کیا عمران صداقت اور امانت کے کسی معیار پر پورا اترتے ہیں؟


سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب تک صرف ایک سیاست دان کو عدالت نے صادق اور امین ڈکلیئر کیا ہے جس کا نام عمران خان ہے، لیکن آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے کہ کیا خان صاحب امانت اور صداقت کے کسی بھی معیار پر پورا اترتے ہیں؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صداقت کی حالت یہ ہے کہ ہم عدالتوں میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں۔ ایسے جھوٹ کا جج کو بھی علم ہوتا ہے اور دونوں جانب کے وکلاء کو بھی لیکن پھر بھی اس پر یقین کر کے فیصلہ جاری کر دیا جاتا ہے۔ پیچھے رہ گئی امانت تو صدر عارف علوی نے 29 نومبر2021 کو گورنر ہائوس سندھ میں بیٹے کے کاروبارکی تقریب بھی منعقد کی اور صدارت بھی فرمائی۔ اسی طرح ماحولیات کے مشیر امین اسلم گلاسکو کانفرنس میں سرکاری خزانے سے اپنے پورے خاندان کو بزنس کلاس میں سفر کرا کر اسکاٹ لینڈ لے گئے، وہاں سب نے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہائش اختیار کی مگر اس کانفرنس میں پاکستان کی کنٹری بیوشن صدر تھی۔
ہمارے اسٹال پر پانچ خالی کرسیوں اور ایک بند ایل سی ڈی کے سوا کچھ نہیں تھا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ وہی پاکستان ہے جہاں عموماً سیاستدانوں کو چور اور ڈاکو قرار دیا جاتا ہے لیکن آج دن تک جس ایک شخص کو عدالت نے صادق اور امین قرار دیا اس کا نام عمران خان ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے، کیا عمران امانت اور صداقت کے کسی بھی معیار پر پورا اترتے ہیں؟۔
جاوید کہتے ہیں کہ ہمارے رسولؐ نے پوری زندگی سادگی اور عاجزی اختیار کی، لیکن ہم میں کتنے لوگ سادہ اور عاجز ہیں؟ ہمارے رسول نے دینے والے ہاتھ کو لینے والے ہاتھ سے افضل قرار دیا۔ انہوں نے تین سال تک شعب ابی طالب میں چمڑا ابال کر کھا لیا لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، لیکن ہمارا پورا ملک بھکاریوں پر مشتمل ہے۔ صدر اور وزیراعظم سے لے کر چپڑاسی تک سب کے سب ہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ہماری مسجدوں میں بھی چندے کا اعلان ہوتا ہے۔
بقول جاوید چوہدری اپنے جوتوں میں ہیروئن چھپا کر سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کو اب حج اور عمرے کے ویزے بھی نہیں ملتے۔ پاکستان وہ ملک بن گیا ہے جہاں شیعہ کے پیچھے سنی اور سنی کے پیچھے دوسرا سنی نماز نہیں پڑھتا۔ ہمارا اللہ ایک، رسول ایک اور قرآن مجید بھی ایک ہے لیکن مسلمان 72 اور یہ بھی ایک دوسرے کی گردن اتارنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے کسی مدرسے میں اسلام نہیں پڑھایا جاتا مسلک پڑھایا جاتا ہے اور یہ مسلک بھی دوسرے مسلک کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ کے ٹھیکے دار بھی ہم ہیں۔
رسول اللہﷺ بھی صرف اور صرف ہمارے ہیں اور ہم نے صحابہؓ بھی آپس میں بانٹ لیے ہیں لیکن صحابہؓ سے لے کر اللہ تک ہم بات کسی کی بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مومنین کی فراست کا عالم یہ ہے گستاخی فرانس میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم پاکستان کی بند کر دیتے ہیں، عمارتیں بھی اپنی جلاتے ہیں، سڑک پر ایمبولینس تک کو راستہ نہیں دیتے اور ہم عاشق رسول بھی ہیں۔
جاوید چوہدری سوال کرتے ہیں کہ ہم آخر ہیں کیا اور کیا اپنی ان گندی کرتوتوں کے ساتھ ہم فخر انسانیت کا نام لینے کے قابل بھی ہیں، ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے؟ دراصل ہم درندے بن چکے ہیں، ہماری نظر میں کوئی انسان اب انسان نہیں، ہم صرف سٹیکرز پھاڑنے پر ایک انسان کو اینٹوں اور ڈنڈوں سے مار کر اس کی لاش کو سڑک پر گھسیٹتے ہیں اور آخر میں اسے آگ لگا کر لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہیں۔ ہزاروں لوگ یہ تماشا دیکھتے ہیں، جلتے ہوئے انسان کے ساتھ سیلفیاں بناتے ہیں۔ بقول جاوید، عاشق رسول تو دور کی بات، ہم لوگ تو انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں، یہاں دودھ سے لے کر دل کے اسٹنٹ تک جعلی ملتے ہیں، لوگ کفن میں بھی منافع خوری سے باز نہیں آتے اور قبروں پر بھی پلازے بنا دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی عشق رسول کے دعوے دار بھی ہیں۔ مجنوں ایک عورت کے عشق میں لیلیٰ کی گلی کے کتے کو بھی گلے لگا لیتا تھا لیکن ہم عشق حقیقی میں بھی اپنے رسولؐ کی ایک بھی بات جی ہاں ایک بھی حکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ جیسے سانحات کا تدارک کیسے ؟
ہم دوسرے کی طرف مسکرا کر دیکھنے کے روادار بھی نہیں ہیں لہٰذا آج مسلمان خود کو عیسائیوں اور ہندوئوں کے دیس میں محفوظ سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ملک میں ڈرے رہتے ہیں۔ ہم عورت اور بچوں کو مسجدوں میں بھجواتے ہوئے بھی خوف زدہ رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی عشق رسول کے دعوے دار بھی ہیں اور ہمیں ذرا سی شرم بھی نہیں آتی۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یاد رکھیں، اسلام کو عاشقوں کی ضرورت نہیں، امتیوں کی ضرورت ہے، آپ صرف اور صرف امتی بن جائیں عشق خود بخود آپ پر عاشق ہوجائے گا۔

Back to top button