کیا شہباز حکومت کی عمرانڈوز کے ساتھ مفاہمت ممکن ہے؟

وزیراعظم شہباز شریف کی نو منتخب 18 رکنی کابینہ میں 13 ایم این اے، 2 سینیٹرز اور 3 ٹیکنو کریٹس کو شامل کیا گیا ہے۔اگر کابینہ کے اراکین پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں ایم کیو ایم، باپ، تحریک استحکام اور مسلم لیگ ق کو بھی حصہ دار بنایا گیا ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی جو صدر سمیت دیگر آئینی عہدے لینے کی خواہاں ہے، ان کی کابینہ میں ابھی تک نمائندگی نہیں ہے۔
وفاقی کابینہ کی تشکیل کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ کیا نو منتخب وفاقی کابینہ بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھائے گی یا شرپسندی کی سیاست کرنے والے عمرانڈوز کی ٹھکائی کرے گی؟ کیا مختلف سیاسی جماعتوں کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے سے پی ڈی ایم ٹو کا دور شروع ہو رہا ہے یا پھر ٹیکنو کریٹس کی شمولیت سے کسی قومی حکومت کی طرف بات جا رہی ہے؟ اس سوال پر مبصرین کی مختلف آراء ہیں۔ وفاقی کابینہ کی تشکیل کے بعد تحریک تحریک انصاف نے حکومت کو مفاہمت کی مشروط پیشکس کر دی ہے تاہم وفاقی کابینہ کو دیکھتے ہوئے سیاسی مبصرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مستقبل قریب میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مفاہمت ہوتی نظر نہیں آتی بلکہ قانون پسند وزیر داخلہ محسن نقوی کی تعیناتی کے بعد شرپسندی میں ملوث یوتھیوں کو کسے قسم کا ریلیف ملنے کے امکانات معدوم کو چکے ہیں۔وزارت داخلہ کی ذمہ داری محسن نقوی کو ملنے کے بعد مبصرین سمجھتے ہیں مقتدر حلقے عمران خان کیساتھ فی الحال مفاہمت کا دروازہ کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتے وگرنہ پی ٹی آئی قیادت کے شدید تحفظات کے بعد محسن نقوی شاید وزارت داخلہ کے ذمہ دار نہ ہوتے۔ محسن نقوی اور ان کو دی گئی حالیہ تمام ذمہ داریاں ایک استعارہ سمجھی جارہی ہیں کہ اب شرپسندوں کی سسٹم میں کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ محسن نقوی کی کارکردگی سے انتہائی مطمئن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل سسٹم کیساتھ وابستہ ہیں اور سسٹم کا کلیدی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
وفاقی کابینہ کی تشکیل بارے گفتگو کرتے ہوئے سینئیر صحافی اور تجزیہ کار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ’کابینہ کی جو شکل ہمارے سامنے آئی ہے اس سے 88 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جو کیا گیا اس کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ بی بی کو کہا گیا تھا کہ خزانہ اور خارجہ دونوں وزارتوں پر اپنے لوگ لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کابینہ میں اب خزانہ اور داخلہ شہباز شریف کے پاس نہیں ہے۔ میں تو اسے بالکل بھی پی ڈی ایم ٹو یا قومی حکومت نہیں کہوں گا یہ ہائیبرڈ پلس نظام ہے اور طاقت کا مرکز کوئی اور ہے۔‘
بعض دیگر سیاسی مبصرین کے مطابق شہباز شریف کی کابینہ میں اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ افراد کو اہم ترین وزارتیں دی گئی ہیں۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کو مقتدرہ کی حمایت حاصل ہے۔موجودہ کابینہ میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مقتدرہ کی شراکت بھی دکھائی دیتی ہے اور وفاقی کابینہ کی تشکیل مشکل معاشی فیصلے، امن و امان کے قیام اور سیاسی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ کابینہ میں شہباز شریف کی مفاہمت کی سوچ کے حامی افراد زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ نواز شریف کے قریب تصور کیے جانے والے رہنماؤں کی نمائندگی بہت کم ہے۔شہباز شریف کی گزشتہ حکومت میں خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف کی صورت میں نواز شریف کے بیانیے کے حامی افراد کی خاصی تعداد کابینہ میں شامل تھی جو کہ موجودہ کابینہ میں مائنس ہو گئے ہیں۔اس کے علاوہ کابینہ میں نگراں حکومت کا بھی کچھ تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ مختلف امور کے ماہر افراد کو بھی اہم وزارتیں تفویض کی گئی ہیں۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب رمدے اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو قومی سلامتی کے اداروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ نئی حکومت نگراں حکومت کے اصلاحات کے عمل کو آگے لے کر چلے گی اور اداروں سے بہتر تعلقات رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اتحادی حکومت اپنی مدت مکمل کر پائے گی؟ اس بارے میں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اداروں سے تعاون کے ساتھ ساتھ حکومت سیاسی محاذ آرائی کے خاتمے کے نتیجے میں ہی پانچ سال چل سکے گی۔ تاہم حکومت کتنے عرصے چلے گی اس کا فیصلہ آئندہ چار پانچ ماہ کے حالات سے ہو جائے گا۔ان کے بقول حکومت حریف سیاسی جماعت سے مفاہمت تو چاہتی ہے۔ لیکن مخالف جماعت کے مزاج کو دیکھتے ہوئے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس صورت حال میں حکومت کو سیاسی تقسیم سے نمٹنا ہے جس کے لیے دیکھنا ہو گا کہ حکومت بات چیت سے نمٹتی ہے یا طاقت کا استعمال کرتی ہے۔
مبصرین کے بقول پاکستان کی بہتری اسی میں ہو گی کہ موجودہ حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دیے جائیں۔ کسی نئے تجربے کی صورتِ حال عدم استحکام اور بے یقینی میں مزید اضافہ کرے گی۔ مبصرین کے مطابق حکومت کے اپنی مدت مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقتدرہ سے اچھے تعلقات برقرار رکھے اور تعاون کا سلسلہ جاری رہے۔ اس وقت حکومت کے اسٹیبلشمنٹ سے مثالی تعلقات ہیں۔ لیکن ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ مدت کے وسط میں آ کر حکومت اور فوج کے درمیان تعاون جاری نہیں رہتا جس کے باعث بحران پیدا ہو جاتا ہے۔تاہم اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ حکومت پارلیمانی طریقے سے سیاسی تقسیم کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ تاہم محاذ آرائی جاری رہی تو حکومت کے لیے مدت مکمل کرنا مشکل ہو گا۔

Back to top button