کیا شوکت ترین کی سینیٹ سیٹ پھر خطرے میں پڑ گئی

جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار ظاہرشاہ اور عوامی نیشنل پارٹی کی رکن خیبر پختونخوا اسمبلی شگفتہ ملک کی جانب سے تحریک انصاف کے سینیٹ کے امیدوار شوکت ترین کا ووٹ سندھ سے کے پی منتقل کرنے پر اعتراض اٹھائے جانے کے بعد ترین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے اور انکا الیکشن خطرے میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ شوکت فیاض ترین نے سینٹ کے انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے بعد اپنا ووٹ سندھ سے خیبرپختونخوا منتقل کروایا جو کہ انتخابی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے لہذا ان کے کاغذات نامزدگی کو مسترد قراردیا جائے۔ قانونی ماہرین کے مطابق مشیر خزانہ شوکت ترین نے چونکہ حال ہی میں کراچی سے مردان اپنا ووٹ منتقل کروایا ہے لہذا قانون کے تحت وہ سینیٹ الیکشن کے لیے نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ہونے والے حالیہ ضمنی الیکشن میں بھی تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے باعث وہ الیکشن سے باہر ہوگئے تھے، اب شوکت ترین کے حوالے سے بھی انہی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید حکومت کے لیے ترین کو وفاقی وزیر خزانہ بنانے کی غرض سے خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب کروانا مشکل ہوجائے گا.
یاد رہے کہ اس سے قبل شوکت ترین کی نامزدگی کو الیکشن کمیشن میں بھی چیلنج کیا جا چکا ہے۔ صحافی شاہد اورکزئی کی جانب سے ریٹرننگ آفیسر شریف اللہ کے پاس چار صفحات پر مشتمل اعتراضات جمع کرائے گئے اعتراضات میں موقف اپنایا ہے کہ رواں سال دس اپریل کو شوکت ترین آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں شوکت ترین کی ایک تصویر پیش کی گئی جس میں وہ سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ صدر مملکت سے وزارت کا حلف اٹھا رہے ہیں جس کے بعد وہ پورے چھ ماہ تک وفاقی وزیر خزانہ رہے۔ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت چھ ماہ کی وزارت نفاذ آئین کے بعد پہلے صرف چھ ماہ کے لیے جائز تھی اور یہ شق 2021 میں نافذ العمل نہیں ہو سکتی۔ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ موصوف کو اب سینٹ کا رکن بنا کر پھر وزیر خزانہ بنایا جا رہاہے جو کہ ایک غیر آئینی اقدام ہے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال کے عمل میں شوکت ترین سے پوچھا گیا کہ وہ آئین کی کس شق کے تحت وزیر خزانہ بنائے گئے کیونکہ گزشتہ اپریل میں وہ قومی اسمبلی کے ممبر بنے تھے کمیشن کی توجہ آرٹیکل 275کی جانب مبذول کرائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کلثوم نواز ، شہباز شریف کیخلاف ایف بی آر کی اپیلیں خارج
یاد رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی دورمیں شوکت ترین 2009 میں سندھ سے علماء اور ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص سینیٹ کی نشست پر بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔یہ نشست پیپلز پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر جاوید لغاری کی جانب سے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ جاوید لغاری نے پارٹی ہدایت کے تحت استعفیٰ دیا تھا تاکہ ان کی جگہ شوکت ترین کو منتخب کرا کے انہیں وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان باقاعدہ طور پر سونپا جاسکے۔ تاہم اب اس حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
