کیا نوازشریف لندن میں بیٹھ کربھی بادشاہ گرہیں؟


نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے لندن میں ہونے والی پے در پے میٹنگز کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا سابق وزیراعظم نواز شریف کئی برس سے بیرون ملک ہونے کے باوجود اب بھی بادشاہ گر کی حیثیت رکھتے ہیں؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت نئے آرمی چیف کی تقرری سمیت بہت سے اہم سیاسی اور غیر سیاسی فیصلوں کے لیے لندن کی طرف دیکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان جیسی مقبول قیادت کی ملک میں موجودگی میں کیا سچ مچ نواز شریف کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ملک کے سیاسی منظر نامے کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دے سکیں؟

پاکستان کا وزیراعظم کون ہو گا، آرمی چیف کون بنے گا؟ ملک کا صدر کس کو بننا ہے، کسے عہدے پر رہنا ہے اور کسے گھر بھجوانا ہے، اپوزیشن اتحاد میں ڈیڈ لاک کا خاتمہ کیسے کروانا ہے؟ نواز شریف ماضی میں یہ سارے فیصلے خود کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس وقت ایک اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کے بدلتے ہوئے حالات میں کیا نواز شریف اب بھی اتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز شریف پاکستانی سیاست میں اب بھی ’ریلیوینٹ‘ ہیں۔ ان کو سیاست سے نکالنے اور اہم معاملات سے باہر رکھنے کی جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں وہ ناکام رہی ہیں۔ اب وہ خود بادشاہ بنتے ہیں یا کسی کو بادشاہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ سب بعد کی باتیں ہیں ہمیں حتمی طور پر یہ جاننے کے لیے کچھ انتظار کرنا ہوگا۔‘‘

جب پوچھا گیا کہ کیا نواز شریف کی روایتی سیاست عمران خان کا مقابلہ کر سکے گی؟ تو سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ سیاست دانوں کی مقبولیت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ چند ماہ پہلے اقتدار کے دنوں میں عمران خان کی مقبولیت کافی کم ہو گئی تھی ان کی اپنی پارٹی کے لوگ ان کو چھوڑنا چاہ رہے تھے۔لیکن ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہو گیا۔ مجیب الرحمٰن شامی نے کہا، ’’اسی طرح نواز شریف مشرف دور کے بعد جب ملک چھوڑ کر چلے گئے تو یہ تاثر عام تھا کہ ان کی سیاست اب ختم ہو گئی ہے۔ لیکن وہ ملک میں واپس آئے اور دوبارہ وزیر اعظم بھی بنے۔ اس لیے کسی شخص کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں قطعیت کے ساتھ حتمی رائے دینا آسان نہیں ہے۔‘‘

جب پوچھا گیا کہ کیا نواز شریف اپنی سیاسی میراث کامیابی کے ساتھ اگلی نسل کو منتقل کر سکیں گے تو سینئر صحافی شکیل وڑائچ نے کہا کہ نواز شریف بڑی حد تک اپنی سیاسی میراث مریم نواز کو منتقل کر چکے ہیں اور اب مریم نواز ہی ان کی جانشین ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ وہ سیاسی حقیقت ہے جسے بڑی حد تک تسلیم بھی کر لیا گیا ہے۔ اب مریم نواز کیا اس سیاسی میراث کو سنبھالتی ہیں، وسعت دیتی ہیں یا آگے بڑھاتی ہیں اس کا انحصار مریم نواز کی اپنی صلاحیتوں پر ہو گا۔‘‘

نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے حامی یا مخالف؟ اس سوال پر ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے زیرسایہ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا پھر وہ اسٹیبلشمنٹ پر برستے بھی نظر آئے۔ کبھی وہ ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں اور کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کر کے اپنے بھائی کو وزیراعظم بنوانے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کا تعلق دونوں کی اپنی اپنی ضرورتوں کے تابع ہوتا ہے۔

Back to top button