کیا ق لیگ کو بھی کابینہ سے علیحدگی کا اشارہ مل گیا ہے؟

متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی، اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے بعد اب مسلم لیگ قاف کی قیادت نے بھی کھل کر کپتان حکومت سے اظہار ناراضی کردیا ہے جس کے بعد کپتان کے اقتدار کی کشتی گہرے بھنور میں پھنستی نظر آرہی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان اپنی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ اور قاف لیگ کے 19 فیصلہ کن ووٹوں کی وجہ سے وفاقی حکومت بنا پائے تھے جس کے باوجود یہ صرف پانچ ووٹوں کے فرق سے قومی اسمبلی کی اکثریتی جماعت بنی ہوئی ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو ایم کیوایم کے 7، بی این پی کے 4، قاف لیگ کے 5 اور جی ڈی اے کے کے تین ممبران قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔اگر یہ چار اتحادی جماعتیں کپتان کا ساتھ چھوڑ دیں تو پی ٹی آئی حکومت دھڑام سے نیچے گر جائے گی۔
وزیراعظم کے لیے بری خبر یہ ہے کہ بی این پی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کی ناراضی کے بعد اب مسلم لیگ ق نے بھی وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کی طرح ق لیگ کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ مستعفی تو نہیں ہوئے لیکن شدید ناراضگی کے اظہار کیلئےانھوں نے 14 جنوری کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ طارق بشیر چیمہ کی کابینہ کے اجلاس میں عدم شرکت نے حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں اور اب وفاقی حکومت نے نے چوہدری برادران کو منانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا قاف لیگ خود سے حکومت سے ناراض ہوگئی ہے یا اسے بھی ایم کیو ایم کی طرح ناراض ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت کے ایما پر وفاقی وزیر اسد عمر نے خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپس لانے کے لئے مذاکرات کئے تھے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔
بدلتے ہوئے حالات میں ق لیگ نے حکومتی روئیے کیخلاف شکایات کا کھل کر اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما و وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہےکہ وفاقی حکومت نے آج تک کسی بھی معاملے پر ہم سے مشاورت نہیں کی۔ ڈیرہ غازی خان سے لے کر میانوالی تک ترقیاتی فنڈز دیئے گئے مگر ہمارے نمائندوں کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ فنڈز ختم ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی تھی کہ ہمیں کابینہ سے نکلنے دیں، کیونکہ لوگ اب ہم سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا ہم نے کیا کارکردگی دکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کو محفوظ راستہ دینے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے مگر ہم سے کسی بھی معاملے پر مشاورت نہیں کی جا رہی۔ یاد رہے کہ چوہدری برادران عمران خان سے کافی عرصے سے نالاں ہیں جس کی بنیادی وجہ چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ تسلیم نہ کیا جانا ہے۔
مسلم لیگ (ق) کے انفارمیشن سیکریٹری کامل علی آغا نے طارق بشیر چیمہ کی کابینہ اجلاس سے غیر حاضری کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے کچھ حقیقی، قانونی اور آئینی مطالبات ہیں جو وزیراعظم عمران خان نظر انداز کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مونس الٰہی نے 2 ہفتوں قبل وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور انہیں اپنی جماعت کی شکایات سے آگاہ کیا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باجود ہمارے مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔ تاہم انھوں نے بھی ایم کیوایم والا مؤقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ (ق) اگر کابینہ چھوڑ بھی دے تو حکومت سے اپنی راہیں جدا نہیں کرے گی اور مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے بیساکھیوں کے سہارے قائم اپنی لڑکھڑاتی حکومت کو قائم رکھنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئیے ہیں۔ وزیر اعظم نے یکے بعد دیگرے اتحادی جماعتوں کی ناراضگی کے بعد اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔ حکومتی کمیٹی کو تمام اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو سونپی گئی ہے جبکہ ق لیگ کی شکایات کے ازالے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مسلم لیگ ق کے ساتھ رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق عثمان بزدار جلد مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے ملاقات کر کے ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں گے۔ تاہم واقفان حال کا کہنا ہے کہ آرمی ترمیمی ایکٹ پاس ہونے کے دو ہفتوں کے اندر ہی باری باری چاروں اہم حکومتی اتحادی جماعتوں کا وزیراعظم سے ناراض ہونا کوئی اتفاقیہ نہیں ہے بلکہ ایک باقاعدہ منصوبے کا حصہ لگتا ہے جس کا مقصد کپتان کو پویلین کا راستہ دکھانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button