کیا دبئی کی قید شہزادی لطیفہ کو آزادی مل گئی؟


دبُئی کے جابر حکمران شیخ راشد مکتوم کی برسوں سے قید بیٹی شہزادی لطیفہ کے آزاد ہونے کے آثار ملنے لگے ہیں۔ انسٹاگرام پر لطیفہ کی نظر آنے والی تازہ ترین جھلک سے اندازہ ہورہا ہے کہ وہ اب کافی حد تک آزادی کے ساتھ سفر کر رہی ہیں۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی لطیفہ کی انسٹا گرام پر پوسٹ ہونے والی اس نئی تصویر کو دراصل ان کے اماراتی علاقے میں عوامی مقامات پر آزادی سے گھومنے کی جھلک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ امارات کا وہی علاقہ ہے جس کے بارے میں لطیفہ نے ماضی میں کہا تھا کہ انہیں وہاں اغوا کر کے رکھا گیا ہے۔ لطیفہ کی آزادی سے گھومنے پھرنے کی تصدیق ان کی آزادی کے لیے مہم چلانے والے ایک گروپ کے ایک وکیل نے روئٹرز کو بیان دیتے ہوئے کی۔
واضح رہے کہ ان تازہ ترین تصاویر کے منظر عام پر آنے سے چند روز قبل ہی انسٹا گرام پر شیئر کی گئی ایک تصویر میں شہزادی لطیفہ کو دُبئی کے ایک مال میں خریداری کرتے اور ‘ مال آف دی ایمیرٹس‘ ایم او ای میں دیگر دو خواتین کیساتھ دیکھا گیا تھا۔ یاد رہے کہ دبُئی کی شہزادی لطیفہ کی 2018 ء میں گرفتاری کے بعد سے عالمی سطح پر متعدد این جی اوز اور سماجی کارکنوں نے ان کی بازیابی اور انہیں آزادی دیے جانے کے مطالبے کی مہم چلائی تھی۔ ان ہی میں سے ایک ”فری لطیفہ کیمپین‘‘ کے شریک بانی ڈیوڈ ہائے نے انسٹاگرام پر انکی نئی تصویر دیکھنے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ "آخر کار ہمیں لطیفہ سفر کرتی اور زندگی انجوائے کرتی نظر آ رہی ہیں جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ان کے پاس ان کا پاسپورٹ واپس آ چکا ہے اور اب انہیں کافی حد تک گھومنے پھرنے کی آزادی میسر ہے، یہ سب بہت مثبت اشارے ہیں۔‘‘
‘فری لطیفہ کیمپین‘‘ کے شریک بانی ڈیوڈ ہائے کا مزید کہنا تھا کہ میں اس امر کی تصدیق کرتا ہوں کہ لطیفہ نے اس مہم میں شریک متعدد ٹیموں سے براہ راست رابطہ کیا ہے۔ دریں اثناء متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ اور دُبئی حکومت کے میڈیا آفس نے اس خبر پر تبصرے کی درخواست کے باوجود اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس فروری میں برطانوی نشریاتی ادارے نے لطیفہ کی ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں انہوں نے یہ پیغام دیا تھا کہ ایک وِلا میں قید کر کے ان کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی جہاں سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر لطیفہ کے اغوا کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی وہاں دنیا بھر میں لطیفہ کی رہائی اور ان کی آزادی پر لگنے والی قدغن کے خلاف زور و شور سے احتجاج شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نگراں اداروں اور ماہرین نے خلیجی ریاست دبُئی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر لطیفہ کے زندہ سلامت ہونے کا ثبوت پیش کرے اور اُن کی رہائی عمل میں لائی جائے۔
یاد رہے کہ 35 سالہ لطیفہ نے 2018 میں اپنے والد کی پابندیوں اور کنٹرول سے فرار ہونے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے بحرِ ہند کے سمندری راستے کا انتخاب کیا تھا اور ایک کشتی میں سوار ہو چُکی تھیں، تاہم ان کے والد کے کمانڈوز نے انکا پیچھا کر کے زبردستی کشتی سے اتار لیا تھا۔ یاد رہے کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم دبُئی کے حکمران ہونے کیساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر بھی ہیں اور انکی متعدد بیویوں سے ہونے والے بچوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ شیخ محمد کی یہ بیٹی ‘لطیفہ‘ اپنے معاشرتی اقدار سے نالاں اور سماجی روایات کو رد کرکے ایک آزاد رندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لطیفہ کے بقول انہیں تین سال نظر بند رکھا گیا جس کے بعد وہ اپنے معالجین کی مدد سے اسپتال منتقل ہوئیں تھیں۔

Back to top button