کیا سیاسی جماعتیں اب انتخابی دنگل سوشل میڈیا پر لڑینگی؟

پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی میدان سج چکا ہے۔سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں اترنے کے لیے تیار ہیں تاہم اس بار سیاسی سرگرمیوں میں ماضی کے برعکس نئے پہلو بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں میں پہلے صرف پاکستان تحریک انصاف ہی سوشل میڈیا پر متحرک نظر آتی تھی لیکن اب دیگر جماعتوں نے بھی سوشل میڈیا سمیت ڈیجیٹل میڈیا کی افادیت کو سمجھ لیا ہے۔ اب لگتا یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کے حوالے سے کمپین سوشل میڈیا پر کرتی نظر آئیں گی۔
پاکستان میں انتخابی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی تمام سیاسی جماعتیں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس کے ذریعے اپنی اپنی مہم چلا رہی ہیں تاہم ان میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے ان اقدامات کو نمایاں طور پر سراہا جا رہا ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے پارٹی ترانے اور پرکشش پوسٹرز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے سیاسی جماعتیں لوگوں کو تحریک دے رہی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابات کے لیے منشور کی تیاری میں عوام کی تجاویز شامل کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ بھی بنائی ہے۔مسلم لیگ ن نے اس ویب سائٹ پر بظاہر پارٹی نعرہ ’ہم ہیں تیار‘ بھی درج کر رکھا ہے۔ سادہ سی ویب سائٹ پر پارٹی منشور کے نکات بتائے گئے ہیں جبکہ ایک خانہ عوامی تجاویز کے لیے متعین ہے۔کئی حلقوں کی جانب سے مسلم لیگ ن کے اس اقدام کو اس لیے سراہا جا رہا ہے کہ یہ عوام کو پارٹی کی حدود میں فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔
صحافی سید بدر سعید پاکستان میں سیاسی مہم کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے منشور کی تیاری کے لیے عوامی رائے لینے اور ویب سائٹ بنانے کا اقدام بہتر تو ہے لیکن اس کی افادیت پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کی کامیابی کا معیار تو تب ہی معلوم ہو سکے گا جب زیادہ سے زیادہ لوگ اس تک رسائی حاصل کر کے اپنا فیڈ بیک دیں گے۔‘
ماضی میں انتخابی سرگرمیوں کے لیے مقامی سطح سے لے کر قومی سطح تک ہاتھ سے بینرز بنائے جاتے تھے اور سیاسی رہنماؤں کی تصویروں کو دیواروں پر نقش کیا جاتا تھا لیکن سوشل میڈیا کے آنے سے اس میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
انتخابی عمل پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق ’ماضی میں تو بالکل روایتی طریقے استعمال ہوتے تھے چونکہ اس وقت سوشل میڈیا کا استعمال اتنا زیادہ نہیں تھا اس لیے الیکشن دفاتر ہوتے تھے، پریس ریلیز ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کارنر میٹنگز اور کارکنوں سے ون ٹو ون ملاقاتوں پہ توجہ دی جاتی تھی جلسے کیے جاتے تھے، یعنی ایک تہوار سا ہوتا تھا۔‘ تاہم سوشل میڈیا کے آنے سے پوسٹرز اور بینرز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے ہاتھ سے لکھے ہوئے بینر ہوتے تھے اب آپ کو کہیں بھی ہاتھ سے لکھے ہوئے بینرز نظر نہیں آتے، گویا وہ بالکل ہی غائب ہو گئے ہیں کیونکہ فلیکس اور کمپیوٹرائزڈ فلیکس مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔ اس لیے اب سوشل میڈیا کے آنے سے انتخابی سرگرمیاں جدت اختیار کر رہی ہیں۔‘
حالیہ انتخابی منظر نامے پر پی ٹی آئی کو ایک طرف تو مسائل کا سامنا ہے لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا پر اس کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ایکس پر ایک اکاؤنٹ ’پی ٹی آئی پالیٹکس اپڈیٹس‘ کے ذریعے پاکستان بھر کے حلقوں میں پارٹی عہدیداران اور امیدواروں کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے مسلسل معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔اس حوالے سے سید بدر سعید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ’مشکل وقت میں اپنے لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے متحرک کرنا خوش آئند ہے۔ مستقبل میں انتخابی مہم سے لے کر منشور کی تیاری تک ہر چیز صرف سوشل میڈیا پر ہو گی۔
