زرداری مان جائیں گے یا پھر اپوزیشن کو منائیں گے؟

اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں میں اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر اختلافات پیدا ہونے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا آصف زرداری اپنی جماعت کا استعفے نہ دینے کا فیصلہ بدل پائیں گے یا پھر پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں ان کا فیصلہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو پایا تو پھر پی ڈی ایم اتحاد ٹوٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
معلوم ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو 26 مارچ سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن معاملہ تب گڑبڑ ہوا جب مسلم لیگ نون اور جمعیت علماء اسلام کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ لانگ مارچ شروع کے ساتھ پی ڈی ایم کی تمام اتحادی جماعتیں اسمبلیوں سے استعفوں کی یقین دہانی بھی کروائیں۔ تاہم آصف زرداری کا اصرار تھا کہ حکومت کے خلاف جنگ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر رہ کر لرنی چاہیے اور استعفوں کا مطلب عمران خان حکومت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ جب اس معاملے پر اپوزیشن اتحاد کی دیگر جماعتوں کا دباؤ بڑھا تو آصف زرداری یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ انکی جماعت استعفے دینے کو تیار ہے لیکن نواز شریف پاکستان آئیں تاکہ استعفے ان کے حوالے کئے جائیں۔ اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں استعفوں کے معاملے پر ڈیڈ لاک کے بعد مولانا فضل الرحمن کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کرنا پڑا جس کے بعد سے اب یہ افواہیں گردش میں ہیں کہ پی ڈی ایم ٹوٹنے جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ صرف اپوزیشن اتحاد کو بچانے کے لئے کیا گیا ہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا فیصلہ اٹل ہے اور اس کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اپنا موقف تبدیل نہیں کرے گی۔
گذشتہ چھ ماہ سے اگر آپ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو ہر کچھ روز بعد آپ کی ٹی وی سکرینز پر حزب اختلاف کے اتحاد کے حوالے سے ‘پی ڈی ایم ناکام’ اور ‘پی ڈی ایم کامیاب’ جیسے دعوے سامنے آتے نظر آئے ہوں گے۔ اگر ماضی میں ہونے والے کچھ واقعات پر نظر ڈالیں تو نواز شریف اور مریم نواز کی سخت لہجے میں فوجی اسٹیبلشمینٹ کے سیاسی کردار کے خلاف کی جانے والی تقاریر کو پی ڈی ایم کی کامیابی تصور کیا جاتا ہے جبکہ حزب اختلاف کی قیادت کے آپسی اختلافات کو ان کی ناکامی گردانا جاتا ہے۔
یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ انتخاب میں جیت نے پی ڈی ایم تحریک میں نئی روح پھونک دی تھی جبکہ ان کی سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں ہار کو پی ڈی ایم کی ایک بڑی شکست قرار دیا جا رہا ہے جس کے بعد لانگ مارچ بھی ملتوی کرنا پڑگیا اور اپوزیشن اتحاد بھی اختلافات کا شکار ہوگیا۔ ایسا ہی کچھ گذشتہ 16 مارچ کو ہونے والے پی ڈی ایم کے مشترکہ اجلاس کے بعد سے سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ایک طرف تو بونگی آنٹی کہلانے والی فردوس عاشق اعوان نے یہ اعلان کردیا ہے کہ اپوزیشن اتحاد اب وینٹیلیٹر پر ہے اور کسی بھی وقت اس کے انتقال کی خبر آ سکتی ہے جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ نے کسی کی موت کے وقت تعزیت کے طور پر ادا کیے جانے والی اصطلاح ‘آر آئی پی’ یعنی ریسٹ ان پیس کو پی ڈی ایم سے جوڑ کر ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا ہے۔ اس ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وفاقی اور صوبائی اراکین بھی ٹویٹ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن نے مریم نواز کے حق میں ایک ٹرینڈ چلایا ہے اور دونوں اطراف سے سے پی ڈی ایم کی ناکامی و کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ روز پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان سامنے آیا۔ اس اجلاس کے دوران آصف زرداری نے اسمبلیون سے استعفوں کو نواز شریف کی واپسی سے مشروط کر دیا جس پر مریم نواز کی جانب سے بھی سخت ردِ عمل سامنے آیا۔ مریم اور زرداری کے اس دلچسپ مکالمے کی خبریں اپوزیشن اجلاس کے دوران ہی تمام ٹی وی چینلز پر چلائی جا چکی تھیں جس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مختصر اعلان کرنے کے بعد وہاں سے چلے جانا بھی زیرِ بحث ہے۔ یاد ریے کہ مریم نواز شریف نے ان کو روکنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ وہ میڈیا کے سوالوں کا جواب دیں لیکن مولانا کے پاس شاید کہنے کے لئے کچھ باقی نہیں بچا تھا۔
اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ کے صوبائی وزیر تیمور خان جھگڑا نے امریکی ڈرامہ سیریز ہاؤس آف کارڈز کا ایک ڈائیلاگ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیشہ دوست ہی بدترین دشمن بنتے ہیں۔’ اکثر صارفین مقامی چینل اے آر وائی کے پروگرام پاورپلے میں مریم نواز کا ایک کلپ شیئر کر رہے ہیں جس میں وہ ایک جلسے میں اپنی تقریر کے دوران طنزاً ہنستے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ‘پی ڈی ایم میں لڑائی ہو گئی ہے۔’ استعفوں کی بحث کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی پی پی رکن پارلیمان شازیہ مری نے ٹویٹ کیا کہ ‘لانگ مارچ اور استعفے دو الگ آپشنز ہیں۔ آج سے پہلےکبھی لانگ مارچ کو استعفوں سے نہیں جوڑا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ پی پی پی نے پارلیمانی آپشنز استعمال کرنے پر پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کو قائل کیا اور حکومت کو شکست دی۔ انکا مذید کہنا تھا کہ سات ضمنی انتخابات میں شکست اور یوسف رضا گیلانی کی کامیابی نے سلیکٹڈ حکومت کی بنیاد ہلا دی۔
لیکن مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز سے منسلک صحافی اور تجزیہ کا مظہر عباس نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم تحریک کو جمہوری پروٹوکول کے ساتھ بالآخر سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ تمام رہنماؤں نے اس کی آخری رسومات میں شرکت کی اور کچھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی۔ میں نے خود حزب مخالف اتحاد کو اسلام آباد میں منہدم ہوتے دیکھا۔ پی ٹی آئی اب پی پی پی کی جانب سے نامزد کردہ شخص کی سینیٹ میں بطور رہنما حزبِ اختلاف حمایت کر سکتی ہے۔
اکثر سوشل میڈیا صارفین نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ماضی میں ہونے والے اختلافات کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ اس بات کے امکانات تو بہت عرصے سے تھے کہ دونوں کے درمیان پھوٹ پڑ سکتی ہے۔ کچھ لوگ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے اس اتحاد کے آغاز میں ہی دیے گئے بیان کی نشاندہی کرتے دکھائی دیے جس میں انھوں نے آصف علی زرداری سے شراکت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ آصف زرداری کی جانب سے استعفوں پر ہچکچاہٹ کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ موجود ہے اور وہ افغانستان میں امن عمل سے متعلق کسی بھی ٹھوس معاہدے سے قبل یہ نہیں چاہے گی کہ یہاں حکومت میں تبدیلی آئے۔
اس دوران سوشل میڈیا پر ‘ایک زرداری سب پر بھاری’ جیسی ٹویٹس بھی دیکھنے کو ملیں اور جہاں کچھ صارفین زرداری کی سیاسی بصیرت کے مداح دکھائی دیے تو کچھ انھیں ‘اپنے مفاد پر سمجھوتا نہ کرنے والا سیاست دان’ کرتے نظر آئے۔ اس بارے میں صحافی ضیا الدین نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا ‘کیا آپ کو یاد ہے کہ زرداری نے ہی نواز شریف کو 2008 کے الیکشنز میں حصہ لینے پر آمادہ کیا تھا جب وہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ بن کر اس کے بائیکاٹ کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اے پی ڈی ایم چوہدری نثار کا منصوبہ تھا اور آصف زرداری کے مشورے پر ہی نواز شریف نے الیکشنز میں حصہ لینے کے بارے میں سوچا تھا۔
جہاں ہر کوئی گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تبصرہ کر رہا ہے وہی سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ڈی ایم جماعتوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ ماضی سے سیکھ کر اپنے نظریے میں کیا تبدیلی لا سکتے ہیں اور انھیں کیا لگتا ہے کہ نظام میں کیا غلط ہے جس کو ٹھیک کرنا ضروری یے۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ کا جواب عمران خان اور تحریک انصاف کے گرد گھومتا ہے تو آپ کا نظریہ مختلف ہو گا، لیکن اگر یہ اس سے کہیں وسیع ہے تو آپ کا جواب مختلف ہو گا۔’ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو سوچنا ہو گا کہ وہ اپنی پہچان کیا بنانا چاہتی ہیں اور وہ کیا چاہتی ہیں کہ تاریخ میں اس تحریک کو کیسے یاد کیا جائے.
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے لانگ مارچ ملتوی کرنے اور اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر اختلافات سامنے آنے پر پیپلز پارٹی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے گزشتہ روز کے اجلاس میں پہلی مرتبہ استعفوں کو لانگ مارچ سے جوڑا گیا اور یہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت لانگ مارچ پر تیار تھی لیکن جب اسے استعفوں سے جوڑا گیا تو پھر مسئلہ پیدا ہوگیا۔ انہوں نے سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے نواز شریف کے وطن واپس آنے کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم اپنے تجربے پر بات کرتے ہیں، کسی کو تکلیف دینے کے لیے بات نہیں کرتے۔ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے زرداری صاحب کو جو بہتر لگا انیون نے وہ کہا۔‘ شیری نے کہا کہ ’اگر زرداری صاحب کی بات کسی کوقبول نہیں تو وہ ان کی رائے ہے، ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔‘
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے استعفوں پر فیصلے کے لیے وقت مانگا ہے اور وہ اپنی سی ای سی کے اجلاس میں استعفوں پر بات کریں گے۔
تاہم پیلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکی جماعت کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کا فیصلہ حتمی ہے اور اسکے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں فیصلہ بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان حالات میں سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم اتحاد ٹوٹ جائے گا یا پھر اپوزیشن کی دیگر اتحادی جماعتیں آصف زرداری کے اس موقف سے اتفاق کر لیں گی کہ ہم لانگ مارچ تو کریں گے لیکن اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیں گے۔
