کیا رنگ روڈ سکینڈل عمران کے لئے پاناما کیس بن سکتا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل وزیراعظم عمران خان کے لیے دوسرا پانامہ سکینڈل بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت نے پانامہ سکینڈل میں نااہل قرار دے کے گھر بھجوا دیا تھا۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اس سکینڈل میں زلفی بخاری کے علاوہ اب وفاقی وزیر غلام سرور خان کا مشکوک کردار بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے جن کے صاحبزادے منصور خان نوا سٹی نامی ہائوسنگ سوسائٹی کے مالک جنید خان کے بزنس پارٹنر ہیں۔ اس سوسائٹی کے پاس صرف 970 کنال زمین تھی لیکن اس کے مالک نے 30 ہزار فائلیں بنائیں اور مارکیٹ میں ایک ماہ میں یہ ساری فائلیں رنگ روڈ دکھا کر بیچ دیں۔ عمران خان کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ رنگ روڈ پراجیکٹ کے ترمیم شدہ منصوبے میں سڑک کی لمبائی بڑھانے کی حتمی منظوری خود ان کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ تاہم وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کو اندھیرے میں رکھ کر اس منصوبے کی منظوری لی گئی جس سے رنگ روڈ کی اصل لاگت میں 25 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔ اسی لیے اب اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان کو رنگ روڈ سکینڈل کا مرکزی کردار قرار دے کر ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔
دوسری جانب جاوید چودھری کہتے ہیں کہ راولپنڈی رنگ روڈ کی کہانی وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے شروع ہوئی، وزیراعظم کو کسی دوست نے بتایا کہ آپ کے خلاف بھی پاناما اسکینڈل بن چکا ہے۔ آج آپ کی حکومت ختم ہوتی ہے تو آپ کے لیے راولپنڈی رنگ روڈ کافی ہو گی، آپ باقی زندگی فائلیں اٹھا کر ایک عدالت سے دوسری عدالت دھکے کھاتے رہیں گے۔ وزیراعظم کے لیے یہ انکشاف پریشان کن تھا۔ عمران خان کو انکے دوست نے چند بینک اکاؤنٹ نمبرز، چند فون نمبرز، چار اعلیٰ سرکاری افسروں اور 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام دیے اور کمشنر پنڈی کیپٹن(ر) محمد محمود سے چند سوال پوچھنے کا مشورہ دیا۔
چنانچہ وزیراعظم نے خفیہ تحقیقات کرائیں تو الزام سچ نکلا۔ اس پر عمران خان نے کمشنر راولپنڈی کیپٹن محمود کو بلایا اور ان سے صرف ایک سوال پوچھا: ’’آپ کو راولپنڈی رنگ روڈ کا روٹ بدلنے اور اٹک لوپ کو اسمیں شامل کرنے کا مشورہ کس نے دیا تھا‘؟ کیپٹن محمود نے فوراً جواب دیا کہ مجھے کسی نے نہیں کہا تھا، وزیراعظم نے دوبارہ پوچھا: ’’کیا آپ کو کسی وفاقی وزیر یا اسپیشل ایڈوائزر ٹو پی ایم نے سفارش نہیں کی؟‘‘ اس۔پر کمشنر نے صاف انکار کر دیا۔ یہ انکار وزیراعظم کو برا لگا‘ کیوں؟ کیوں کہ ان کے پاس کیس کا سارا ریکارڈ موجود تھا اور وہ جانتے تھے کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان اور معاون خصوصی ذلفی بخاری کمشنر راولپنڈی پر سڑک کی لمبائی بڑھانے اور اسے چند مخصوص علاقوں تک لیجانے کے لیےاثرانداز ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے 10 نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے چند ہہی ماہ میں اربوں روپے کمائے تھے۔ کمشنر کے انکار نے وزیراعظم کے خدشات کو مضبوط بنا دیا اور انھوں نے راولپنڈی کی ساری انتظامیہ، کمشنر پنڈی کیپٹن محمود، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محمد انوار الحق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیوکیپٹن (ر) شعیب علی اور اسسٹنٹ کمشنر صدر غلام عباس کو عہدوں سے ہٹا دیا اور چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم گلزارحسین شاہ کو کمشنر راولپنڈی لگایا اور انھیں راولپنڈی رنگ روڈ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔ کمشنر گلزارحسین شاہ نے کام شروع کیا اور 11مئی کو انکوائری رپورٹ آ گئی۔
جاوید چودھری کے مطابق گلزار حسین کی انکوائری رپورٹ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس رپورٹ نے ثابت کر دیا اگر سرکاری افسر کام کرنا چاہے تو یہ تمام تحقیقاتی اداروں اور جے آئی ٹیز کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ہمارے پورے سسٹم کا نوحہ بھی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ سیاست دان، بیوروکریٹس اور طاقتور اداروں کے ریٹائرڈ افسر کس طرح مل کر پورے نظام کو توڑ مروڑکر ایک ایک رات میں عوام کی جیب سے کھربوں روپے نکال لیتے ہیں۔ رپورٹ بتاتینیے کہ سرکاری افسر، وزیراعظم کے دوست اور حکمران پارٹی کے عہدیدار کس طرح ملک کو لوٹ رہے ہیں، کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ پنجاب حکومت نے 2017 میں راولپنڈی پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے 40کلومیٹر کی رنگ روڈ بنانے کا فیصلہ کیا‘ پلان بھی بن گیا اور بینک آف چائنہ سے 400 ملین ڈالر لون بھی منظور ہو گیا لیکن منصوبہ شروع ہونے سے پہلے شہباز شریف کی حکومت ختم ہو گئی اوریہ منصوبہ بھی دوسرے بے شمار منصوبوں کی طرح ٹھپ ہو گیا لیکن پھر یہ اچانک نہ صرف ایکٹو ہو گیا بلکہ اس میں 36 کلومیٹر کا اضافہ بھی ہو گیا‘ اس میں اٹک لوپ بھی شامل ہو گئی۔ اسلام آباد کے دو سیکٹر بھی اس میں ڈال دیے گئے اور حکومت کو یہ تاثر بھی دیا جانے لگا ہمیں غیرملکی قرضوں کی ضرورت نہیں، ہمارے پاس ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو اپنی جیب سے 66 کلو میٹر لمبی سڑک بنائیں گی اور ٹول ٹیکس شیئرنگ کے ذریعے اپنی سرمایہ کاری واپس لے لیں گی۔
جاوید چودھری کے مطابق یہ منصوبہ بظاہر شان دار لگتا تھا لیکن اس کامقصد رنگ روڈ بنانا نہیں تھا۔ اس کے ذریعے 10 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان نے لوگوں سے کھربوں روپے جمع کرنا تھے، گلزار حسین کی رپورٹ کے مطابق نوا سٹی کے نام سے راتوں رات ایک نئی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رجسٹرڈ ہوئی۔
سوسائٹی کے پاس 970 کنال زمین تھی لیکن اس کے مالک جنید چوہدری نے 20 ہزار فائلیں بنائیں اور مارکیٹ میں ایک ماہ میں یہ ساری فائلیں بیچ دیں۔ گلزار حسین کی رپورٹ کے بعد مزید تحقیقات ہوئیں تو پتا چلا فائلیں صرف 20 ہزار نہیں تھیں ان کی تعداد 30 ہزار ہے اور اس میں ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان کے صاحب زادے منصور خان پارٹنر ہیں۔
گلزار حسین کی رپورٹ نے سول ایوی ایشن کی طرف سے نوا سٹی کے فوری این او سی جاری کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور لکھا کہ یہ این او سی حیران کن اسپیڈ سے جاری ہوا تھا۔ جاوید چودھری کے مطابق جنید چوہدری نے یہ فائلیں رئیل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنیوں کو بلک میں دیں، پراپرٹی ڈیلروں نے سوشل میڈیا پر اشتہارات دیے اور ایک ماہ میں 20 ہزار فائلیں بیچ دیں۔
جب تحقیقاتی اداروں نے انکوائری کی تو پتا چلا کہ صرف ایک ایجنٹ نے ایک ماہ میں 34 کروڑ روپے کمائے، آپ باقی کا اندازہ خود لگا لیجیے، یہ بھی پتا چلا کہ نیو ائیرپورٹ سوسائٹی کے مالک راجہ سجاد حسین نے بھی رنگ روڈ کے نام پر اندھا دھند سرمایہ کمایا، اس کی کمپنی کا نام الآصف ڈویلپر ہے جب کہ لائف اسٹائل کے نام سے جنوری 2020 میں جنید چوہدری نے ایک دوسری کمپنی بھی بنائی جس نے زمین خرید کر دھڑا دھڑ فائلیں بیچنا شروع کر دیں۔ حبیب رفیق گروپ نے رنگ روڈ میں مورت انٹرچینج ڈال کر اسمارٹ سٹی کو بوسٹ دیا اور اپنی سیل میں اضافہ کر لیا۔ کمشنر گلزار حسین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم میں کمشنر کیپٹن محمود بے نامی حصے دار ہیں، رنگ روڈ سے اس کو بھی بوسٹ ملا اور اس کے مالکان بھی اربوں روپے کھا گئے، بلیو ورلڈ سوسائٹی نے بھی بوسٹ لیا۔ اس کام میں اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی بھی پیچھے نہ رہی، رپورٹ میں میجر جنرل ریٹائرڈ سلیم اسحاق‘ کرنل ریٹائرڈ عاصم ابراہیم پراچہ اور کرنل ریٹائرڈ مسعود کا نام بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں اتحاد ہاؤسنگ سوسائٹی، سابق پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری کے رشتے داروں کی زمینوں کا ذکر بھی ہے۔
یہ لوگ پسوال زگ زیگ کے بینی فشریز ہیں‘ یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کمشنر کیپٹن(ر) محمود نے گریڈ 17 کے افسر وسیم علی تابش کو غیرقانونی طور پر اٹک میں پوسٹ کیا‘ اسے رنگ روڈ کے لیے زمینیں خریدنے کی ذمے داری سونپ دی اور اس نے پانچ ارب روپے کی لینڈ ایکوزیشن کر دی۔
انکوائری رپورٹ میں قرطبہ سٹی اور کمشنر کیپٹن محمود کے دو بھائیوں کا ذکر بھی ہے‘ یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پارٹنر بھی تھے اور بے نامی دار بھی‘ وسیم علی تابش بھی ٹاپ سٹی کے مالک کے دوست اور رشتے دار ہیں‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی رنگ روڈ میں تبدیلی کا سب سے بڑا ’’بینی فشری‘‘ تھا‘ کمشنر نے رپورٹ کے آخر میں درخواست کی نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے نوا سٹی‘ نیو ائیرپورٹ سوسائٹی‘ بلیو ورلڈ سٹی‘ اتحاد سٹی‘ میاں رشیدہ گاؤں میں موجود 300 بے نامی زمینوں‘ گاؤں تھالیاں میں 200 کنال بے نامی زمین‘ جاندو اور چھوکر گاؤں میں ملٹی پروفیشنل ہاؤسنگ اسکیم کی زمین‘ گاؤں راما میں لائف ریزیڈینشیا‘ اڈیالہ روڈ پر موجود روڈن انکلیو‘ ایس اے ایس ڈویلپرز‘ کیپیٹل اسمارٹ سٹی اور ٹاپ سٹی کے خلاف تحقیقات کی جائیں جب کہ کمشنر راولپنڈی کیپٹن(ر) محمد محمود سمیت اسکینڈل میں ملوث تمام سرکاری افسروں کو نوکری سے فارغ کیا جائے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔
جاوید چودھری کے مطابق نوا سٹی کے مالک جنید چوہدری کے دو وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ سے روابط بھی نکل آئے ہیں، تحائف کی تفصیلات کا علم بھی ہو چکا ہے، نوا سٹی کے ایجنٹوں کے اکاؤنٹس‘ فون ڈیٹا‘ جائیدادوں اور بے نامی پراپرٹیز کی فہرستیں بھی بن رہی ہیں، کیپیٹل اسمارٹ سٹی، نیو ائیرپورٹ سوسائٹی، بلیو ورلڈ،اتحاد سٹی اور روڈن کے خلاف بھی ثبوت جمع ہو رہے ہیں اور وزیراعظم نے تمام ملزموں کو گرفتار کرنے اور عوام کی رقم واپس دلوانے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اس معاملے پر وزیراعظم اور ذلفی بخاری کے تعلقات میں بھی دراڑ آ چکی ہے کیونکہ عمران ان سے یہ توقع نہیں رکھتے تھے۔ ان کی وزارت کے اندر بھی چند فائلیں کھل رہی ہیں اور وہ انکشافات بھی حیران کن ہوں گے۔ اسی وجہ سے زلفی بخاری نے استعفی بھی دے دیا ہے۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ یہ جاننے کے لیے کہ یہ ملک کس طرح چل رہا ہے؟ آپ صرف گلزار حسین کی رپورٹ پڑھ لیں، آپکو مزید کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آپ ظلم دیکھیے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے ساتھ مل کر کس طرح فضا بناتے ہیں۔ یہ پورے پورے شہر کاغذوں میں خھڑے کر دیتے اور پلاٹوں کی فائلیں بنا کر مہینے میں اربوں روپے جمع کر لیتے ہیں۔ دوسری جانب عوام بھی سستے پلاٹوں اور گھروں کے لالچ میں اپنی عمر بھر کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
