کیا "ریلو کٹوں” پر مشتمل کپتان کی ٹیم ڈلیور کر پائے گی؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرتے ہوئے تو عمران خان ریلو کٹوں پر مبنی ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن آنے والا وقت اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا عمران بطور وزیرِاعظم ریلو کٹوں پر مشتمل ٹیم کے ساتھ پاکستان کو چلانے میں کامیاب ہوں گے یا تاریخ میں اس کی مکمل تباہی کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔ کپتان اور اس کی ریلو کٹوں پر مبنی کابینہ کی پچھلے دو سال کی پرفارمنس دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ورلڈ کپ 1992 جیت کر قوم کا ہیرو بننے والا عمران خان الیکشن 2018 جتوائے جانے کے باوجود سیاسی میدان میں پے در پے ناکامیوں کے باعث زیرو ہونے جا رہا ہے۔
عمران خان 20 سال سے زائد عرصہ کرکٹ کے میدان میں ڈھیروں تاریخ ساز کامیابیاں سمیٹنے کے بعد جب سیاست کے میدان میں وارد ہوئے تو یہ ان کے چاہنے والوں کے لیے باعثِ حیرت اور حوصلہ افزا خبر تھی۔ بہت لوگوں کا خیال تھا کہ عمران نے جس طرح کھیل کے میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں، اسی طرح اگر ان کو حکمرانی کا موقع میسر آجائے تو وہ پاکستان کو بھی مصائب کے دلدل سے نکال کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کروا دیں گے۔ پھر 18 اگست 2018ء کا دن اس طرح کی خواہشات اور امیدیں لگانے والوں کے لیے ایک یادگار دن بن کر ابھرا کہ اسی دن سیاست کے میدان میں 2 عشروں سے زیادہ عرصے تک جدوجہد کرنے اور مصائب کا سامنا کرنے والے عمران خان کو ملک کے 22ویں وزیرِاعظم کے طور پر حلف دلوا دیا گیا۔ قوم سے کپتان کے پہلے ہی خطاب نے عوام کو یہ رائے قائم کرنے پر مجبور کردیا کہ ان کی سوچ و فکر کا زاویہ منفرد ہے اور وہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اپنی حکومت کے تقریباً 2 سال گزرنے کے باوجود عمران خان اور ان کی حکومت ملک کو اس سوچ اور ترقی کا عشرِ عشیر بھی نہیں دے سکی جس کے خواب انہوں نے قوم کو دکھائے تھے۔ بنیادی وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ ریلو کٹوں پر مبنی ان کی وفاقی کابینہ میں میں کوئی ایک بھی اپنے شعبے کا ایکسپرٹ نہیں ہے۔ ظاہر ہے خان صاحب نے تو کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم بن جائیں گے لہذا انہوں نے کبھی شیڈو کابینہ بنائی ہی نہیں تھی۔
عمران خان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد ان کے پاس حکومت تشکیل دینے کے لیے مطلوبہ اکثریت نہیں تھی لہٰذا انہیں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک کرنا پڑا۔ اس سیاسی اشتراک کی وجہ سے عمران خان کو وفاقی کابینہ میں اپنی جماعت کے افراد کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں کے نامزد ممبران کو بھی شامل کرنا پڑگیا۔ اس سانجھے کی ہانڈی کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ایک طرف کابینہ کے ممبران کی تعداد بڑھ گئی اور دوسری طرف کابینہ میں کچھ ایسے ممبران بھی شامل ہوگئے جن کو عمران خان کی زبان میں ہم ’ریلو کٹے‘ کہہ سکتے ہیں۔
عمران خان کرکٹ کھیلنے والے ان کھلاڑیوں کو ریلو کٹے کہتے ہیں جو تھوڑی سی باؤلنگ اور تھوڑی سی بیٹنگ کرنا جانتے ہیں لیکن کسی بھی شعبے کے ماہر نہیں ہوتے۔ اس طرح کے کھلاڑی زیادہ تر انگلینڈ میں پائے جاتے ہیں اور وہاں کے مخصوص موسمی حالات اور پچ کی وجہ سے وہیں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں لیکن انگلینڈ سے باہر جاتے ہی وہ ناکامی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ٹیم بنانے کی اپنی صلاحیت پر فخر کرنے والے وزیرِاعظم عمران خان کی کابینہ بھی کچھ ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے جہاں ایک زمیندار ہوا بازی کی وفاقی وزارت کی ذمہ داری اُٹھائے ہوئے ہے تو ایک کاروباری شخصیت نے آبی وسائل کی وزارت کا قلمدان سنبھالا ہوا ہے۔ وفاقی کابینہ میں ایسے بہت سے نگینے ہیں جن کا اپنی وزارت سے کوئی تال میل ہی نہیں بیٹھتا، مگر پھر بھی وہ مزے کررہے ہیں۔بظاہر تو یہ کابینہ نااہل لوگوں کا ایک مجموعہ ہے اور اس ٹیم کی موجودگی میں عمران خان کی کشتی ڈوبتی ہی ہوئی نظر آتی ہے۔
یہ درست ہے کہ ملک کا نظام چلانا اور کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو اکثر ہی ایسے لیڈر میسر آئے جو صلاحیت میں کم تر ہونے کے باوجود ملک میں رائج سیاسی نظام میں رچ بس گئے اور ملک کی حکمرانی کرنے میں کامیاب رہے۔ کرکٹ کے میدانوں میں کپتان نے متعدد ناقابلِ یقین کامیابیاں حاصل کیں جن میں سے اہم ترین 1992ء کے ورلڈ کپ کی جیت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کھلاڑیوں کی سلیکشن میں کچھ خاص مہارت رکھتے تھے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ ورلڈ کپ 1992 کی ٹیم پاکستانی کرکٹ تاریخ کی کمزور ترین ٹیموں میں سے ایک تھی جس کی بنیادی وجہ اس میں سپیشلسٹ باؤلرز اور بیٹسمینوں کی بجائے ریلو کٹوں کا شامل ہونا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی کمزور ٹیم ورلڈ کپ لے اڑے گی۔ لیکن عمران قسمت کے دھنی نکلے اور پاکستان یہ ورلڈ کپ جیت گیا۔ یعنی کپتان کی دنیائے کرکٹ میں بطور کپتان اہم ترین کامیابی پرفارمنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ تکے اور قسمت کی بنیاد پر تھی۔ لیکن یہ تکے کھیل کے میدان میں تو لگ سکتے ہیں لیکن حکومت میں نہیں۔ اقتدار میں آکر بطور کپتان آپ کو ڈلیور کر کے دکھانا پڑتا ہے۔
وفاقی بجٹ 2020ء پیش کیے جانے کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے۔ یہ بجٹ عمران خان اور ان کی حکومت کے لیے اپنی سمت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کا ایک بہترین موقع ثابت ہوسکتا ہے۔ نکی حکومت چند مہینے بعد اپنے دورِ اقتدار کا آدھا عرصہ مکمل کرلے گی۔ کپتان نے قوم سے بڑے بڑے وعدے کیے ہیں۔ لہٰذا یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے مطلوبہ تمام اقدامات کریں۔ بطور کرکٹ کپتان تو عمران خان ریلو کٹوں اور تکوں کے ساتھ کامیاب ہوگئے تھے لیکن آنے والا وقت اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا وزیرِاعظم کی حیثیت سے وہ ریلو کٹوں کے ساتھ کامیاب ہوں گے یا نہیں.
