کیا شہباز شریف کی ”گڈ گورنس“ کہیں کھو گئی ہے؟

اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے ہر طرف نہ صرف انڈر پاس اور سڑکوں کا جال بچھا دیا تھا بلکہ بیورو کریسی کو بھی لگام ڈالی ہوئی تھی۔وہ کہیں ایک تنکا بھی ہلاتے تو پورے ملک میں اس کا چرچا ہوتا۔ دوسرے صوبوں کو پنجاب میں ترقی کی مثالیں دی جاتیں اور اب جبکہ انھیں پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے تو ان کی گڈ گورنس کہیں نظر کیوں نہیں آرہی؟ کیا شہباز شریف جیسا زیرک اور منجھا ہوا سیاستدان نئے چیلنجز سے گھبرا گیا ہے یا جن حالات میں انھیں ملک کی باگ ڈور سونپی گئی تھی وہ انھیں راس نہیں آئے اور حالات ہیں کہ بند مٹھی میں ریت کی طرح پھسلتے ہی جا رہے ہیں۔
ایک طرف انھیں ڈالر کے بحران، زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے منہ زور طوفان کا سامنا ہے تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے دھڑکے، عمران خان کی بڑھکیں، پی ڈی ایم کی ڈیمانڈیں اور پارٹی اراکین کی ناراضگیاں مار گئی ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بھی سب اچھا نہیں، رپورٹ میں اگر عمران خان کے دور حکومت کو کرپٹ کہا ہے تو شہباز شریف کی حکومت کے لئے بھی تالیاں نہیں بجیں۔ مہنگائی کے خلاف یہ بیانیہ بھی حکومت کو ریلیف نہیں دے سکا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہم نے نہیں عمران خان نے کیا تھا کیونکہ اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔
اس وقت ملک کی معیشت اور سیاست آتش فشاں کے دہانے پر ہے، بہتری اسی میں ہے کہ اس کے پھٹنے سے پہلے آئین کو عزت دیں جس کی رو سے رواں سال الیکشن ہو جانے چاہیئں۔اور یہ شہباز شریف کے لئے ہی نہیں پی ڈی ایم کے تمام بڑوں کے لئےامتحان کی گھڑی ہے۔یوں بھی نواز شریف کے بیانیے کے برعکس مصالحانہ رویہ اپنا کر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کی برسوں پرانی خواہش کو تو شہباز شریف نے پورا کر ہی لیا ہے،لیکن اگر موجودہ بحران اسی طرح برقرار رہا تو کیا وہ اس پر جم کے بیٹھ پائیں گے؟ فی الحال اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کیونکہ حالات اگر جوں کے توں رہے تو بادشاہ گر آصف علی زرداری بھی کچھ نہیں کر پائیں گے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتیں تو شاید شہباز شریف وزیر اعظم کے عہدے تک ہی نہ پہنچ پاتے۔ وہ اقتدار کو اپنے خاندان سے باہر جاتا نہیں دیکھ سکتی تھیں اور شہباز شریف یا ان کے بچوں کے پاس تو ہرگز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب شہباز شریف طبیعت کی خرابی اور کچھ بڑے بھائی صاحب کے جارحانہ بیانیے کی وجہ تھوڑی دیر کے لئے منظر سے اوجھل ہوئے اور حمزہ شہباز کے قدم پارٹی میں مضبوط ہونے لگے تو انھوں نے فی الفور مریم بی بی کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا۔
آج مریم نواز ایک واضح سیاسی سمت رکھتی ہیں جس میں کوئی ابہام نہیں اور خبر ہے کہ اس بار نواز شریف نے انھیں مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتارا ہے۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ ن لیگ میں ایک یا دو نہیں، تین دھڑے بن چکے ہیں۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ لندن ہو یا مریم نواز کا پاکستان واپسی کے بعد بہاولپور میں پہلا پڑاؤ، رانا ثنااللہ کے علاوہ خواجہ آصف، احسن اقبال، سعد رفیق یا کوئی سینئر رہنما قابل اعتماد نہ ہو؟ن لیگی حلقے تو یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ رابطہ مہم کا آغاز کرنے سے پہلے مریم بی بی نے انکل شاہد خاقان عباسی کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا اور مدعا تو یہ بھی ہے کہ لندن سے واپسی کے بعد ان کی موجودہ وزیر اعظم اور اپنے چچا شہباز شریف سے باضابطہ کوئی ملاقات کیوں نہیں ہوئی؟
