کیا صدرعارف علوی آرمی چیف کے تقررپرگند ڈالیں گے؟

حکومتی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر عارف علوی کی جانب سے فوجی تقرریوں کے معاملے پر گند ڈالنے کا کوئی امکان نہیں ہے اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل بھی خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔ حکومتی حلقوں نے ان افواہوں کو رد کیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کے بعد صدر عارف علوی نئے آرمی چیف کی تقرری کا حتمی نوٹیفکیشن روک سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران کی جانب سے آرمی چیف کے تقرر بارے منفی بیانات کے باعث یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ صدر عارف علوی حکومت کے تجویز کردہ آرمی چیف کے نام پر اعتراض کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بلاول بھٹو نے بھی کہا ہے کہ اگر صدر عارف علوی نے آرمی چیف کے تقرر کے عمل میں رکاوٹ ڈالی، تو انہیں غیر آئینی اقدام پر نتائج بھگتنے ہوں گے۔
تاہم عارف علوی کی جماعت تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ علوی نئے آرمی چیف سے متعلق سمری نہیں روکیں گے۔ اس خبر پر بھی مبصرین کی توجہ ہے کہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ہفتے صدر ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ملک کی مجموعی سیاسی اور اقتصادی صورتِ حال پر بات چیت کی تھی۔اس وقت مختلف حلقوں میں یہ مباحثہ جاری ہے کہ صدر کا اس اہم تقرر کے عمل میں آئینی کردار کیا ہے جب کہ ماضی میں اس عمل کو کس طرح انجام دیا جاتا رہا ہے۔
یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ صدر علوی آرمی چیف کی تقرری کے عمل میں کیا کردار اداہے اور کیا وہ وزیر اعظم کی جانب سے بھجوائی جانے والی سمری کو مسترد، التواء یا واپس بھجوا سکتے ہیں۔رواں ماہ کی 29 تاریخ کو جنرل باجوہ ریٹائر ہو رہے ہیں جب کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی مدتِ ملازمت رواں ماہ میں ہی پوری ہو رہی ہے۔ آرٹیکل 243 کی شق تین کے مطابق وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدر تینوں فورسز یعنی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کو تعینات کریں گے۔
بعض مبصرین کے مطابق آئین میں درج اس مختصر طریقۂ کار کی وجہ سے بہت سی تشریح، ابہام اور توجیحات جنم لے رہی ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی کو اصولی طور پر وزیرِ اعظم کی سفارش کو منظور کرنا چاہیے تاہم آئین انہیں اختیار دیتا ہے کہ وہ سمری کو نظرِ ثانی کے لیے دوبارہ وزیرِ اعظم کو ارسال کر سکتے ہیں۔ آئینی امور کے ماہر اور قانون دان حامد خان کہتے ہیں کہ آئین کی جس شق کے تحت فضائیہ اور بحریہ کے سربراہ کا تقرر کیا جاتا ہے، اسی شق اور عمل کے ذریعے ہی آرمی چیف کی تعیناتی ہوتی ہے البتہ وہ کہتے ہیں کہ جس قدر غیر معمولی اہمیت آرمی چیف کے تقرر کو دی جاتی ہے وہ فضائیہ، بحریہ کے سربراہ یا چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کو حاصل نہیں ہے۔ حامد خان نے کہا کہ آئین کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی ایک معمول کا عمل ہے۔ اس تعیناتی کی سمری دیگر سمریوں کی طرح ہی ہے وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایوانِ صدر ارسال کی جاتی ہے البتہ فوج کے سیاسی کردار اور ماضی میں لگنے والے مارشل لا کی وجہ سے یہ تقرر غیر معمولی بن چکا ہے۔
حامد خان کہتے ہیں کہ اس عمل میں اگرچہ حتمی اختیار وزیرِ اعظم کا ہی ہے البتہ آئینی طور پر صدر اسے التوا میں بھی ڈال سکتے ہیں جب کہ اس طرح یہ عمل زیادہ سے زیادہ 25 دن تک تاخیر کا شکار رہ سکتا ہے۔ ایوانِ صدر میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے فاروق عادل کہتے ہیں کہ صدر کا ریاست کے معاملات میں کردار اگرچہ رسمی ہے البتہ سربراہِ ریاست کے طور پر کسی بھی اہم تقرر ی اور قانون سازی کے لیے صدر کے دستخط سے اعلامیے کا جاری ہونا لازم ہے۔
فاروق عادل نے کہا کہ آرمی چیف کے تقرر میں اصل اختیار وزیرِ اعظم کا ہے البتہ صدر کی منظوری کی ناگزیر ضرورت کے بغیر کوئی بھی تقرر عمل میں نہیں لایا جاسکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کسی بھی سمری کو 15 دن تک التوا میں ڈال سکتے ہیں یا وزیرِ اعظم کو نظرِ ثانی کے لیے دوبارہ ارسال کر سکتے ہیں تاہم اگر وزیرِ اعظم دوبارہ وہی سمری ارسال کرتے ہیں تو 10 روز کے بعد اس کی خود بخود قانونی حیثیت بن جاتی ہے۔
ایسے میں اگر صدر عارف علوی آرمی چیف کی تعیناتی کی وزیرِ اعظم کی سمری کو التوا میں ڈالتے ہیں تو کیا اس سے کوئی بحرانی صورتِ حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے؟ اس بارے میں حامد خان کہتے ہیں کہ اس اہم تعیناتی کے عمل میں اگر صدر عارف علوی کی جانب سے تاخیر کی گئی تو اس کے بہت سے معاملات پر اثرات مرتب ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر کو اصولی طور پر وزیرِ اعظم کی سفارش ماننی چاہیے کیوں کہ وہ اس عمل کو صرف التوا کا شکار کر سکتے ہیں جب کہ آئین کے مطابق حتمی طور پر انہیں وزیرِ اعظم کی سفارش ہی ماننی ہوگی۔
