ارشد ندیم بھی میڈل جیتتے تو خوشی ہوتی

بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہوتی اگر پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم بھی میڈل جیتنے کے بعد ان کے ساتھ پوڈیم شیئر کرتے ، نیرج چوپڑا نے کہا کہ ’اگر ارشد بھی میڈل جیت جاتے تو ایشیاء کا نام ہوجاتا۔
پاکستان کے ارشد ندیم نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فائنل میں جگہ بنائی تھی تاہم ارشد ندیم نے 84.62 میٹر کی تھرو کے ساتھ 5ویں پوزیشن حاصل کی۔ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے مابین جب بھی کھیل کے میدان میں مقابلہ ہو تو دونوں ملکوں کے عوام بھی جذباتی ہوجاتے ہیں اور ٹی وی چینلز پر اس دوران جنگ جیسے الفاظ کا استعمال ہونا عام سی بات ہوتی ہے۔
جیولن تھرو کے فائنل میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا جو نیرج کو بالکل پسند نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کرکٹ میں یہ سب چل جاتا ہے کیونکہ 7، 8 ممالک ہوتے ہیں، لیکن اولمپکس میں یہ سب کرنا ٹھیک نہیں‘۔ اولمپکس کی اختتامی تقریب سے پہلے بھی نیرج اور ارشد کا کھانے کے ہال میں آمنا سامنا ہوا۔ نیرج کہتے ہیں کہ ’ارشد نے انہیں ایک بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ مبارکباد دی، میں نے اسے کہا کہ وہ اپنے قومی لباس میں تگڑا لگ رہا ہے، اس نے اچھا کھیلا، میں نے اس کے مستقبل کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا‘۔
واضح رہے کہ 24 سالہ ارشد ندیم پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے اولمپکس گیمز میں جیولن تھرو میں ملک کی نمائندگی کی۔ ارشد ندیم نے 2019ء میں 13ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں طلائی تمغہ حاصل کرکے ٹوکیو اولمپکس 2020ء کیلئے براہ راست کوالیفائی کیا۔ وہ وائلڈ کارڈ اینٹری کی بجائے براہ راست اولمپکس کیلئے کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے جکارتہ میں کھیلی گئی ایشین گیمز میں بھی کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان نے اولمپکس میں 1992ء میں آخری تمغہ حاصل کیا تھا جب قومی ہاکی یم سپین میں کھیلے گئے بارسلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔
