کیا دوراہے پر کھڑے اپوزیشن اتحاد کا مستقبل تاریک ہے؟

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے 16 مارچ کے اسلام آباد اجلاس کو پی ڈی ایم کی مختصر تاریخ کا سب سے سنسی خیز اجلاس قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اس اجلاس نے نہ صرف اتحاد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اپوزیشن کو بھی ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا جس کی بنیادی وجہ اسمبلیوں سے استعفوں پر اختلاف رائے ہے۔
ستمبر 2020 میں وجود میں آنے والا اپوزیشن کا اتحاد صرف چھ ماہ میں ہی مختلف نشیب و فراز کا شکار ہوتے ہوئے 16 مارچ کو لرزتا نظر آیا۔ اجلاس سے پہلے بھی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اپوزیشن کے اندر لانگ مارچ سے قبل ہی استعفوں کے معاملے پر اختلافات ہیں تاہم کسی کو یہ نہیں پتا تھا کہ یہ اختلاف اتنے شدید ہو جائیں گے کہ ایک دوسرے کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے۔ اسلام آباد میں سربراہی اجلاس شروع ہوا تو میڈیا نے ذرائع سے یہ خبریں دینا شروع کر دیں کہ آصف زرداری نے اپنی جماعت کے استعفوں کو نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کر دیا ہے اور انہیں جیل جانے سے نہ ڈرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جواب میں مریم نواز نے سوال کیا کہ کیا آصف زرداری میاں صاحب کی واپسی پر انکی زندگی کی ضمانت دے سکتے ہیں؟ زرداری نے جواب دیتے ہوئے مریم سے کہا کہ میں نے 14 سال جیل کاٹی ہے اور آئندہ بھی جیل جانے سے نہیں گھبرآؤں گا۔ اگر ہم نے حکومت کو گھر بھیجنا ہے تو ہم سب کو جیل جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں کو پیپلز پارٹی کے استعفے چاہئیں تو ضروری ہے کہ میاں صاحب واپس آئیں تاکہ ہم اپنے استعفے ان کے ہاتھ میں دے سکیں۔
اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں استعفوں کے معاملے پر گرما گرم بحث کے بعد ماحول سنجیدہ ہو گیا۔ عام طور پر مسکراتے نظر آنے والے رہنما تو بہت ہی سنجیدہ نظر آ رہے تھے ۔ جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا غٖفور حیدری اجلاس کے دوران باہر آئے تو صحافیوں نے انہیں گھیر لیا اور سوالات شروع کردیے، تاہم وہ چپ چاپ گاڑی کی طرف بڑھتے رہے۔ انہوں نے مختصر بات کر کے اختلافات کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اجلاس میں بہت تلخ باتیں ہوئی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں، نرم گرم گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد میں دس جماعتیں شامل ہیں اس کیے ہم مل کر فیصلہ کریں گی۔ یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گئے۔
اس موقع ہر پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ باہر آئے تو تیز تیز چلتے ہوئے صحافیوں سے دور جانا شروع چلے گئے۔ تاہم انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ سب اچھا ہے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ تاہم اس وقت تک سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ اندر سب اچھا نہیں ہے اور آصف زرداری نے نواز شریف کو واپس آ کر بہادری دکھانے کا چیلنج دے دیا ہے۔
اس حوالے سے سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم اتحاد سے باہر جاتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان اسی جماعت کو ہو گا کیونکہ اس سے یہ تاثر جائے گا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی جماعت بن گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی مقبولیت متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کا کاؤنٹر تھیسیس دیتے ہوئے سینئر صحافی افتخار احمد کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا پارلیمنٹ کے اندر رہ کر حکومت کے خلاف سیاسی جنگ لڑنے کا فیصلہ عقل و فہم پر مبنی ہے جبکہ نواز لیگ اور جمیعت علماء اسلام کی قیادت جذباتیت پر مبنی فیصلے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں ضیا دور میں اسمبلیوں سے استعفے دینے کی غلطی کا بہت بڑا خمیازہ بھگت چکی ہے اور اب وہ دوبارہ وہی غلطی نہیں دوہرانا چاہتی۔ انکا کینا تھا کی اگر نواز شریف یہ چاہیں کہ وہ خود باہر بیٹھے رہیں اور اپوزیشن ان کی جنگ لڑنے کے علاوہ اسمبلیوں سے بھی بکل جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن اور میاں نواز شریف واقعی ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دے کر لانگ مارچ سے حکومت کو ختم کر دیں گے تو پھر انہیں پیپلز پارٹی کے بغیر ہی دونوں کام کر دینے چاہییں تاکہ حکومت ختم ہو جائے۔ حامد میر کا کہنا تھا بجائے کہ پیپلز پارٹی کو یہ کہا جاتا کہ آپ اپنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلا کر استعفوں کے معاملے پر اتفاق رائے کی کوشش کریں، مسلم لیگ نون اور پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کو استعفے دے کر لانگ مارچ شروع کر دینا چاہیے۔
دوسری جانب ہوا اسکے برعکس اور نواز شریف اور مولانا نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اور اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پیپلزپارٹی کے پی ڈی ایم سے نکلنے کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد بے اثر اور بے وقت ہو جائے گا، یہ فیصلہ کیا کہ 26 مارچ کا لونگ مارچ ملتوی کردیا جائے اور پیپلز پارٹی کو دوبارہ سوچنے کا موقع دیا جائے۔
تاہم اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اس فیصلے کا اعلان جسم انداز میں کیا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنا فیصلہ نہیں بدلنا اور اسکے ممبران اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیں گے۔ اپنی گفتگو پر مہارت کے لیے مشہور مولانا فضل الرحمن صرف لانگ مارچ نہ کرنے کا اعلان کر کے چل دیے۔ اس موقع پر مریم نواز کی طرف سے انہیں درخواست بھی کی گئی کہ مولانا صحافیوں کے سوالات کے جواب دے دیں مگر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ کا اس اہم پریس کانفرنس کو چھوڑ کر یوں جانا صحافیوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ اس کے بعد مسلم لیگ نواز کے سینیئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مریم نواز کو مشورہ دیا کہ وہ بھی پریس کانفرنس ختم کر دیں تاہم سابق وزیراعظم کی صاحبزادی وہیں کھڑی رہیں۔ شاہد خاقان کی جانب سے انہیں دوسری بار بھی کہا گیا مگر پارٹی عہدے میں ان سے جونیئر مریم نواز نے سوالات کے جوابات دینے کا فیصلہ کیا جس پر شاہد خاقان عباسی بھی پریس کانفرنس چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ تاہم مریم نے نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے اپنا موقف میڈیا کے سامنے رکھا اور کئی سوالوں کے جوابات دیے۔
ان حالات میں کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ 16 مارچ کا اپوزیشن اتحاد کا اجلاس اسکا آخری اجلاس ثابت ہو۔ تاہم اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ استعفوں کے معاملے پر آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کو راضی کر لیں اور اتحاد کو بچا لیں۔
