کیا فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ برقرار ہے یا نہیں؟

تحریک لبیک اور حکومت کے مابین معاہدے کا اعلان کرنے والے مفتی منیب الرحمان نے دو روز میں فرانسیسی سفیر کی بیدخلی کے مطالبے پر اپنا موقف دو مرتبہ تبدیل کیا ہے جس کے بعد یہ کنفیوژن گہری ہو گئی ہے کہ آیا تحریک لبیک بیدخلی کے مطالبے سے واقعی دستبردار ہو چکی ہے یا نہیں؟
تین نومبر کے روز مفتی منیب الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک لبیک کی جانب سے فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بیدخل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے شیخ رشید اور فواد چوہدری نے خوامخواہ کی کنفیوژن پیدا کی۔ مفتی منیب کے موقف پر ردعمل دیتے ہوئے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی نے ان کے ساتھ ملاقات کے دوران اپنا یہ مطالبہ دہرایا تھا کہ پاکستان میں فرانس کے سفیر کی بیدخلی تک تحریک لبیک لانگ مارچ نہیں روکے گی۔ تاہم 4 نومبر کو ایک انٹرویو میں مفتی منیب الرحمان نے اپنے سابقہ موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے کہہ دیا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے کے مطالبے کے حوالے سے ہم اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے بلکہ میڈیا اس حوالے سے ہماری باتوں کی غلط تشریح کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے کا معاہدہ حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا جس کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر تصادم ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ پارلیمان کے حوالے کر دیا گیا تھا اور حکومت نے اس مطالبے کو تسلیم کیا ہے۔ مفتی منیب کے بدلتے ہوئے موقف پر اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا دال میں کچھ کالا ہے اور کیا مفتی صاحب تحریک لبیک کے دبا پر اپنا موقف بدل رہے ہیں یا کوئی اور بات ہے۔ یاد رہے کہ مفتی منیب نے جس پریس کانفرنس میں حکومت کے ساتھ معاہدے کا اعلان کیا تھا اس میں تحریک لبیک کا کوئی مرکزی رہنما شریک اس پریس کانفرنس سے پہلے بھی یہی خیال کیا جارہا تھا کہ حکومت اور تحریک لبیک کے مابین تمام معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور ڈیڈ لاک صرف فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے معاملے پر تھا۔ بعد ازاں جب مفتی منیب نے یہ بیان داغا کے تحریک لبیک نے فرانس کے سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ نہیں کیا تو یہ خیال کیا گیا کہ شاید لبیک کی قیادت نے مذاکرات میں حکومت کے اس موقف کو تسلیم کر لیا ہے جس کے عوض نہ صرف تحریک لبیک سے پابندی اٹھانے کا وعدہ کیا گیا ہے بلکہ سعد رضوی کی رہائی کا وعدہ بھی کر لیا گیا ہے۔ تاہم اب ایک انٹرویو میں مفتی منیب نے موقف اختیار کیا ہے کہ تحریک لبیک فرانس کے سفیر کی بیدخلی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئی۔
اپنے انٹرویو میں رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملکی مفاد اور امن و استحکام کی خاطر حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان کردار ادا کرنے کی پیشکش قبول کی تھی۔ مفتی منیب نے بتایا کہ انہیں حکومت اور لبیک کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ مذاکرات سے قبل حکومتی وزرا دھمکیاں دے رہے تھے کہ طاقت کا استعمال کیا جائے گا اور لبیک کا خاتمہ کر دیں گے۔
76 سالہ مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا وہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ساتھ کسی صورت بیٹھنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے معاملات بگاڑے، وعدوں سے انحراف کیا، ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ ’آرمی چیف کا رویہ مثبت تھا اور وہ مسئلے کو احسن طریقے سے حل کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ میں نے آرمی چیف سے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ جب لال مسجد کا آپریشن ہو رہا تھا تو رات 12 بجے تک تمام لبرلز حکومت کو ملامت کر رہے تھے کہ حکومت کی رٹ کہاں ہے، حکومت طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہی، مگر جب آپریشن ہوا تو صبح یہی سب حکومت مخالف صف میں کھڑے تھے۔
یاد رہے کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کا اعلان کرتے وقت مفتی منیب الرحمٰن نے زور دے کر کہا تھا کہ یہ معاہدہ ایسا نہیں ہے کہ دوپہر میں معاہدے طے پائے اور شام کو منسوخ کردیا جائے۔ انکا۔کہنا تھا کہ اس معاہدے کے دونوں فریقین کو اپنے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا۔ تاہم اب مفتی منیب خود فرانس کے سفیر کی بیدخلی کے معاملے پر بار بار اپنا موقف تبدیل کرتے نظر آتے ہیں جس سے کنفیوژن میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پنجاب کابینہ نے کالعدم تحریک لبیک پر عائد پابندی ہٹانے کی منظوری دے دی ہے اور 18 وزرا کی اکثریت نے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کی حمایت کی ہے۔ قبل ازیں وفاقی حکومت نے کالعدم تنظیم سے پابندی ہٹانے کے حوالے سے پنجاب حکومت سے رائے طلب کی تھی۔ وزیراعلی پنجاب سیکریٹریٹ نے سمری کابینہ کمیٹی برائے قانون کو بھیجی تھی۔ بعدازاں راجہ بشارت کی سربراہی میں اجلاس کے دوران پنجاب کابینہ کو تھرو سرکولیشن سمری پر منظوری لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پنجاب کی تحریری سفارش موصول ہونے کے بعد اب وفاقی حکومت اگلا قدم اٹھائے گی۔
