کیا سوشل میڈیا ایپ تھریڈز نے ٹوئیٹر کو پیچھے چھوڑ دیا؟

دنیا کے امیتر ترین شخص ایلون مسک کی جانب سے ٹوئیٹر کی خریداری کے بعد فیس بک نے اسی طرز پر تھریڈز ایپ کو لانچ کیا تھا جوکہ صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، ایپ کو لانچ کیے دو ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔پرانی سماجی رابطے کی معروف ایپ ٹوئٹر جس کا نام تبدیل کرکے ’ایکس‘ رکھ دیا گیا ہے کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔ تھریڈز ایپ لانچ ہونے کے بعد غیرمعمولی طور پر مقبول ہوگئی اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایپ لانچ ہونے کے محض 5 دنوں میں 10 کروڑ صارفین نے اپنے اکاؤنٹس تھریڈز پر بنا لیے تھے۔ایپ کی لانچنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی ماہرین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ’تھریڈز ایپ جلد ہی اپنے حریف ٹوئٹر کو اس کے مقام سے ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گی تاہم آج جبکہ اس پلیٹ فارم کو لانچ ہوئے دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، سوال یہ ہے کہ انتہائی تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والی ایپ تھریڈز اب کہاں ہے؟تھریڈز پلیٹ فارم نے جس تیزی سے کامیابی حاصل کی ہے وہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں کیونکہ اس ایپ کو تیار کرنے والوں کے سامنے بہت کچھ تھا جسے سامنے رکھتے ہوئے اسے جلد مقبول بنانا تھا، اس میں سرفہرست اس کے استعمال کے طریقے کو آسان اور سہل بنانا تھا تاکہ لوگوں کو اس جانب راغب کیا جا سکے۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ تھریڈز نے اچانک اپنی مقبولیت کھونا شروع کردی اور چند ہی دنوں میں اس کے نصف سے زیادہ صارفین نے پلیٹ فارم کو خیرباد کہہ دیا۔تھریڈز پر صارفین کی کمی کے مختلف اسباب ہیں جن میں پلیٹ فارم پر ان کیلئے کسی خاص کشش کا نہ ہونا شامل ہے یہاں تک کہ ہوم پیچ پر اہم سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی تھی۔تھریڈز پر صارفین کو دوبارہ لانا اور اسے مقبول بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کمپنی ان نقائص کو دور کرے اور صارفین کی طلب کا خیال رکھتے ہوئے انہیں وہی سہولتیں فراہم کی جائیں جو انہیں مطلوب ہیں۔سوشل میڈیا پوسٹوں میں ترمیم کرنا اور پوسٹس کو ظاہر کرنا یا غائب کرنا ان اہم خصوصیات میں شامل ہے جو صارفین کی طلب ہے، بلاشبہ ہیش ٹیگز کو ایکٹیو کرنا یا نجی پیغام رسانی کی صلاحیتوں کے علاوہ ڈیسک ٹاپ ورژن اہم خصوصیات میں شامل ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہونی چاہئیں، یہ وہ اہم خصوصیات ہیں جنہیں متعارف کرانے پر ہی صارفین اس جانب متوجہ ہوسکتے ہیں اور ٹوئٹر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔تھریڈز کی ابتدائی کامیابی اور ٹوئٹر کی مقبولیت میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بات کا امکان ہو چلا تھا کہ یہ تھریڈز کے لیے مقبولیت حاصل کرنے کا ایک سنہری موقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر پر غیرمقبول تبدیلیاں اس کے گراف میں کمی کا باعث بنیں جن میں ٹوئٹر کا نام تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔تھریڈز کو چاہئے کہ وہ صارفین کو اپنی جانب راغب اور بہتر مواد تخلیق کرنے کے لیے پیسہ کمانے کا موقعہ فراہم کرے جیسا کہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے، صارفین ان پلیٹ فارمز پر آنے والے اشتہارات سے پیسے کماتے ہیں اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے تھریڈز کوچاہیے کہ وہ اپنی حکمت عملی میں بھی تبدیلی کرے۔
