کیا صرف عورت ہی دو ٹکے کی ہوتی ہے؟

کیا خلیل الرحمان قمر کی بلاک بسٹر ڈرامہ سیریل ‘میرے پاس تم ہو’ کا بنیادی مقصد عورت کو دو ٹکے کا انسان ثابت کرنا ہے اور اسکے پیچھے کوئی ذاتی وجوہات ہیں؟
بحث یہ نہیں کہ مصنف خلیل الرحمٰن قمر کا ڈرامہ سیریل "میرے پاس تم ہو” میں ایک نیا موضوع چھیڑا گیا ہے، کیونکہ خود خلیل الرحمٰن بھی یہ کہانی پہلے لکھ چکے ہیں۔ بحث یہ بھی نہیں کہ اس ڈرامے کو سوشل میڈیا کی بیساکھی کا سہارا نہ ملتا تو شاید یہ اتنا پاپولر نہ ہوتا؟ کیونکہ ٹیلی وژن کی تاریخ میں ایسے ڈرامے بھی گزرے ہیں جو آن ایئر ہوتے تو سڑکیں ویران ہو جاتیں۔ یہاں بحث یہ ہے کہ خلیل الرحمٰن نے کیا واقعی عورت کو "دو ٹکے” کی کر دیا ہے؟ فیمینسٹ عورتوں اور مردوں کا خیال ہے کہ خلیل الرحمٰن چونکہ عورتوں سے نفرت کرتے ہیں، اس لئے انھوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ وہ لاکھ کہتے رہیں کہ میں عورت کی عزت کرتا ہوں لیکن اپنے ڈرامے میں انھوں نے عورت کے کردار کی دھجیاں اُڑا دی ہیں۔ جبکہ بقول خلیل الرحمٰن، جس عورت میں حیا اور وفا نہیں، میں اسے عورت ہی نہیں مانتا، اور نہ ہی ایسی عورت کسی رعایت کی مستحق ہے۔ دراصل یہاں مسئلہ ان فیمنسٹس کو ہے جو”میرا جسم میری مرضی” کو حقوق کا نام دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اچھی یا بُری عورت کی تشریح کون کرے گا؟ خلیل الرحمٰن یا فیمینسٹ مرد اور خواتین؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ دو متضاد سکول آف تھاٹ ہیں اور "میرے پاس تم ہو” کی وجہ سے آج کل دونوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں۔ فیمینسٹس کی طرف سے جہاں خلیل الرحمٰن پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، وہیں خلیل الرحمٰن بھی "فمینزم” کے خوب لَتے لے رہے ہیں۔ بہرحال دونوں اپنی اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں۔ ایک طرف خلیل الرحمٰن اپنے آپ کا عقلِ کل سمجھ رہے ہیں تو دوسری طرف فیمینسٹس کا نعرہ ہے کہ عورت مرد کا دل بہلانے کا سامان نہیں، ایک جیتا جاگتا وجود ہے اور اسے یہ سند خلیل الرحمٰن جیسے مردوں سے لینے کی ضرورت نہیں کہ وہ صحیح ہے یا غلط؟
یہ تنازعہ کہ ڈرامے میں عورت کا انتہائی منفی کردار کیوں دکھایا گیا ہے؟ شاید اتنا طول نہ پکڑتا اگرخلیل الرحمٰن اپنی مخصوص سوچ یا نظریے کا اتنا ڈھنڈورا نہ پیٹتے اوراپنے نقطہء نظر کا پرچار کرتے ہوئے اتنے بد لحاظ نہ ہوتے کہ فیمینزم کے حامیوں کو میدان میں اُترنا پڑتا۔ حال ہی میں دونوں کے درمیان شدید لفظی جنگ کا مظاہرہ ایک ٹی وی ٹاک شو کے دوران بھی دیکھنے میں آیا جب عورت کی عزت کرنے کے دعوےدار خلیل الرحمٰن نے ایک فیمینسٹ طاہرہ عبداللہ پر چلانا شروع کر دیا۔۔۔ شاید ایک باشعور مرد کے، ایک باشعور اور مہذب خاتون کو مخاطب کرنے کے اس انداز کے پیچھے بھی ان کی کوئی منطق ہو؟ خیر مانا کہ خلیل الرحمٰن جو کہتے ہیں وہ چونکہ ان پر الہام کی صورت نازل ہوتا ہے، اس لئے حرفِ آخر ہوتا ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ان کا نقطہء نظر ہو سکتا ہے، آسمانی صحیفہ نہیں؟ وہ اپنے نقطہء نظر کی حمایت میں طاہرہ عبداللہ اور ان جیسے دوسرے فیمینسٹس پر یہ الزام عاید نہیں کر سکتے کہ انگریزی کی چند کتابیں پڑھ کر یا چند جملے بول کر وہ عورتوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
طاہرہ عبداللہ کہہ رہی تھیں کہ ہمیں یہ طعنے اس لئے دیئے جاتے ہیں کہ عورت کے حوالے سے ہماری سوچ اور نظریہ مختلف ہے، ہم عورت کو انسان سمجھتے ہیں اور اس کے لئے برابری کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ طاہرہ نے کہا، ہمیں پتا ہے کہ ہمارے کیا حقوق ہیں؟ جس پر خلیل الرحمٰن بولے کہ اگر ایسا ہے تو پلے کارڈز اٹھا کر مردوں سے آپ کن حقوق کی ڈیمانڈ کر رہی ہوتی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ لوگ انھیں "مِس کوٹ” کرنا چھوڑ دیں، ان کی کسی سے دشمنی نہیں، انھوں نے تو صرف ان عورتوں کے چہروں کو بے نقاب کیا ہے جو قصوروار نہ ہوتے ہوئے بھی مردوں کو گالی نکالتی ہیں اور انھیں حقارت سے پکارتی ہیں۔
خلیل الرحمٰن کے خیال میرے ڈرامے کے جس کردار پر تنقید ہو رہی ہے، اس کا تعلق تو باحیا اور وفا کرنے والی عورت سے ہے ہی نہیں بلکہ دغا اور گناہ کرنے والی اس عورت سے ہے، جو اسی طرح سزا کے لائق ہے جس طرح گناہ کرنے والا مرد۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ عورت مرد کو ذلیل بھی کرے، اس کے بندھن میں ہوتے ہوئے "چیٹ” کرے اور بخشی بھی جائے؟
دوسری طرف طاہرہ عبداللہ کا مؤقف تھا کہ خلیل الرحمٰن ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت عورتوں کو نیچا اور مرد کو برتر دکھانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ شو میں موجود جرنلسٹ کم فیمینسٹ اویس توحید نے بھی طاہرہ عبداللہ کے مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ سٹیریو ٹائپ رائٹر دقیانوسی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف میڈیا ہاؤسز بھی سمجھتے ہیں کہ ہم عورت کو مجبور دکھائیں گے، اس کی تذلیل کریں گے تو ریٹنگ زیادہ آئے گی۔ دیکھا جائے تو یہ وہ لامحدود بحث ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر ایک کے پاس اپنا نظریہ، اپنی دلیل ہے!!
