عمران 26 کو پنڈی میں دھرنا دیں گے یا اسلام آباد جائیں گے؟


تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ 26 نومبر کو فیض آباد چوک راولپنڈی پہنچنے والے مظاہرین سمیت اسلام آباد میں داخل ہوں گے، وہیں دھرنا دیں گے یا پھر لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کر دیں گے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی کارکنان 25 نومبر کو ہی فیض آباد چوک راولپنڈی پہنچ جائیں گے جہاں وہ 26 نومبر کو عمران خان کا استقبال کریں گے۔ یاد رہے کہ 3 نومبر کو وزیر آباد میں فائرنگ کے بعد لانگ مارچ بکھر چکا ہے اور اب صرف علامتی طور پر چل رہا ہے۔ عمران خان تب سے زمان پارک لاہور میں اپنے آبائی گھر میں مقیم ہیں۔

لیکن اب عمران نے اپنے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی میں جمع ہو کر اسلام آباد پہنچنے کی کال دی ہے۔ عمران نے پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا اور سندھ سے بھی کارکنان خو راولپنڈی بلانے کی ہدایت کی ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ دھرنا دینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان ایسا کر کے حکومت کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن عمران خان کا موقف ہے کہ انکا واحد مطالبہ ملک میں فوری نئے الیکشن کا انعقاد ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا بھی کہنا ہے کہ عمران خان راولپنڈی میں دھرنا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران کی ٹانگ کا درد اگلے چند روز میں کم ہوجائے گا اور وہ چلنے پھرنے کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ لیکن اس کا انحصار ڈاکٹروں کی رائے پر ہے۔ عمران ڈاکٹروں کو بتا چکے ہیں کہ درد کم ہونے پر وہ زیادہ دیر تک بستر پر نہیں رہنا چاہتے۔ اس خیال کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ 26 نومبر کو عمران خان راولپنڈی میں دھرنا دینے کی بجائے اسلام آباد میں داخل ہونے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم عمران نے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ وہ پنجاب کی حدود میں دھرنا دیں گے یا وفاق کی حدود میں۔ راولپنڈی پنجاب کی حدود میں آتا ہے جبکہ اسلام آباد وفاق کی حدود میں آتا ہے۔

ادھر وفاقی حکومت نے عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ انتظامی طور پر بھی پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں غیر مجاز جگہ یامقام تک پہنچنے سے روکنے کی نئی پلاننگ پر کام شروع کردیا ہے۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر عارف علوی اپنی جماعت کو اسلام آباد میں حساس علاقے میں داخل ہونے سے باز رہنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کا اشارہ وہ مخصوص با اختیار حلقوں کو دے بھی دے چکے ہیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس سپریم کورٹ کررہے تھے، نے کہا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو نئی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز پی ٹی آئی سے کہا کہ اسے اسلام آباد میں جلسہ کرنا ہے تو وہ انتظامیہ کو نئی درخواست دے۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان درخواستوں اور لانگ مارچ کے حق و محالفت میں ایک تسلسل سے کارروائیاں اور درخواستیں دی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’اس سب کے بیچ، عمران خان لانگ مارچ اور دھرنے کا پلان مکمل کرکے بیٹھے ہیں۔

بظاہر تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان لانگ مارچ موخر یا معطل کرچکے ہیں۔ یہ بھی تصور ابھر رہا ہے کہ لانگ مارچ فیل ہوچکا ہے۔ لیکن کچھ ایسی قوتیں ہیں جو عمران خان کو ہر حال میں لانگ مارچ اور دھرنے پر مائل اور قائل کر چکی ہیں۔ اس میں ان قوتوں کے کیا فوائد ہیں؟ یہ ابھی تک تو بظاہر واضح نہیں ہے۔ لیکن اس کے پس پشت عوامل یہی ہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی سب سے اہم معاملہ ہے، جسے تحریک انصاف اور ان کی حامی قوتیں ہر حال میں موجودہ حکومت کو اتنی آسانی سے حل نہیں کرنے دیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب عدالتوں میں لانگ مارچ بارے درخواستیں دی جا رہی ہیں۔ جب کہ دوسری جانب قاتلانہ حملوں کے شبہات کے باوجود عمران نے پنڈی پہنچنے کا اعلان کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو صرف عدالت سے ایک خوف ہے کہ 25 مئی کے لانگ مارچ کے موقع پر عدالتی حکم نہ مان کر توہین عدالت کا ارتکاب کیا گیا، جس کی سماعت بھی گزشتہ روز ہوئی اور اس پر وزارت داخلہ نے شواہد جمع کرائے۔ اس کیس کا فیصلہ بھی لانگ مارچ اور دھرنے پربہت زیادہ اثرات ڈالے گا۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی سینئر قیادت ابھی اس کیس پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

توہین عدالت کیس جواگلے ہفتے تک سماعت ملتوی ہونے کی وجہ سے آگے بڑھ گیا ہے، اس میں عمران کے تفصیلی جواب پر عدالت کیا کہتی ہے؟ یہ عدالت پر منحصر ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ عمران خان جلد از جلد راولپنڈی پہنچنا چاہتے ہیں اور موجودہ حکومت کوا تنا وقت نہیں دینا چاہتے کہ وہ آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے۔ کیونکہ جہلم پہنچنے پر عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جب مارچ پنڈی پہنچے گا تو اس کی قیادت خود کریں گے۔ یعنی تحریک انصاف کسی صورت ابھی تک لانگ مارچ یا دھرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ اس سوال پر کہ کہیں دھرنے اور لانگ مارچ کے صرف دعوے تو نہیں کہ پس پردہ عمران خان کسی ڈیل کے انتظار میں ہوں؟ تو ذرائع نے بتایا کہ ڈیل کا وقت گزر چکا ہے۔ عمران نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کافی بگاڑ پیدا کرلیا ہے۔ جوش خطابت میں انہوں نے ایسی باتیں بھی کردیں کہ ڈیل کی باتیں اب ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ اگر ڈیل کا احتمال بھی ہوتا تو وہ لانگ مارچ اور پنڈی سے اس کی قیادت کی بات اس زور و شور سے نہ کرتے۔ شاید اسی لیے وفاقی حکومت بھی مطمئن ہے اور وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے بیٹھی ہے۔ جب کہ تحریک انصاف، اسٹیبلشمنٹ سے تقریباً نا امید ہو کر عدالتوں سے رجوع کرچکی ہے کہ کسی طرح اسے عدالتوں سے ریلیف ملے اور وہ ایک بار اسلام آباد داخلے کا اجازت نامہ حاصل کرلے۔ باقی مقاصد وہ اسلام آباد جاکر حاصل کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں۔ یہ پلان کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ چند روز میں اس کی جھلکیاں بھی قوم کے سامنے آجائیں۔

Back to top button