کیا عمران نے اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کا اچار ڈالنا ہے؟

عمران خان نے حالیہ ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کی جو چھ نشستیں جیتیں، انہیں وہ نہ تو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی عملی طور پر قومی اسمبلی میں ان سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی جماعت نے استعفے دینے کے بعد پارلیمنٹ میں واپس نہ جانے کا اعلان کر دیا۔ لہذا یہ سوال کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اگر خان صاحب نے اسمبلی میں واپس نہیں جانا تو ان 6 سیٹوں پر الیکشن کیوں لڑا اور کیا اب جیتنے کے بعد ان کا اچار ڈالنا ہے؟
یاد رہے کہ انتخابی قوانین کے مطابق مختلف سیٹوں پر انتخاب جیتنے والا کوئی بھی شخص صرف ایک ہی سیٹ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ اس لیے کئی نشستوں پر منتخب ہونے والے شخص کو اپنے انتخاب کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر ایک کے علاوہ باقی تمام نشستوں سے دستبردار ہونا ہوتا ہے۔ عمران خان پہلے ہی میانوالی سے رکن اسمبلی منتخب ہو کر حلف اٹھا چکے ہیں۔ ابھی ان کا قومی اسمبلی سے دیا جانے والا استعفیٰ بھی منظور نہیں ہوا، اس لیے انہیں عملاً قومی اسمبلی کی اپنی حال ہی میں جیتی ہوئی تمام 6 نشستوں سے دستبردار ہونا ہو گا۔ ان کی یہ کامیابی ان کے لیے پارلیمانی سیاست میں بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی۔ البتہ وہ اسے اپنی مقبولیت کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
یادرہے کہ عمران خان نے 16 اکتوبر کے ضمنی الیکشن میں بیک وقت چھ نشستیں جیت کر اپنا ہی گزشتہ ریکارڈ توڑا تھا۔ 2018ء کے عام انتخابات میں وہ بیک وقت پانچ نشستوں پر جیت کر پاکستان میں ایک ہی الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں جتنے والے رکن پارلیمنٹ بنے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حال ہی میں عمران خان نے پارلیمنٹ میں نہ جانے کا اشارہ دیا ہے۔اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ چھ کی چھ نشستیں دوبارہ خالی ہو جائیں گی اور الیکشن کمیشن کو ان سیٹوں پر دوبارہ انتخابات کرانا ہوں گے ۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا عمران خان پھر ان نشستوں پر الیکشن لڑیں گے یا کوئی اور حکمت عملی اختیار کریں گے۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ عمران نے قومی اسمبلی کی 7 نشستوں سے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس سوال کے جواب میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک سے زائد نشستوں پر عام طور پر پارٹی سربراہان اور وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کے علاوہ اہم اور بااثر سیاست دانوں کو الیکشن لڑایا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے غالباًان کا یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں پارٹی سربراہ ایک سیٹ سے الیکشن ہار کر پارٹی کی انتخابی جیت کی صورت میں کہیں خود ہی آئندہ حکومت سے باہر نہ ہو جائے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو قومی سطح کا لیڈر ظاہر کرنے کے لیے بھی مختلف صوبوں سے الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔
بعض اوقات کئی سیاست دان بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے اس لیے الیکشن لڑتے ہیں کہ پارٹی کی انتخابی فتح کے بعد اگر انہیں صوبائی وزارت اعلیٰ کا چانس ملے تو وہ قانوناً یہ عہدہ قبول کر سکتے ہوں، ورنہ وہ اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر قومی اسمبلی میں چلے جاتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے نزدیک عمران خان کی حالیہ ضمنی الیکشن میں بیک وقت چھ حلقوں سے جیت بالکل ایک انوکھا واقعہ ہے۔ ان کے بقول عمران نے قومی پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور یوں وہ فی الحال تو وزیر اعظم بن نہیں سکتے، تاہم عوامی سیاست کے لیے انہوں نے پھر بھی متعدد سیٹوں پر الیکشن لڑنا مناسب سمجھا۔
پاکستان الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے بتایا کہ پاکستان کا آئین کسی بھی شخص کے ایک سے زائد نشستوں سے الیکشن لڑنے پر کوئی پابندی نہیں لگاتا۔ لیکن ان کے بقول ایک ہی نشست پر بار بار الیکشن کرانے سے قوم کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک جو شخص الیکشن لڑ کر اپنی سیٹ سے دستبردار ہو جاتا ہے یا پھر حلف اٹھانے سے گریز کرتا ہے، وہ دراصل اس حلقے کے ان ووٹروں کا جمہوری حق ادا نہیں کرتا، جنہوں نے اس پر اعتماد کا اظہار کر کے اسے منتخب کیا ہوتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں کنور محمد دلشاد کا کہنا تھا کہ بعض ممالک میں کسی زائد نشست کو خالی کرنے والے سیاست دان کو الیکشن کا سرکاری خرچہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
