کیا سنتھیا کی پشت پناہی کرنے والے اسے بے دخل کرنے والے ہیں؟

مشکوک امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے ایف آئی اے کے سامنے اس اعتراف کے بعد وہ پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں پر تحقیقات کر رہی ہیں، رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے سینتھیا سے سوال پوچھا ہے کہ آخر انہیں پی ٹی ایم کی جاسوسی کا ٹاسک کس ادارے نے سونپا ہے۔ دوسری طرف اس حوالے سے ایک اہم ریاستی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ سنتھیا کی پشت پناہی میں کوئی ریاستی ادارہ ملوث نہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس فتنہ پرور عورت کو پاکستان سے بے دخل کردیا جائے۔
پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پر ریپ اور ہراسانی کے الزامات اور ایف آئی اے کو جمع کروائے گئے تحریری بیان میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی ایم کے مابین مبینہ ریاست مخالف گٹھ جوڑ کی تحقیقات کے مشن پر مامور ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد سنتھیا ڈی رچی خود مشکلات میں گھر گئی ہیں۔ تنازعے کے آغاز میں اپنےتندوتیزبیانات کے بعد اب لگتا ہے سنتھیا ڈی رچی نے مصلحتاً خاموشی اختیار کر لی ہے۔ کئی ٹی وی چینلز پر انہوں نے پہلے پروگرام میں آنے کی حامی بھری اور پھر معذرت کر لی۔ عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ سنتھیا کی ڈوریاں کون ہلا رہا ہے اور کیا حکومت سنتھیا کے اس دعوے کی تحقیقات کرے گی کہ وہ پاکستان آرمی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی کے ساتھ مل کر پی ٹی ایم اور پی پی پی کی مبینہ ریاست مخالف سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کر رہی تھی۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کو آغاز سے ہی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں را اور این ڈی ایس سے ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے فنڈز لیتی ہے۔ تاہم پی ٹی ایم اس کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیرستان میں ملٹری آپریشن شروع کرتے وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ہی پی ٹی ایم کو طالبان کے خلاف کھڑا ہونے میں مدد دی تھی۔ تاہم آپریشن کے خاتمے کے بعد پی ٹی ایم اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلافات پیدا ہو گئے جس کے بعد ریاستی اداروں نے پشتون تحفظ موومنٹ کو ریاست مخالف قرار دے دیا اور یہ تنازعہ اب بھی برقرار ہے۔
پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں خفیہ ایجنسیوں کی مبینہ آشیرباد سے پچھلے دس برسوں سے قیام پذیر سنتھیا کی جانب سے پی ٹی ایم پرآرمی کے ساتھ مل کر تحقیق کرنے سے متعلق بیان کے حوالے سے پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہمیں اس سوال کا جواب دیا جائے کہ سینتیا ڈی رچی آخر کس کے کہنے پر پی ٹی ایم کے خلاف تحقیقات کر رہی ہیں۔ محسن داوڑ کے بقول پچھلے سال ڈیڑھ سال سے مشکوک امریکی بلاگر مجھے بےتحاشا ٹویٹس میں ٹیگ کرتی رہی ہیں اور اکثر لوگوں سے میرا رابطہ نمبر مانگتی رہتی تھیں۔ کئی لوگوں کے ذریعے مجھ سے ملاقات کا وقت بھی مانگا لیکن میں نے ہمیشہ انہیں نظرانداز کیا۔ سنتھیا کو نظرانداز کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے داوڑ نے کہا کہ میں سنتھیا کی مشکوک سرگرمیاں دیکھ رہا تھا۔ میں ایک سیاسی ورکر رہا ہوں۔ ظاہر ہے مجھ میں لوگوں کو پرکھنے کی سمجھ بوجھ ہے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ کس حیثیت سے مجھ سے ملنا چاہ رہی تھیں۔ خود ہی اپنے آپ کو صحافی بھی کہہ رہی ہیں، انوسٹی گیشن بھی کرتی ہیں اور وی لاگز بھی بناتی ہیں۔ ان سے پوچھیں آپ اصل میں ہیں کون؟ کس نے آپ کو تحقیقات کا اختیار دیا ہے؟
محسن داوڑ نے کہا کہ سنتھیا ڈی رچی اپنے مذموم عزائم کو لے کر پاکستان کے اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹا رہی ہیں۔ سنتھیا رچی کے اس الزام کے جواب پر کہ پشتون تحفظ مومنٹ کے لوگ انہیں ان کے ٹویٹ کے بعد ہراساں کرنے لگے ہیں، محسن داوڑ نے کہا کہ ہراساں تو سنتھیا پی ٹی ایم کے کارکنوں کو کر رہی ہیں۔ کیا یہ ہراسمنٹ نہیں ہے جب وہ امریکہ میں مقیم پی ٹی ایم رہنما گلالئی اسماعیل کو لکھتی ہیں کہ ان کو پاکستان میں اپنے والدین کی زندگی کی پرواہ کرنی چاہیے اور انہیں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہراسمنٹ تو وہ خود کر رہی ہیں۔ اے این پی کی سابق رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کی حامی خاتون سیاستدان بشری گوہر نے بھی سنتھیا ڈی رچی کے حوالے سے اپنے ٹویٹ میں سخت الفاظ میں کچھ دن قبل لکھا تھا کہ کس نے ایک امریکی بدزبان کو پاکستان میں ایک سیاسی پارٹی اور تحریک کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے؟ پی پی پی اوربلاول بھٹو نے تو ہمیشہ کھل کر پشتونوں اور پی ٹی ایم کےمطالبات اور آئینی حقوق کے لیے ان کی حمایت کی ہے۔
سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے خیال میں مشکوک امریکی عورت سنتھیا ڈی رچی کے اس دعوے نے کہ وہ پاکستانی فوج اور دیگر اداروں کے تعاون سے پی ٹی ایم اور پیپلز پارٹی کی ریاست مخالف سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہی ہیں، ان کی سرگرمیوں کی قانونی حیثیت اور ان کے خفیہ اداروں سے تعلقات کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ایک امریکی عورت کے ذمے یہ حساس ترین ٹاسک کس نے اور کیوں لگایا اور یہ بھی کیا کسی پاکستانی کو امریکہ جا کر وہاں کی سیاسی قیادت کے خلاف اس طرح کی تحقیقات کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سنتھیا کی جانب سے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف لگائے گئے الزامات سے سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا تنازع اس وقت مبہم ہوگیا تھا جب ان کی جانب سے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے خلاف ریپ کے الزامات لگائے گئے اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک قوم پرست پی ٹی ایم کی ’تحقیقات‘ کررہی تھیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ارسال کردہ خط میں سنتھیا رچی نے لکھا کہ وہ گزشتہ چند برسوں سے ’’پاکستانی فوج اور دیگر اداروں کے تعاون سے پی ٹی ایم کے بارے میں تحقیقات کررہی تھیں‘‘ جس کے نتیجے میں ’’پی ٹی ایم اور پیپلز پارٹی کی ریاست مخالف سرگرمیوں کے رابطے‘‘ سامنے آئے تھے۔ مذکورہ خط کے ردعمل میں ابھی تک پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس مشکوک امریکی عورت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جو کہہ رہی ہے اس میں وزن ہے۔ اب پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی سنتھیا سے اسی بنیادی سوال کا جواب مانگا ہے کہ آخر ان کے پیچھے کون ہے اور اور پی ٹی ایم کی جاسوسی کا ٹاسک انہیں کس نے سونپا ہے۔
تاہم جب اس حوالے سے ایک اہم ریاستی ادارے کے اعلیٰ افسر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ سنتھیا کی پشت پناہی میں کوئی ریاستی ادارہ ملوث نہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس فتنہ پرور عورت کو پاکستان سے بے دخل کردیا جائے گا۔
