراہ پر وی آئی پی موومنٹ تب ہی ہوتی ہے جب کوئی اہم چینی یا پاکستانی وفد یہاں آتا ہے۔ رابطہ کرنے پر چینی کمپنی کے ایک اہلکار بتایا کہ فوج آ چکی ہے تو سننے میں آرہا ہے کہ 14 اگست تک کام شروع کر دیا جائے گا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ جب تک کمپنی حتمی اعلان نہیں کرتی ہم لوگ کام پر واپسی کے حوالے سے پر یقین نہیں ہو سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی تو اس پراجیکٹ کا 15 فیصد کام بھی پورا نہیں ہوا۔
بی بی سی کے مطابق مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ داسو میں فوج پہنچ تو چکی ہے لیکن ابھی وہاں باضابطہ طور پر سکیورٹی کا چارج نہیں سنبھالا۔ وہاں پہنچنے والے کئی فوجی اہلکار ابھی علاقے کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی غیر فعال عمارت تک محدود ہیں۔ یہ پراجیکٹ واپڈا کے زیر انتظام ہو رہا ہے۔ واپڈا اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے کہا گیا تھا کہ 28 جولائی کو کام شروع ہو گا لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ کام ہو رہا ہے، چھوٹے موٹے کام شروع ہیں، سکیورٹی کے لیے بجلی بحال کرنی تھی وہ کی ہے، پانی کا لیول بھی بڑھ گیا تھا اسے نکالنا تھا، اہم کام غضوبہ کے پاس ٹنل میں کرنا ہے، لیبر اور سٹاف کو ابھی نہیں بلایا ہے۔ جہاں الیکٹریشن اور پلمبر کی ضرورت تھی اس کو بلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ کام بند ہونے پر بہت مایوس ہیں۔ ان کا آپس میں لین دین اسی امید پر تھا کہ کام ملے گا۔ اوپر بازار بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ علاقے میں تقریباً 800 سے زیادہ فوجی اہلکاروں کی آمد، کچھ چیک پوائنٹس پر پوچھ گچھ اور اوپر کمیلہ بازار میں رکھے پتھر مکینوں کو دھماکے کے بعد اپنے علاقے میں آنے والی تبدیلی کا پتہ دے رہے تھے۔ واپڈا کے اہلکار نے بتایا کہ چینیوں کے سکیورٹی کے مطالبے پر فوج داسو شہر میں آئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوارٹر میں جو کہ زیر تعمیر تھا، آٹھ سو کے قریب فوجی اہلکار آگئے ہیں اور کچھ آرمی 35 کلومیٹر دور پٹن میں ہے، جو اس واقعے کے بعد آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ’ریزروائر کا علاقہ 64 کلومیٹر ہے۔ پہلے پولیس والوں کی جانب سے اتنی چیکنگ نہیں ہوتی تھی اب وہ پوچھتے ہیں کہ کہاں سے آ رہے ہیں کدھر جا رہے ہو۔ واضح رہے کہ علاقے میں چیک پوائنٹس کا اضافہ تو ہوا ہے لیکن ابھی فوج کو تعینات نہیں کیا گیا اور پولیس اہلکار ہی سکیورٹی سنبھالے ہوئے ہیں۔
فوج نے علاقے میں پہنچنے کے چند روز بعد اپنی آمد کا باضابطہ اعلان کرنے کے لیے تین اگست کی سہ پہر 60 افراد کا امن جرگہ داسو سرکٹ ہاؤس میں بلوایا۔پاکستانی حکام نے دو مشتبہ افراد کو جن کا تعلق لاہور سے ہے، بلوچستان سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کچھ گاڑیوں کی فوٹیج بھی شئیر کی جا رہی ہے کہ مبینہ طور پر ان میں سے ہی کوئی گاڑی چینی کمپنی کی بس سے 14 جولائی کو ٹکرائی ہو گی۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے برگیڈئیر حبیب اللہ نے کہا کہ داسو بس دھماکہ ایک دہشت گرد نے کیا، یہ کام مقامی سپورٹ کے بغیر ممکن نہ تھا، دہشت گرد کہاں کہاں گیا اور رات کہاں ٹھہرا، سب پتہ چل گیا ہے، عنقریب حقائق سامنے آ جائیں گے۔ جرگے میں شریک مقامی رہنما ملک میر ہزار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بی بی سی سے فون پر گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ ہم نے فوج کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے کیونکہ اس سے پہلے جب سوات میں دہشت گرد آئے تھے تو ہم نے فوج سے کہا تھا کہ آپ یہاں مت آئیں ہم اپنے علاقے کی حفاظت خود کریں گے۔انھوں نے بتایا کہ ’سنہ 1983 میں ہزاروں چینیوں نے شاہراہ ریشم بنائی کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ سوات کی سرحد تھی اس وقت بھی فوج ادھر آئی ہم نے فوج کو کہا کہ آپ کے پیچھے طالبان آئیں گے، آپ ہمارے علاقے میں مت آئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر فوج نے ہمارے معاملات میں مداخلت کی تو مسئلہ بنے گا لیکن بریگیڈیر صاحب نے باور کروایا ہے پولیس چیکنگ کرے گی فوجی اہلکار صرف وہاں کھڑے ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں ہمیں فوجی حکام نے بتایا ہے کہ ’آپ کے مقامی معاملات میں مداخلت نہیں ہوگی، روایات کا احترام کیا جائے گا داسو ڈیم اور واپڈا کے معملات سے فوج کا تعلق نہیں ہوگا، فوج صرف سکیورٹی دیکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تجویز دی ہے کہ بے شک لگائیں آپ چیک پوسٹ لیکن مقامی لوگوں کو کوئی پاس دیں تاکہ رجسٹرڈ مقامی لوگوں کو تلاشی کی مشقت سے نہ گزرنا پڑے۔
