کیا طالبان دہشتگردوں کی رہائی عمران کی سازش تھی؟   

تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو اگر کسی سازش یا ذاتی مقصد کے تحت جیلوں سے چھوڑا گیا تھا تو اس سازش کا سراغ لگانے کیلئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں  کے خلاف تحقیقات کا عمل شروع ہونے جارہا ہے ۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار  شکیل انجم اپنی ایک تحریر میں بتاتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا تحریک طالبان کے جنگجوؤں کی رہائی کا فیصلہ اگر کم فہمی کی بجاۓ ایک قومی سازش ثابت ہو گیا تو یہ حمودالرحمن کمیشن سے بھی بڑا انکشاف ہو گا ۔  ماضی کی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی بد اعمالیوں میں عمران خان کا ایک معاہدے  کے تحت طالبان  دہشت گردوں کو جیلوں سے رہا کرنے اور افغانستان میں مقیم پاکستانی دہشتگردوں کو پاکستان میں واپس لا کر آباد کرنے کا فیصلہ نمایاں ہے جس نے ملک میں امن کی امید کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی سہولت کاری سے یہ معاہدہ تحریک طالبان پاکستان  کی اعلیٰ قیادت اور عمران خان کے درمیان نومبر 2021 میں نامعلوم وجوہات اور پراسرار مقاصد کے حصول کے لئے طے پایا تھا ۔عمران خان نے 16 دسمبر2014کو پشاور میں آرمی پبلک سکول میں پیش آنے والا دنیا کی تاریخ میں دہشتگردی کا بدترین واقعہ بھی فراموش کر دیا جس میں معصوم طالبعلموں کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا۔ اس کا دکھ ساری دنیا میں محسوس کیا گیا لیکن عمران خان نے شائد اس قومی سانحہ کو محسوس نہیں کیا ۔ A P S  سانحہ کی ساتویں برسی پر ہی "جذبۂ خیرسگالی” کے تحت انہوں نے  دہشتگردی کے اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے طالبان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا لیکن دہشت گردوں   نے اس "خیر سگالی” کا جواب صرف 14ماہ کے اندرپشاور  پولیس لائینز  کی مسجد میں خودکش دھماکے کی صورت میں دیا جس میں 101پولیس اہلکاروں کو  نماز کے دوران "انتقام کا نشانہ” بنایا گیا ۔

شکیل انجم  کہتے ہیں کہ عقل و شعور اور دہشت گردی کے خلاف نظریہ رکھنے والے ناقدین بجا طور پر دہشتگردی کی موجودہ لہر کا ذمہ دار عمران خان اور ان کی غلط پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ  عمران خان اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد بھی طالبان قیادت سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی عمران خان کی ایسی ہی پالیسیوں کی وجہ سے ان کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تھا۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ دہشت گردی کی یہ لہر آئندہ عام انتخابات تک جاری رہیں گی اور دہشتگردوں کا آئندہ ہدف دفاقی دارالحکومت اور وہاں کی اہم سیاسی، عسکری اور حکومتی شخصیات کے علاوہ سرکاری عمارتوں، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر سمیت عدالتوں کو نشانے پر رکھا جاسکتا ہے۔

شکیل انجم کے مطابق سیاسی کھلاڑیوں اور وقت کی نزاکت کو سمجھنے والے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ عمران خان کا برا وقت شروع ہو چکا ہے کیونکہ فارن فنڈنگ، توشہ خانہ ، ٹیریان وائٹ، اداروں کی توہین اور فوج کو طبقوں میں تقسیم کر کے عوام میں ان کے لئے نفرت پیدا کرنے کے علاوہ عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے حکام کے خلاف بد زبانی جیسے مقدمات کے فیصلے آنا ابھی باقی ہیں ۔اس کے علاوہ وزیر اعظم نے سانحۂ پشاور کے بعد طالبان کو جیلوں سے رہا کرنے اور افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو پاکستان واپس لانے کے واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا اعلان بھی کر دیا ہے، اس بات کا احساس عمران خان کو بھی ہے اور انہیں قانون کی طاقت کا بخوبی علم ہے،یہی وجہ ہے وہ جیل جانے کے خوف کا شکار ہیں اور اس مرحلے پر ایسی ایسی غلطیاں کر جائیں گے جس کے نتیجے انہیں اپنی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کا علم ہو جائے گا لیکن تب تک وہ جیل کے قریب پہنچ چکے ہوں گے- ’’جیل بھرو تحریک‘‘ کا اعلان شائد ان کا آخری بیانیہ ثابت ہو کیونکہ اس بار ان کے لئے”یو ٹرن  ” تک پہنچنا ممکن نہ رہے۔

شکیل انجم کہتے ہیں کہ یہ کس قدر حیران کر دینے والی بات ہے کہ، طالبان کی پسندیدہ شخصیت، عمران خان، آصف زرداری پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کے قتل کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے لئے انہوں بھاری معاوضےپر دہشتگردوں کے ایک گروہ کی خدمات حاصل کی ہیں۔لیکن یہ کوئی حیران کرنے والی بات نہیں کہ شیخ رشید احمد نے ایک ٹی وی چینل پر عمران خان کے اس دعویٰ، الزام یا بیانیہ کی بھرپور تائید کی اور جیل چلے گئے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تائید کرنے والے کے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے تو الزام لگانے والے کے ساتھ کیا ہو گا؟ حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اب دیکھنا یہ چاہتے ہیں کہ اب عمران خان کے ساتھ کیا ہوتاہے؟

Back to top button