کیا شوگر سکینڈل حکومت کی بنیادیں ہلانے والا ہے؟

شوگر اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ میں جہانگیر ترین اور مونس الٰہی کو مرکزی ملزم ٹھہرائے جانے کے بعد تحریک انصاف کے اندر اور اس کے اتحادیوں کے درمیان پہلے بڑے شگاف کی بنیاد پڑ گئی ہے جس کا نتیجہ کپتان حکومت کے خاتمے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔
سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ شوگر سکینڈل کی انکوائری رپورٹ مارکیٹ ہونے کے بعد جہانگیر ترین، گجرات کے چوہدری اور مخدوم اور دریشک خاندن جلد یا بدیر خانِ اعظم سے راہیں جدا کر لیں گے۔ انکے خیال میں کپتان کے یہ متاثرین وقتی طور پر اپنے ردِعمل کا اظہار نہیں کریں گے۔ بظاہر یہ لوگ دانت نکال کر، کھسیانی مسکراہٹ دکھا کر معاملے کو ٹالنے کی کوشش کریں گے لیکن اندرونِ خانہ وہ دانت پیستے ہوئے نئی حکمتِ عملی بنانا شروع کر چکے ہوں گے۔ مختصر یہ کہ شوگر شاہی کا اب عمران خان کے ساتھ گزارا مشکل ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ دونوں کے درمیان سرد جنگ مستقبل قریب میں کھلی جنگ بن جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا جہانگیر ترین کے پاس اب جوابی وار کے علاوہ کون سا راستہ بچا ہے؟ مونس الٰہی اور گجرات کے چوہدری شوگر کمیشن رپورٹ کے بعد کیسے اتحادی رہیں گے؟ مخدوم خسرو بختیار کیا اپنے بھائی عمر شہریار پر الزامات کو کبھی بھی ہضم کر پائیں گے؟ ہمایوں اختر، دریشک خاندان اور شوگر شاہی کے دوسرے بڑے بڑے نام اگر موجودہ حکومت سے سرعام رعایات لے سکتے ہیں تو کیا خفیہ طور پر اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے؟ ان کے رابطے، واسطے اور دھاگے مضبوط ہیں، اور وہ کمزور اور بحرانی دور کا فائدہ اٹھا کر مناسب وقت پر بھر پور وار کریں گے۔
یاد رہے کہ چینی بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ نے پی ٹی آئی کے سینئر ترین رہنما جہانگیر ترین کو مرکزی  ذمہ داروں میں شامل کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور موجودہ حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والے  جہانگیر ترین کچھ عرصہ قبل تک عمران خان کے بعد پارٹی کے اہم ترین رہنما سمجھے جاتے رہے ہیں مگر حالیہ مہینوں میں دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں سردمہری آگئی تھی اور اب وزیراعظم کے حکم پر فرانزک رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد دونوں کے درمیان فاصلے ناقابل یقین حد تک بڑھ چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث جاری ہے کہ کیا جہانگیر ترین کے راستے اب پی ٹی آئی سے جدا ہو جائیں گے یا وہ پی ٹی آئی کے اندر ہی بغاوت کو فروغ دیں گے؟ کیا وہ سیاست یا کاروبار جاری رکھ سکیں گے یا پھر گوشہ نشینی اختیار کریں گے؟ کیا انہیں جیل جانا پڑے گا؟  یہ وہ سوالات ہیں جو ایف آئی اے کی رپورٹ کے بعد ہر زبان پر ہیں۔ فرانزک رپورٹ کے بعد ٹوئٹر پر اپنے فوری ردعمل میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ جھوٹے الزامات پر انہیں دھچکا لگا ہے اور وہ ہر الزام کا جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں لمبی چھلانگیں لگائی گئی ہیں اور فرانزک آڈٹ کا بہانہ بنا کر ان کے خلاف چیزیں نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کا مذید کہنا تھا کہ وہ ملک کی چینی کی صنعت کے 21 فیصد کے حصہ دار ہیں مگر یہ کوئی جرم نہیں بلکہ بزنس ہے۔
چینی اور آٹے کے بحران پر ایف آئی اے کی رپورٹ میں ان کا نام آنے کے بعد بالآخر اپریل میں انہیں زرعی ٹاسک فورس سے علیحدہ کر دیا گیا جس کے بعد انہوں نے بھی کھل کر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے اختلافات کا ذکر کیا اور یہ تک کہا کہ عمران خان سے ان کے پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اہنے ہی دوست کی جانب سے خود پر کیے گئے اس حملے کا جواب کب اور کیسے دیں گے۔
دوسری طرف سچ تو یہ بھی ہے کہ جہانگیر ترین بھی کوئی دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ سہیل ورائچ کے مطابق بڑی بڑی شوگر ملوں کے مالکان گنے کے غریب کاشتکاروں کو کئی کئی سال ادائیگیاں نہیں کرتے۔ کارخانہ دار ہوں، آڑھتی ہوں یا سرکاری عمال‘ سب اسی غریب کاشتکار کو لوٹتے ہیں جو زمین کے پیٹ سے ملک بھر کے لوگوں کے لئے اناج اگاتا ہے، جو کھلے آسمان کے نیچے سادہ زندگی بسر کرتا ہے اور اس کا اناج کھانے، بیچنے اور اس سے قسم قسم کی مصنوعات بنانے والے شہروں میں ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھے اس کے استحصال کے منصوبے بناتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ کہ شوگر شاہی اسکینڈل بہت کچھ بےنقاب کر گیا مگر ابھی تو اسکا آغاز ہے، آگے ابھی بہت کچھ ہوگا۔ حروفِ تہجی کے لفظ ’س‘ سے شروع ہونے والے دو الفاظ سیاست اور سکینڈل کا ساتھ چولی دامن کا ہے۔ اسکینڈل طشت ازبام ہوتا ہے تو سیاست پر اس کے تادیر اثرات رہتے ہیں۔ ’’دی پرنس‘‘ کے مصنف میکاولی نے کہا تھا کہ حکمران کسی کے باپ کو قتل کرا دے تو اس کے بیٹے اسے معاف کر سکتے ہیں لیکن اگر حکمران کسی کی زمین چھین لے یا کاروبار کو نقصان پہنچا دے تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرتے۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں اس سنہری قول کو کار فرما ہوتے دیکھا ہے اور آگے بھی یہی ہوتا دیکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button