کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ کپتان کے سر سے ہاتھ اٹھا رہی ہے؟

بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ہر محاذ پر ناکام ہوتی اور ہزیمت اٹھاتی ہوئی کپتان کی حکومت اب بتدریج فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے بھی محروم ہوتی چلی جارہی ہے اور اگر اس سینیٹ الیکشن میں حکومت کو کوئی بڑا اپ سیٹ مل گیا تو اس کی اقتدار سے جلد رخصتی کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کپتان کے امیدوار حفیظ شیخ کو اسلام آباد سے ہرا دیتے ہیں تو پھر حکومت کو گھر بھجوانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ملٹری اسٹیبلمشنٹ کی جانب سے اپوزیشن خو سیاسی معاملات میں نیوٹرل رہنے کی یقین دھانیوں کے بعد ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں بدعنوانی اور سپریم کورٹ میں اوپن بیلٹنگ سےمتعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حیران کن اور دو ٹوک موقف کو دیکھتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار یہ توقع کررہے ہیں کہ اگر واقعی پاکستانی سیاست کو گھمانے والے اہم ترین ملکی ادارے اپنی حدود میں رہے تو پھر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کو آنے سے کوئی نہیں روک پائے گا جس کے نتیجے میں تحریک انصاف حکومت کا بوریا بستر جلد گول ہوجائے گا۔
حالیہ چند ہفتوں کے دوران پے در پے بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے ملکی سیاست نئی کروٹ لیتی نظر آتی ہے۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کی وجہ سے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ تو بیک فٹ جا چکی ہے لیکن ابھی تک انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے اور شاید اسی لیے موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی تبدیلی کے حوالے سے بھی افواہیں گردش میں ہیں جنہیں کہ عمران خان کے نہایت قریب سمجھا جاتا ہے۔۔ افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پہلے ہی کئی مرتبہ اپنے ترجمان کے ذریعے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے اور سیاسی معاملات سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے اور اب ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی ناکام ہوتی حکومت کے ساتھ مزید کھڑا رہنے سے گریز کی پالیسی اپنا رہی ہے۔
حالیہ دنوں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم کے امیدواروں کی جیت اور حکومتی امیدواروں کی شکست نے کپتان کی نیندیں حرام کردی ہیں بالخصوص حکومتی دھاندلی کے خلاف جس طرح اپوزیشن نے ٹف ٹائم دیا ہے اس سے نادیدہ قوتیں بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہوچکی ہیں۔ دوسری طرف پنجاب سے لے لیکر خیبر پختونخوا تک تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ رہی ہے اور حکمران جماعت کا شیرازہ بکھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
ادھر سینیٹ انتخابات سر پر آگئے ہیں مگر کپتان کا سپریم کورٹ کے ذریعے اوپن بیلٹنگ کروانےکا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا کیونکہ حیران کن طور پر اپوزیشن جماعوں ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے بھی کھل کر اس کی مخالفت کردی ہے۔ ان حالات میں عمران خان کو یہ فکر ستائے جا رہی ہے کہ اگر سینٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے طریقہ کار پر نہ ہو سکا تو انکی جماعت کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
یہی نہیں جوڑ توڑ کی سیاست کے بے تاج بادشاہ آصف زرداری نے سینیٹ انتخابات کی اہم ترین اسلام آباد کی سیٹ پر آئی ایم ایف کے کف گیر حفیظ شیخ کے مقابل یوسف رضا گیلانی کو کھڑا کر کے ایک شاطرانہ چال چلی ہے جس نے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے اور تمام حکومتی وزراء حفیظ شیخ کو الیکشن جتوانے کے لئے اپنے وزیر اعظم کی قیادت میں میں سرکرداں ہیں۔ اسوقت صورتحال۔یہنہے کہ سینیٹ کا انتخاب ایک طرف اور اسلام آباد کی جنرل نشست کا انتخاب دوسری طرف۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بظاہر سینٹ کے الیکشن میں انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت شاید پہلی مرتبہ سیاست کی چکی پر کوشش کے دانے پیس رہی ہے۔ لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ تاحال کسی حکومتی یا اپوزیشن رکن کو کسی نامعلوم نمبر سے فرشتوں کی کال موصول نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ گیلانی نہ صرف شمالی پنجاب بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی اراکین اسمبلی سے رابطے میں ہیں اور پُراُمید ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس صورتحال میں وہ خاموش اکثریت کے لیے نرم گوشہ پیدا کر لیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی سینیٹر بن گئے تو پہلی اسٹیج پر چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔ دوسری اسٹیج پر قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی اور تیسری سٹیج پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے چند لوگ اپوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے لیے تب ہی راضی ہوں گے جب پی پی پی اور ن لیگ ان سے اگلے الیکشن کے لیے انتخابی ٹکٹس کا وعدہ کریں گی۔ ذرائع کے مطابق نون لیگ کی ایک اہم شخصیت نے تجویز دی ہے کہ اوپن ووٹ سسٹم کی صورت میں اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے جرم میں ڈی سیٹ کیے جانے والون کے خلاف پی ڈی ایم کوئی امیدوار کھڑا نہ کرے۔ پیپلز پارٹی اس صورتحال میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے اسی لیے نہ صرف یوسف رضا گیلانی کو یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے بلکہ چیئرمین سینیٹ عدم اعتماد کی صورت میں پی پی پی اور ن لیگ کے مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔سابقہ تجربے کے برعکس یوسف رضا گیلانی اس بار مریم نواز کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ ضمنی الیکشن کے نتائج بڑے واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اب عمران خان کی حکومت تیزی سے عوامی نفرت کا شکار ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں اداروں کا تنازعات سے دور رہنا خود اداروں کی اپنی ساکھ بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ لہذا اگر تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں طاقتور حلقے نیوٹرل رہے تو سیاسی تبدیلی آنے میں دیر نہیں لگے گی۔
