کورونا وائرس: لاک ڈاؤن نے ایچ آئی وی کے شکار افراد کو کیسے متاثر کیا؟

میں راتوں رات زبیر کو لاڑکانہ لے گئی کیوں کہ اس کی تکلیف دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ وہاں اس کا علاج ٹھیک نہیں کیا گیا، ڈاکٹر الٹا مجھ سے لڑ رہے تھے کہ تم کیسے آئی ہو، کیوں آئی ہو؟ میں نے کہا کہ میں خود اکیلی آئی ہوں۔
نسرین جویو کا ڈھائی برس کا بیٹا زبیر ایچ آئی وی میں مبتلا تھا اور لاڑکانہ چانڈکا اسپتال میں دوران علاج فوت ہو گیا۔ نسرین اپنے بیٹے کو رتو ڈیرو اسپتال بھی لے کر گئی تھیں لیکن ڈاکٹروں نے ’بڑے اسپتال‘ لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ سندھ کی تحصیل رتو ڈیرو میں گزشتہ سال ایڈز نے وبائی صورت اختیار کرلی تھی، جس کے بعد یہ شہر ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی نظر میں آیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں نے کہا تھا کہ سرنج کے متعدد بار استعمال کے علاوہ خون کی منتقلی اور کچھ متاثرہ ماؤں سے بچوں میں اس بیماری کی منتقلی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
نسرین جویو رتو ڈیرو سے چند کلومیٹر دور واقع جویو گاؤں کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زبیر پیدا ہوا تو اسہال بند نہیں ہو رہے تھے۔ علاقے کا کوئی ڈاکٹر نہیں چھوڑا جس کو نہ دکھایا ہو۔ کچھ بھی کھا نہیں پا رہا تھا، پیچش اور بخار کم ہوتا تھا تو کھا لیتا تھا اور جب بخار دوبارہ ہوتا تھا تو کھانا نہیں کھا پاتا تھا، اس کے منہ میں چھالے پڑ گئے تھے۔ پھر انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کراوئیں جس کے نتیجے میں یہ علم ہوا کہ زبیر کو ایڈز ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق رتو ڈیرو میں اس وقت ایچ آئی وی پازیٹو کیسز کی تعداد 1225 ہے، جن میں سے 1177 کا علاج کیا جا رہا ہے۔ سنہ 2019 میں پورے سندھ میں کل کیسز کی تعداد 4075 رہی جن میں سے 3453 کا علاج جاری ہے۔ کورونا وائرس اور ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ذرائع میں فرق ضرور ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ دیگر امراض کے مقابلے میں ایچ آئی وی پازیٹو افراد کورونا کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی پازیٹو افراد میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے اس لیے ایسے افراد کورونا کا باآسانی شکار بن سکتے ہیں۔رتو ڈیرو اسپتال میں ڈاکٹر کورنا سے متاثر ہوئے ہیں لیکن وہ جنرل وارڈ میں تعینات تھے اور ایچ آئی وی سینٹر سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
رتو ڈیرو تحصیل اسپتال میں ایچ آئی وی مریضوں کے لیے خصوصی سینٹر بنایا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ ایسے مریضوں کو یہاں سے ادویات اور مطلوبہ ماہرین دستیاب ہوں گے تاہم تاحال چائلڈ اسپیشلسٹ اور ایڈز کے مرض میں ماہر ڈاکٹر کا فقدان ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کےلیے دو ماہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی اور قریبی علاقوں کے لوگ تو ادویات کے حصول کےلیے آ سکے جب کہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزار خان کے بیٹے اور بہو سمیت سات افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق متاثرین کو سردی اور بخار ہوتا رہتا ہے، بیٹے طارق کی طبیعت خراب رہتی ہے اور اس کی بیوی اور بیٹی بھی صحت مند نہیں۔ وہ کہتے ہیں کچھ دوائیں لاڑکانہ سے ملیں اور کچھ کراچی سے لے کر آئے ہیں، کرایہ خرچہ کر کے جاتے ہیں اور دوائی لے کر آتے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ جن سینٹرز سے ایچ آئی وی مریضوں کو ادویات فراہم کی جاتی ہیں وہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی کھلے ہوئے تھے۔ کچھ لوگوں کو ٹرانسپورٹ تک رسائی نہیں تھی اس لیے وہ نہیں آ سکے۔ ان کےلیے یہ حکمت عملی بنائی گئی کہ انہیں تین تین ماہ کی ادویات فراہم کر دی گئیں اور جو نہیں آئے ان سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے کوریئر کے ذریعے ادویات روانہ کی گئیں۔
رتو ڈیرو کے صحافی گلبہار شیخ ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایچ آئی وی کی وبائی شکل اختیار کرنے کی نشاندہی کی تھی۔ ان کی اپنی بیٹی بھی ایچ آئی وی پازیٹو ہیں اور وہ مقامی طور پر نہیں بلکہ کراچی سے ادویات لیتے ہیں۔ بقول ان کے یہاں ڈاکٹر بچوں کے امراض کی پیچیدگیاں نہیں سمجھتے، ان کی بچی کی نشوونما نہیں ہو رہی تھی اس لیے وہ کراچی جاتے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کہتی ہیں کہ اے آر ٹی کی خریداری گلوبل فنڈ کے ذریعے وفاقی حکومت کرتی ہے اور اس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب بھی نہیں ہوتی ہے اور آغا خان اسپتال میں بھی گلوبل فنڈ سے ادویات آتی ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق رتو ڈیرو میں بچوں میں 517 لڑکے اور 337 لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی ) فراہم کی جارہی ہیں۔ صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو کہتی ہیں کہ لوگ فالو اپ کےلیے نہیں آتے ہیں۔
صحافی گلبہار شیخ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو شعور نہیں ہے۔ کئی ایسے ہیں جو ایک مرتبہ دوائی لیکر جاتے ہیں تو پھر فالو اپ کےلیے اس وقت تک نہیں آتے جب تک بچہ بیمار نہ ہوجائے۔ وہ ایچ آئی وی کو بھی عام بخار یا بیماری سمجھتے ہیں۔ محکمہ صحت کا ایسا کوئی نظام بھی نہیں کہ جو لوگ فالو اپ کےلیے نہیں آرہے تو ان تک رسائی حاصل کی جائے۔ محکمہ صحت نے صحت کے عالمی اداروں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ایچ آئی وی کے بارے میں شعور اور آگاہی کے ساتھ مقامی سطح پر لوگوں میں موبلائزیشن کی جائے گی تاکہ وہ متاثرہ افراد سے حقارت سے پیش نہ آئیں لیکن صحافی گلبھار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ایک سال میں ایسے اقدامات ہوتے نہیں دیکھے ہیں۔
