کیا عامر لیاقت استعفے پر قائم رہیں گے یا واپس لے لیں گے؟

https://youtu.be/Ufv7DilMQ_Q
اپنی متنازعہ حرکات اور بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والے تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے استعفے سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے قومی اسمبلی سے اپنا استعفیٰ ارسال کردیا ہے، اللہ تعالیٰ عمران خان اور پی ٹی آئی کا حامی و ناصر ہو۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں استعفے کی وجہ بیان نہیں کی لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ناراضی کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے۔ پچھلے برس بھی انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن بعد ازاں عمران خان سے ملاقات کے بعد انھوں نے اسے واپس لے لیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی عامر لیاقت حسین اپنا استعفیٰ واپس لے لیتے ہیں یا نہیں؟
عامر لیاقت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس مرتبہ استعفیٰ واپس لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت حسین نے بارہا وزیراعظم کو اپنے حلقے میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ انہیں ان کے حل کے لئے مطلوبہ فنڈز مہیا کیے جائیں لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی لہذا انہوں نے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔ پچھلی مرتبہ انہوں نے استعفی دیتے وقت ایک وجہ کراچی میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران کو بھی قرار دیا تھا کیونکہ وہ اپنے حلقے کے لوگوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں تھے۔ تاہم چند روز بعد ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ان کا رکنیت سے استعفیٰ مسترد کردیا اور کراچی کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اپنی متعدد ٹوئٹس میں عامر لیاقت حسین نے کہا تھا کہ ان کی وزیر اعظم عمران خان سے طویل ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے میرا 4 صفحات پر مبنی استعفیٰ مسترد کردیا اور کہا کہ اس پر بات نہیں ہوگی۔ عامر لیاقت کے بقول وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘آپ تحریک انصاف کا اثاثہ ہیں، آپ کو اسمبلی چھوڑنے کی ضرورت نہیں، پارٹی کو آپ کی ضرورت ہے اور ہم نے مل کر پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔’
یاد رہے کہ عامر لیاقت نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز متحدہ قومی موومنٹ سے کیا تھا اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں وہ 3 سال تک وزیر مذہبی امور بھی رہے تھے، تاہم مارچ 2018 میں انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
لیکن چند ماہ بعد ہی ان کی تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ اختلافات سامنے آگئے تھے جو ان کو پارٹی میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت وزیراعظم عمران خان کے خلاف گفتگو کرنے سے باز نہیں آتے لہذا ان کا محاسبہ ضروری ہے۔ اس حوالے سے کراچی سے منتخب ہونے والے کئی دیگر حکومتی ممبران قومی اسمبلی نے بھی وزیر اعظم کو عامر لیاقت کی شکایات کی تھیں۔ تاہم پچھلی مرتبہ اپنا استعفی واپس لیتے وقت عامر لیاقت نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے ان سے کہا کہ ‘جمہوریت میں پارٹی کے اندر سے مسائل کے حل لیے اٹھنے والی آوازیں پارٹی کو آکے لے کر جاتی ہیں، اور میں خوش ہوں کہ آپ نے کراچی کی آواز بن کر ہم سب کی توجہ شہر کے مسائل کی طرف مبذول کرائی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان عامر لیاقت حسین کو منا کر اہنا استعفیٰ واپس لینے پر قائل کرتے ہیں یا نہیں؟
