کیا شوکت ترین بھی مستعفی ہونے جا رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینٹر منتخب کرنے کا وعدہ پورا نہ ہو سکنے کے بعد اب ترین کی تنزلی کرتے ہوئے مشیر خزانہ بنا دیا گیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید ترین مشیر خزانہ کے عہدے سے سے بھی مستعفی ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو ایک حکومت کے دوران پانچ وزرائے خزانہ کے فارغ ہونے کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہو جائے گا۔ بطور وزیر خزانہ شوکت ترین کی چھ ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد انھیں وزیراعظم عمران خان کا مشیر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت ترین کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔
واضح رہے کہ شوکت ترین کی بطور وزیرِ خزانہ عہدے کی مدت ختم ہو گئی تھی۔ انھوں نے 17 اپریل 2021 کو بطور وزیرِ خزانہ چارج سنبھالا تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت نے عبدالحفیظ شیخ کے بعد شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا دیا تھا۔ چونکہ شوکت ترین منتخب رکن اسمبلی نہیں ہیں اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک ہی اس عہدے پر براجمان رہ سکتے تھے۔ ان کی یہ مدت مکمل ہوئی تو اب انھیں مشیر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ شوکت ترین پچھلے دنوں بار بار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان انہیں سینٹر بنانے کا وعدہ لازمی پورا کریں گے، تاہم ابھی تک ایسا نہیں ہو پایا اور اب اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ شاید ترین مشیر خزانہ کے عہدے سے بھی مستعفی ہو جائیں۔ شوکت ترین اس وقت آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں ہیں، اور آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وزیر خزانہ ہوتے ہوئے شوکت ترین اہم ترین فیصلے لینے کے مجاز تھے مگر اب مشیر بننے کے بعد ان کے اختیارات محدود ہوگئے ہیں۔ اب ترین کمیٹیوں کے اجلاس کی سربراہی نہیں کر سکیں گے جس سے کئی اہم فیصلے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ مشیر کو ووٹ کا اختیار نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ جب عبدالحفیظ شیخ مشیر تھے تو تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے قومی اسملبی میں بجٹ تقریر ان کے بجائے وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر نے کی تھی۔ تحریک انصاف کے دور میں ہی جب عبدالحفیظ شیخ کو وزیر خزانہ بنایا گیا تو پھر اس کے بعد حکومت نے انھیں سینیٹ کا رکن بھی بنا دیا، جس کے بعد ان کے لیے آسان ہو گیا کہ وہ ووٹ کے اختیار سمیت پارلیمنٹ کی کارروائی میں بھرپور حصہ لے سکیں اور کابینہ کی تمام کمیٹیوں کی بھی سربراہی کر سکیں۔
یہ حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ آئینی خلا پر کرنے کے لیے کسی بھی شخص کو وزیر بنا دے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دور میں جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تو انھوں نے مفتاح اسماعیل کو اس وقت بیرون ملک مقیم غیرفعال وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ہٹا کر وفاقی وزیر خزانہ بنایا تھا۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل تو کوئی زیادہ مسئلہ درپیش نہیں رہتا تھا مگر جب عدالت نے معاونین خصوصی اور مشیران کے اختیارات سے متعلق ایک درخواست پر فیصلہ سنایا تو اس کے بعد مشکلات کا ایک نیا باب کھل گیا۔ان کے مطابق اس فیصلے کے تحت مشیر خزانہ نیشنل فنانس کمیشن کے ایوارڈ کی کمیٹی کی سربراہی کر سکتا ہے اور نہ ہی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی صدارت کر سکتا ہے۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق تمام اہم معاشی فیصلے این ایف سی اور ای سی سی میں ہوتے ہیں تو ایسے میں جب شوکت ترین ان کمیٹیوں کی صدارت نہیں کر سکیں گے تو پھر اس کا حکومت اور معیشت دونوں پر اثر تو پڑے گا۔ ان کے مطابق اگر قطر سے ٹرمینل کے معاہدے کو حتمی شکل دے کر کابینہ سے منظور کے لیے بھیجنا ہے تو یہ کام بھی ای سی سی کرتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شوکت ترین کی جگہ کوئی اور حکومتی رکن ان کمیٹیوں کی صدارت کر سکے گا مگر جس پر حکومت کا انحصار ہے وہ اس عمل سے باہر رہ جائے گا۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق وزیر سے مشیر بننے کا اس کے علاوہ اور کوئی بڑا نقصان ان کی نظر میں نہیں ہے مگر، انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ، کیا یہ کوئی کم چیز ہے کہ ای سی سی کے تمام فیصلے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے جاتے ہیں اور پھر جب شوکت ترین مشیر خزانہ ہوتے ہوئے ان فیصلوں میں فائنل اتھارٹی نہیں ہوں گے تو ایک مشکل صورتحال تو ہو گی۔
