کیا سپریم کورٹ کے ججز کا پلاٹوں کی مراعات لینا جائز ہے؟

اسلام آباد میں قائم فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے کرائی گئی قرعہ اندازی میں چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن سمیت کئی مفاہمتی ججز کے پلاٹ نکلنے کے بعد مزاحمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسی کا پچھلے برس دیا گیا ایک تاریخ ساز عدالتی فیصلہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں انہوں نے یہ قرار دیا تھا کہ نہ تو ملکی آئین اور نہ ہی کسی قانون میں ججوں کو پلاٹ جیسی مراعات لینے کی اجازت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ہاؤسنگ کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کی سربراہی میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی میں 4500 درخواست گزاروں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے جن میں کئی معزز جج حضرات بھی شامل ہیں۔ ہاؤسنگ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر شائع کامیاب درخواستوں کی فہرست کے مطابق پلاٹ حاصل کرنے والوں میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اقتصادیات ڈاکٹر وقار مسعود خان اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمینٹ ڈاکٹر شہزاد ارباب بھی شامل ہیں۔ قیمتی پلاٹ حاصل کرنے والے دیگر خوش قسمت امیدواروں میں سپریم کورٹ سمیت ہائی کورٹس کے ججز سمیت سابق اور حالیہ بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔ قرعہ اندازی کے بعد تمام کامیاب امیدواروں کو اسلام آباد کے مختلف پرتعیش رہائشی سیکٹرز میں پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں۔
اعلیٰ عدلیہ کے ججز سمیت ماتحت عدالتوں کے ججز کو کیٹیگری ون کے تحت ایک کنال رقبے کے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں۔
پلاٹ حاصل کرنے والے سابق ججز میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، انور ظہیر جمالی اور ان کی اہلیہ سندھ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس اشرف جہاں بھی شامل ہیں۔
قرعہ اندازی میں پلاٹ حاصل کرنے والے خوش قسمت افراد میں اعلیٰ عدلیہ کے 8 ججز بھی شامل ہیں جن میں چیف جسٹس گلزار کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس سجاد علی شاہ،جسٹس قاضی محمد امین احمد، جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس سردار طارق مسعود، اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔پلاٹ حاصل کرنے والوں میں سپریم کورٹ کے 7 سابق ججز بھی شامل ہیں، جن میں جسٹس اعجاز افضل خان، منظور احمد ملک، امیر ہانی مسلم، اقبال حمید الرحمٰن، رانا محمد شمیم، شیخ نجم الحسن اور ریاض احمد خان شامل ہیں۔ اسلام آباد میں قیمتی پلاٹ حاصل کرنے والے خوش نصیب امیدواروں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے دو سابق ڈائریکٹر جنرلز بشیر میمن اور غالب بندیشہ جب کہ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد طاہر امین بھی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کالم نویس اور بیوروکریٹ اوریا مقبول جان بھی پلاٹ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں پلاٹ کے مالک بننے والے خوش نصیبوں میں 6 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، 9 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جب کہ وفاقی حکومت کے گریڈ 22 اور 21 کے سابقہ اور موجودہ سیکریٹریز بھی شامل ہیں اور مجموعی طور پر وفاقی حکومت کے 4500 ملازمین کو پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ بذریعہ قرعہ اندازی تمام ہائی کورٹس کے ججز کو پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے کسی بھی جج کو پلاٹ فراہم نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ ماضی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 2017 میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے پلاٹ کے حصول کے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ الاٹمنٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز سمیت تمام صوبوں کی ہائی کورٹس کے ججز سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی کورٹس سمیت فیڈرل شریعت کورٹس کے ملازمین فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز پہلے ہی اس منصوبے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور تمام وفاقی ملازمین بشمول ریٹائرڈ ملازمین بھی مارکیٹ سے انتہائی کم قیمت پر پلاٹ حاصل کرنے کی درخواست دینے کے اہل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے ماتحت اداروں کے ملازمین، سپریم اور ہائی کورٹس سمیت ماتحت عدالتوں کے ججز، پولیس افسران، چیف کمشنرز، تحقیقاتی اداروں کے افسران بھی کم قیمت پر پلاٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔
تاہم اس کہانی میں ٹوسٹ تب آیا جب اکتوبر 2020 میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ نہ ملکی آئین اور نہ کسی قانون میں ججوں اور افواج کے افسران کو پلاٹ جیسی مراعات کی اجازت دی گئی ہے۔ پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دیے جانے والے جسٹس فائز عیسیٰ کا یہ فیصلہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کا پلاٹ حاصل کرنا قانونی ہے؟
سوشل میڈیا پر زیر گردش جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے نے واضح کیا کہ آئین اور قانون چیف جسٹسز اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو پلاٹ یا زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کا اختیار نہیں دیتے، اسی طرح انہوں نے ’تنخواہ، پنشن‘ کے مینوئل پر روشنی ڈالی جس میں ججوں کی تنخواہ، پنشن اور مراعات کے حوالے سے حکم نامہ، قوانین اور اعلامیے موجود ہیں لیکن اس مینوئل میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اعلیٰ عدالتوں کے چیف جسٹسز اور ججوں کو زمین کے حصے کا حقدار بناتی ہو۔ انہوں نے فیصلے میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی لوگوں کی نگاہ میں اس کے احترام اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے لازم و ملزوم ہے لیکن ایگزیکٹو کی جانب سے ججوں کو پلاٹ دینے سے ایک رعایت دینے کا تاثر جاتا ہے۔ جسٹس عیسیٰ نے قرار دیا کہ آئین پاکستان کے مطابق اعلیٰ عدالت کے ججوں کی خدمات کی شرائط و ضوابط کے مطابق نہ تو کسی چیز کو منہا کیا جاسکتا اور نہ ہی اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، مزید یہ کہ چونکہ طے شدہ شرائط و ضوابط ججوں کو پلاٹ حاصل کرنے کا اہل نہیں بناتیں لہٰذا وہ فاؤنڈیشن یا کسی لازمی طور پر حاصل شدہ اراضی سے پلاٹ وصول کرنے کے حقدار نہیں۔ مزید یہ کہ مخصوص قانونی اجازت کے بغیر وزیر اعظم سمیت کوئی بھی فرد کسی کو بھی زمین، مکان یا اپارٹمنٹ دینے کا صوابدیدی اختیار نہیں رکھتا۔
سوشل میڈیا صارفین اس نکتے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اکتوبر 2020 میں آیا تھا اور پلاٹ حاصل کرنے والے تمام لوگوں نے قرعہ اندازی میں شامل ہونے کے لیے درخواستیں اس برس جمع کروائی تھیں لہذا سپریم کورٹ کی جانب ججوں کے لیے پلاٹ حاصل کرنے پر پابندی لگائے جانے کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ اپنے عدالتی فیصلے میں جسٹس فائز عیسیٰ نے قرار دیا تھا کہ مسلح افواج میں ملازمت کرنے والوں پر بھی مختلف قوانین نافذ ہیں اور انہیں بھی رہائشی پلاٹ، تجارتی پلاٹ یا زرعی اراضی وصول کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس کے باوجود مسلح افواج کے سینئر ممبران کو پلاٹ اور زرعی اراضی الاٹ کی جاتی ہیں اور جیسے، جیسے ان کے رینک میں اضافہ ہوتا ہے، انہیں اضافی پلاٹ اور زرعی اراضی دی جاتی رہتی ہے۔جسٹس عیسیٰ نے یاد دلایا کہ ایک مرتبہ جنرل ایوب خان سے پہلے پاکستان کے آرمی چیف کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے جنرل گریسی کے پاس جنرل ایوب ایک پلاٹ الاٹ کروانے کی درخواست لے کر آئے تو انکی سخت سرزنش کی گئی تھی۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سول سروس اور مسلح افواج کے جوان دونوں ہی پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں اور آئین نے ان کے مابین کوئی تفریق پیدا نہیں کی، سول اور مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے بنائے گئے قوانین انہیں رہائشی پلاٹ، تجارتی پلاٹ یا زرعی اراضی حاصل کرنے کا حق نہیں دیتے، اگر اراضی کو صرف ایک ہی زمرے میں دیا جائے جیسا کہ مسلح افواج کے جوانوں کو اور پاکستان کی خدمت کرنے والے عام شہریوں کو نظرانداز کیا جائے تو یہ امتیازی سلوک ہے اور اس سے مساوات کے بنیادی حق کو مجروح کیا جاتا ہے۔

Back to top button