عدلیہ ڈٹ جائے ورنہ تمام ججز کی فائلیں تیار ہیں


آزاد عدلیہ کی علامت قراردئیے جانے والے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی عدلیہ اپنی آزادی، بالادستی اور وقار کیلئے کھڑی نہ ہوئی تو اپنے انجام کیلئے تیار رہے کیوںکہ تمام ججوں کی فائلیں تیار ہیں اور آج میرا ٹرائل ہو رہا ہے تو کل ان کا بھی ٹرائل کیا جائے گا۔ جسٹس فائز عیسی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان دشمنوں کے خلاف جنگ کی بجائے عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی جا چکی ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو انکی اہلیہ سرینا عیسیٰ اور مختلف بار کونسلز نے چیلنج کر رکھا ہے جن کی سماعت جاری ہے۔ 17 مارچ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی اوپن سماعت کو لائیو ٹی وی پر دکھانے کے معاملے کو سنا۔ حکومتی وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے ٹرائل کی براہ راست کوریج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسسے عدالتی وقار میں کمی آئے گی، کیونکہ عدالتی کارروائی تکنیکی نوعیت کی ہوتی ہے جو عام آدمی سمجھ نہیں سکتا، کورٹ رپورٹرز آسان زبان میں کارروائی عوام تک پہنچاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ججز کے کنڈکٹ پر پارلیمنٹ میں بھی بحث نہیں ہو سکتی، اس کیس کی براہ راست کوریج سے ججز کے کنڈکٹ پر عوامی سطح پر بحث ہوگی جس سے ججز عوامی سطح پر شناخت ہوسکیں گے، لہازا خدشہ ہے کہ پھر وہ اپنے فیصلے قانونی نہیں بلکہ مقبولیت کی بنیاد پر سنائیں گے، حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ ججز ٹی وی پر نہیں بلکہ اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں۔
تاہم جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کبھی عدالت میں تصویر یا ویڈیو نہیں بنائی جاتی تھی، لیکن اب عدالت آتے جاتے میری تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، انکا کہنا تھا کہ عمران خان اور وزیر قانون نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جسٹس فائز عیسی کو راستے سے ہٹانے کے لیے غیر قانونی اقدامات کیے، فروغ نسیم نے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے حکومتی عہدے کا نا جائز استعمال کیا، انکا کہنا تھا کہ میرے ساتھ حکومتی عہدیداروں کا رویہ تضحیک آمیز ہے، میری اپنی رقم سے خریدی گئی جائیداد راتوں رات میرے شوہر کی بنادی گئی، سرینا عیسی نے کہا کہ میں عمران خان سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہوں، لیکن عمران میں شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے دلائل جاری رکتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر نے جب نوکری شروع کی تو ان کی تنخواہ 35 ہزار روپے تھی جبکہ میں شہزاد اکبر سے بھی 22 سال پہلے سے نوکری کر رہی ہوں۔ شہزاد اکبر آج ایک امیر آدمی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی اہنے اثاثے ظاہر نہیں کیے۔ انکا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کے حوالے سے ہر سچ پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر شہزاد اکبر کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟
سرینا عیسیٰ نے مزید کہا کہ ’نام نہاد عالم دین آغا افتخار نے سپریم کورٹ کے ایک جج کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی، لیکن اس کیس میں شہزاد اکبر کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت حکم دے تو میں اس کیس کی براہ راست کوریج کا بندوبست کر سکتی ہوں، لہذا کیس کی براہ راست کوریج سے سچ عوام کے سامنے لایا جائے۔‘
سرینا عیسیٰ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد حکومتی دلائل کے جواب الجواب کے لیے جسٹس فائز عیسیٰ روسٹرم پر آئے اور کہا کہ ’میری اہلیہ جب دحمکی دینے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج کروانے گئیں تو پولیس نے کہا کہ ہموزیر داخلہ سے اجازت لیں گے۔ لیکن پانچ دن بعد پولیس نے مقدمہ ایف آئی اےکو بھجوا دیا۔جسٹس عیسیٰ نے مزید کہا کہ ’آغا افتخار الدین مرزا نے مجھے قتل کی دھمکی دی، لیکن ریاست مدینہ افتخار الدین مرزا کو آزاد کر رہی ہے۔ مرزا کا تعلق شہزاد اکبر سے نکلا لیکن تفتیش روک دی گئی۔ میری اہلیہ نے آئی ایس آئی سے تحقیقات کا کہا لیکن ان سے تفتیش نہیں کی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اگر فائز عیسیٰ قتل ہوا تو شہید کہلائے گا اور جنت میں جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جسٹس منظور ملک نے میری رہنمائی کی ہے اور ان کی ہدایت پر کوشش ہے کہ میں جذباتی نہ ہوں۔
جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کر دی گئی یے لیکن ملک دشمنوں کے خلاف ففتھ جنریشن وار نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سوشل میڈیا بریگیڈ میرے خلاف جھوٹ بول رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر انسان اکیلا اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ مجھے برا بھلا نہیں کہا جارہا بلکہ پوری سپریم کورٹ کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔ میرے خلاف شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر نے یوٹیوب پر اعتراف کیا کہ وہ حساس ادارے کا ٹاؤٹ ہے۔ جسٹس عیسی کا مزید کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا بریگیڈ منہ چھپا کر حملے کر رہا ہے اور حکومت ملک کو گٹر میں لے کر جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کو گٹر میں لے جانے کی بات نہیں کی اور اسے غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ جسٹس عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا اس وقت شدید ریاستی پابندیوں کا شکار ہے اور یہاں بیٹھے ہوئے صحافیوں کی خبریں اخبارات اور ٹیلی وژن پر نشر نہیں ہوتیں، تاہم موسمی صحافیوں کی توڑ مروڑ کر پیش کی گئی خبریں ضرور نشر ہوتی ہیں۔‘ جسٹس عیسیٰ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف یوٹیوب پر جحوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے خلاف ہونے جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لئے میں کوئی یوٹیوب چینل نہیں بنا سکتا، اس لیے عدالت میں کھڑا ہوں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’بول ٹی وی کا مالک کون ہے یہ کوئی نہیں بتائے گا۔ دبئی میں بول ٹی وی کے شیئرز کس کے پاس ہیں، اس کا میڈیا بھی ذکر نہیں کرے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ صحافی سمیع ابراہیم نے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو آصف سعید کھوتا کہا، انہوں نے کہا کہ ’میرے نام سے تین جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس بنے ہوئے ہیں، میں تین بار خط لکھ چکا ہوں کہ میرا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں ہے لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا۔
جسٹس عیسی نے کہا کہ ’صدر مملکت بھول جاتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ورکر ہیں۔ کیچڑ مجھ پر اچھالا گیا لیکن برداشت ان سے نہیں ہو رہا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے ایوان صدر میں بیٹھ کر تین انٹرویوز دیے جن میں میرے خلاف دائر کردہ ریفرنس پر تبصرہ کیا گیا ہے اور الزامات کا اعادہ کیا گیا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’میں سچ بولتا رہوں گا، چاہے کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ریفرنس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، خبر حکومت نے لیک کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے مذید تین سال بینچ میں رہنے یا پینشن لینے میں کوئی دلچسبی نہیں۔ میری دلچسپی صرف عدلیہ کی عزت اور احترام میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی سلب کی جارہی ہے۔ جو کچھ میں یہاں بولتا ہوں اس کے برعکس چلایا جاتا ہے۔ چاہتا ہوں کہ لوگ میری بات براہ راست سنیں۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’قاضی صاحب ہر انسان کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ ایک بندے سے سن کر اگلا بندا بتاتے ہوئے آدھی بات بھول جاتا ہے۔جس پر جسٹس عیسیٰ نے جواب دیا کہ ’ہم احمقوں کی جنت میں نہیں رہ رہے۔ عدالت خود دیکھ سکتی ہے کہ عدالتی کارروائی کتنی رپورٹ ہوتی ہے۔‘
کیس کی براہ راست عدالتی کارروائی نشر کرنے کے معاملے پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’امریکہ میں عدالتی کارروائی براہ راست نہیں نسر ہوتی بلکہ اسے ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔‘ اس پر جسٹس عیسیٰ نے جواب دیا کہ ’ہم امریکہ کے غلام نہیں اور نہ ہی ان کے پیچھے چلنے کے پابند ہیں۔ ہمارے پاس ایمان کی طاقت ہے، ہمارا رہنما قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔ امریکہ میں عوامی حقوق جس انداز میں دیئے جاتے ہیں وہ سب جانتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button