کیا عمران خان قومی اسمبلی توڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں آج کل یہ افواہ گرم ہے کہ وزیراعظم عمران خان سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی اور صادق سنجرانی کی ممکنہ فراغت کی صورت میں قومی اسمبلی میں اکثریت کھونے سے بچنے کے لیے قومی اسمبلی توڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین معاملات کی نوعیت وہ نہیں رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی اور وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اسی لیے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن اب ایسے فیصلے دے رہے ہیں جن سے کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے اور حکومت کا نقصان ہو رہا ہے۔ لہذا اب وزیراعظم کے قریبی حلقے اس تجویز کو دانستہ طور پر لیک کر رہے ہیں کہ اگر حکومت کے حالات سینیٹ الیکشن کے بعد مزید خراب ہوئے اور ان کو وزارت عظمیٰ ہاتھ سے جاتی دکھائی دی تو وہ قومی اسمبلی توڑ دیں گے۔ حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کوئی مذید بڑا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں چونکہ آرمی چیف چیف کی مدت معیاد میں توسیع کے نئے قانون میں اب وزیراعظم کے پاس یہ اختیار بھی موجود ہے کہ وہ آرمی چیف کو اسکے عہدے کی معیاد پوری ہونے سے پہلے بھی فارغ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پچھلے کچھ عرصے سے آرمی چیف اور وزیراعظم کے تعلقات میں خرابی آ چکی ہے اور اب عمران خان آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں آئی ایس آئی چیف کی تبدیلی کے حوالے سے اڑنے والی افواہوں کا تعلق بھی موجودہ صورتحال سے ہے جن کی تردید ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس میں کی تھی۔
وزیر اعظم کے اسمبلی توڑنے کی تجویز کے حوالے سے غیر سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کسی بھی صورت یہ نہیں چاہے گی کہ موجودہ اسمبلی اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ختم کر دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں حکومتی پارٹی کی اکثریت کھونے کی صورت میں اسٹیبلشمینٹ اسمبلی کے اندر سے ہی تبدیلی لانے کے عمل کی حمایت کرے گی، نہ کہ اسمبلی کو توڑنے کی۔ چنانچہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سینیٹ الیکشن کے فوری بعد اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں داخل کر دی جائیں تاکہ وزیر اعظم اسمبلی توڑنے کی پوزیشن میں نہ رہیں۔ یاد رہے کہ آئین کے مطابق جب وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک داخل کر دی جائے تو اس کا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔
یکم مارچ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے صدارتی ریفرنس پر آنے والے فیصلے نے حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت کروائے جائیں لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ آگیا ہے کہ سینٹ کا الیکشن آئین کے تحت ہوتا ہے اور اسے خفیہ رائے شماری کے تحت ہی کروایا جائے گا۔ اس صورتحال میں اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسلام آباد سے سینیٹ کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی حفیظ شیخ کو شکست دے دیں جس کا واضح مطلب چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد ہوگا۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی جیت کی صورت میں اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد لانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی بلکہ خود بخود وزیر اعظم پر بھی لازم ہوجائے گا کہ وہ اعتماد کا ووٹ لے کر ثابت کریں کہ انہیں پارلیمنٹ کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے۔ چنانچہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں ہواؤں کا رخ بدلنے کے بعد اپنی عزت داؤ پر لگانے کی بجائے عمران خان اسمبلی توڑ کر عوام کے پاس جانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے اس فیصلے کا جواز سینٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کو بھی بنا سکتے ہیں اور یہ موقف لے سکتے ہیں کہ چونکہ سینیٹ الیکشن میں اراکین پارلیمینٹ کی خریدو فروخت ہوئی ہے لہذا میں نے ایسی اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن دوسری جانب غیر سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اسمبلی توڑنے کا فیصلہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو گا کیونکہ وہ 2002ء سے کوئی بھی اسمبلی توڑے یا تڑوائے بغیر اپنے اہداف کے حصول کی پالیسی لے کر چل رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے اسٹیبلشمنٹ خود پر لگا یہ داغ دھونے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ جمہوریت دشمن ہے۔ ویسے بھی دنیا بھر میں وزرائے اعظم کی تبدیلی کو جمہوریت دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، لیکن پارلیمنٹ کو اسکی معیاد سے پہلے توڑنے کو ضرور جمہوریت دشمن اقدام سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں سیاسی نظام جتنا بھی کمزور ہو لیکن اسمبلی موجود ہو تو اسے جمہوریت ہی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ اسٹیبلیشمنٹ اب صدر کے ہاتھوں منتخب حکومتیں تڑوانے کا پرانا فارمولا ترک کر کے بیک سیٹ ڈرائیونگ کرتے ہوئے کنٹرولڈ جمہوری نظام لے کر چل رہی ہے جس میں اقتدار اسکے ہاتھ میں ہوتا ہے اور حکومت کوئی اور چلا رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ قومی اسمبلی توڑے جانے کی دھمکی اپوزیشن کو نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلیشمنٹ کو دی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے کٹھ پتلی کو آخری حد تک جانے کی اجازت دے گی یا ایسا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہی اس کی چھٹی کروا دے گی۔
