کیا شاہ محمود قریشی اور اعظم خان کی واقعی ہاتھا پائی ہوئی؟

سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مبینہ طور پر تلخ کلامی کے بعد تھپڑ جڑنے کی خبر عام ہونے کے بعد دو مین سٹریم نیوز چینلز نے بھی یہ واقعہ رپورٹ کر دیا جس کے بعد پیمرا نے دونوں چینلز کو شو کاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ تاہم اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کسی حد تک سچائی ضرور ہے تاہم تھپڑ والی بات مبالغہ آمیزی لگتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ نے نے کسی شیڈول کے بغیر وزیراعظم سے ملاقات کرنے کی خاطران کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر انہیں اعظم خان نے روکا اور جھگڑا ہوگیا۔ یاد رہے کہ اعظم خان کو وزیر اعظم کا چہیتا سمجھا جاتا ہے جبکہ پاک سعودی تعلقات میں کشیدگی آنے کے بعد سے شاہ محمود قریشی کی وزارت سے چھٹی کی افواہیں پہلے ہی گرم ہیں۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ حکومتی صفوں میں اختلافات کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل کئی وفاقی وزرا کی آپس میں تلخ کلامی کے علاوہ اعظم خان کے ساتھ لڑائی اور توتکرار کی خبریں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ چند ماہ قبل چینی سکینڈل میں نام آںے کے بعد جہانگیر ترین نے کھل کر اعظم خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک سازشی شخص قرار دیا تھا جس کی جھوٹی بریفنگ کی وجہ سے ان کی عمران خان سے دوریاں پیدا ہوئیں۔ اسی طرح فرددوس عاشق اعوان نے بھی وزارت اطلاعات سے فراغت کے بعد اعظم خان کو اپنی چھٹی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے پنجاب میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہے۔چند روز پہلے لاہور میں ایک اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری میں بھی سخت تلخ کلامی ہوئی۔ ان افواہوں کے مطابق ایک سابق فوجی کے بیٹے محسن لغاری نے غصے میں آ کر عثمان بزدار سے ہاتھا پائی کی اور پھر ایک تھپڑ بھی جڑ دیا۔ اس تھپڑ کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن اس حوالے سے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن اس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر محسن لغاری کے خلاف تادیبی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
اسی دوران 18 اگست کی رات پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے دو ٹی وی چینلز ‘اب تک’ اور ‘بول نیوز’ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان تلخ کلامی اور تھپڑ بازی کی خبر نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کئے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اب تک ٹی وی چینل نے 18 اگست 2020 کو شام 5 بج کر 47 منٹ پر وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے سے متعلق جھوٹی خبر نشر کی جسکے مطابق تلخ کلامی کے بعد وزیرخارجہ اور اعظم خان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد شاہ محمود قریشی وزیر اعظم ہاؤس میں داخل ہوئے اور عمران خان سے شکایت بھی کی۔ چینل کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے متمنی تھے لیکن انہیں وزیر اعظم دفتر کے باہر پرنسپل سیکریٹری نے اندر جانے سے روکا، جس پر تلخ کلامی ہوئی۔ پیمرا کے مطابق خبر حکومت کے متعلقہ دفاتر سے تصدیق یا جائزہ لیے بغیر نشر ہوئی اور جعلی خبر تھی جس کا ثبوت حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری اس کی تردید ہے۔ نجی ٹی وی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ خبر کی تردید کرے اور اسی طرح معذرت کرے اور چینل کے چیف ایگزیکٹیو افسر 3 روز کے اندر تحریری جواب داخل کرادیں تاکہ ان کے خلاف سیکشن 29 اور 30 کے تحت قانونی کارروائی شروع نہ کی جائے۔ پیمرا کا کہنا ہے کہ جھوٹی خبر نشر کرنا سپریم کورٹ کی جانب سے 2018 میں لیے گئے از خود نوٹس پر دیے گئے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ‘اب تک’ کی خبر پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو دل کرتا ہے اس کو جھوٹی خبر کے طور پر چلا دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود اور اعظم خان دو معزز اور عزت دار لوگ ہیں، دونوں کے درمیان آج کوئی ملاقات تک نہیں ہوئی اور آپ ان کی لڑائی کی جھوٹی بات کرتے ہیں، ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔شہباز گل نے کہا کہ چینل کے خلاف پیمرا جارہے ہیں اور سخت کارروائی کی درخواست کریں گے کیونکہ آپ کو اندازہ نہیں کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی جھوٹی خبر بین الاقوامی میڈیا کیسے چلائے گا۔
بعد ازاں پیمرا نے نجی ٹی وی چینل ‘بول نیوز’ کو بھی مبینہ تلخ کلامی کی خبر نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا جسے شہباز گل نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ جاری کیا۔ پیمرا سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بول نیوز نے 17 اگست 2020 کو سمیع ابراہیم کی میزبانی میں تجزیہ کے نام سے پروگرام نشر کیا اور گفتگو کے دوران تجزیہ کار صدیق ساجد نے وزیرخارجہ اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کی جھوٹے، من گھڑت اور توہین آمیز واقعے کا ذکر کیا۔ پیمرا نے بول نیوز کو بھی کہا ہے کہ جھوٹی خبر نشر کرنا پیمرا آرڈیننس ترامیمی ایکٹ 2007 کے سیکشن 20 ایف اور الیکٹرونک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی متعلقہ دفعات کی کھلی خلاف ورزی ہے اور سپریم کورٹ کے 2018 کے از خود نوٹس کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ نجی چینل کو ہدایت کی گئی ہے کہ چینل کے سربراہ تین روز کے اندر خبر کی تردید کریں اور معذرت کریں۔خیال رہے کہ ابتک اور بول نیوز دونوں حکومت کے حامی چینلز سمجھے جاتے ہیں۔
اسلام آباد کے صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اعظم خان اور شاہ محمود قریشی میں تلخی کی بات درست ہے کیونکہ اعظم خان ایک طرح سے ڈی فیکٹو وزیراعظم بنے ہوئے ہیں اور تمام وزرا ان سے خائف ہیں۔
